آبائی امریکیوں کی ثقافت کو متعارف کرانے والے ایوارڈ یافتہ کھانے

“سُوکس شیف” کے نام سے مشہور شان شرمن نے ایک  ایوارڈ یافتہ ریستوران “اوامنی” شروع کیا۔ اُن کے خیال میں آبائی امریکیوں کے کھانے دنیا بھر کے لوگوں کو اُن کی تاریخ اور ثقافتوں سے روشناس کرا سکتے ہیں۔

شرمن نے شیئر امریکہ کو بتایا کہ “میں جاپانی، شمالی افریقی اور ہر طرح کے یورپی کھانوں کی ترکیبیں تو جانتا تھا مگر مجھے اپنے ورثے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ اس [صورت حال] کی وجہ سے مجھ میں سمجھنے اور دوبارہ جڑنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ میرے لکوٹا [قبیلے کے] آباؤ اجداد کیا کھاتے تھے، کھانے کے لیے کیا تلاش کرتے تھے اور گھر کیا لے کر آتے تھے۔”

شرمن نے نوسال تک آبائی امریکیوں کے دور کے کھانوں پر کام کیا اور کھانے بنانے کی وہ ترکیبیں تلاش کیں جن میں

صرف سترھویں صدی میں یورپی آباد کاروں کی آمد سے پہلے امریکہ میں پائے جانے والے اجزاء استعمال کیے جاتے تھے۔ اس کا مقصد امریکہ میں لوگوں کو اِن کھانوں سے متعارف کرانا تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے منیاپولس میں ایک مستقل ریستوران کھولا۔

آبائی امریکیوں کے تین کھانوں کی تصویر (© Dana Thompson)
اوامنی ریستوران کے تین پکوان (بائیں سے دائیں): ایلک کے گوشت سے بنائی گئی ڈِش، پوبلانو مرچیں، مکئی کا ٹاکو (© Dana Thompson)

ایک تحریک کی شروعات

شرمن پائن رِج، شمالی ڈکوٹا میں پیدا ہوئے اور اُن کا تعلق اوگلالا لاکوٹا قبیلہ سے ہے۔ یہ قبیلہ عظیم سُوکس قوم کا حصہ ہے اور وہ اسی قوم کے لیے مختص ایک علاقے میں پلے بڑھے۔ انہوں نے 13 سال کی عمر میں ایک کچن میں کام شروع کیا اور جوان ہونے تک یہ کام جاری رکھا۔ 27 برس کی عمر میں وہ ترقی کرتے کرتے ایگزیکٹیو شیف بن گئے۔

2014 میں میکسیکو کے ایک سفر نے شرمن کو اُن اجزاء پر توجہ مرکوز کرکے امریکہ میں آبائی امریکیوں کے کھانوں کو تلاش کرنے  کی راہ دکھائی جو وہ یورپین لوگوں کی آمد سے پہلے اپنے کھانوں میں استعمال کیا کرتے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ “اس نے مجھے امریکی تاریخ کو سمجھنے پر مجبور کیا۔  انہوں نے کہا۔ “مجھے اس کی وسعت کا اس وقت تک احساس نہیں ہوا جب تک میں نے اسے تلاش کرنا شروع نہیں کیا۔”

شرمن نے 2017 میں “سُوکس شیف کا آبائی امریکیوں کا کچن” کے عنوان سے کھانے پکانے کی ایک کتاب شائع کی۔ شرمن کہتے ہیں کہ میں چاہتا تھا کہ جو تصور میں نے پیش کیا ہے اس “تصور کے ثبوت” کے طور پر میں ایک ریستوران کھولوں۔ اس کا نتجیہ ‘اوامنی’ ریستوران کی شکل میں سامنے آیا۔ اوامنی کا مطلب ‘گرتے، بل کھانے ہوئے پانی کی جگہ’ ہے۔ انہوں نے یہ ریستوران جولائی 2021 میں کھولا اور یہ بہت مقبول ہوا۔

آبائی امریکیوں کے پکوان کیا ہیں؟

شرمن ان اجزاء کے بغیر کھانے بناتے ہیں جو یورپین لوگوں نے شمالی امریکہ میں متعارف کرائے تھے۔ ان کے کھانوں  میں گھی دودھ وغیرہ، پراسیس شدہ چینی یا سور کا گوشت نہیں استعمال کیا جاتا۔ اِس کی بجائے یہ کھانے نیلی مکئی، میٹھے آلووں اور بائسن [جنگلی بھینسے] کے گوشت جیسی مقامی اشیاء سے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ سینکڑوں برس پرانے کھانوں کی طرح دکھائی دینے والے کھانوں کو نئے سرے سے تخلیق نہیں کر رہے بلکہ وہ “آبائی کمیونٹیوں اور [قبائلی] اقوام کے لیے آگے بڑھنے کا ایک نیا طریقہ نکال رہے ہیں جس سے ااِن میں یہ احساس پیدا ہو سکے کہ جدید دور میں آبائی لوگوں کے کھانوں کو کیسے ہونا چاہیے۔”

آبائی امریکیوں کے تین کھانوں کی تصویر (© Dana Thompson)
اوامنی کے پکوان (بائیں سے دائیں): بائسن کا گوشت، بائیسن کا گوشت ٹیوسینٹ بسکٹوں کے ساتھ، اوامنی کی وینسن ٹاٹار۔ (پہلی اور تیسری تصویر:© Dana Thompson درمیانی تصویر:© Heidi Ehalt) # # #

گزشتہ برس شرمن نے بہترین ریستوران کا ‘جیمز بیئرڈ ایوارڈ’ جیتا جس کا شمار امریکی شیفس کو دیئے جانے والے اعلٰی ترین ایوارڈوں میں ہوتا ہے۔ انہیں یہ ایوارڈ ‘اوامنی’ ریستوران کے اُن کے کام پر دیا گیا۔ اس سے قبل وہ دو جیمز بیئرڈ ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔  اِن میں سے ایک اُن کی کھانے پکانے کی کتاب پر اور دوسرا اس صنعت میں اُن کی لیڈر شپ پر دیا گیا۔ اُن کے لیڈر شپ کے کاموں میں ‘شمالی امریکہ کے آبائی لوگوں کے کھانوں کے نظام’ [این اے ٹی آئی ایف ایس] نامی غیرسرکاری تنظیم کا قیام بھی شامل ہے۔

این اے ٹی آئی ایف ایس کے ذریعے شرمن اور ڈانا تھامپسن کی زیرقیادت اُن کی ٹیم آبائی امریکی نوجوانوں کو آگاہی دینے اور ملک میں پھیلی آبائی امریکیوں کی کمیونٹیوں میں شفایابی کو متحرک کرنے کی امید لیے آبائی پکوانوں سے جڑنے کا پرچار کرتی ہے۔

شرمن کہتے ہیں کہ اُن کے ذہن میں “آنے والی نسلوں کے لیے ایک معاون نظام ترتیب دینے کا ایک وژن تھا۔ اس کا مقصد آبائی علم کے ٹھکانوں کو چلانے میں مدد کرنا اور آبائی پکوانوں تک رسائی کی راہیں نکالنے پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ [آبائی] اقوام سے متعلق تعلیم کو ترقی دینے پر توجہ مرکوز کرنا بھی ہے۔”

شرمن اور تھامپسن منیاپولس کے علاقوں میں بنائی گئیں آبائی امریکیوں کے کھانوں کی تجربہ گاہوں کی طرز پر

الاسکا، مونٹانا اور جنوبی ڈکوٹا کی ریاستوں میں بھی باہمی شراکت داریوں کی بنیاد پر نئی تجربہ گاہیں بنائیں گے۔

شرمن اور تھامپسن کو امید ہے کہ وہ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا میں ہرجگہ ریستورانوں کے ایک ایسے نمونے کی حوصلہ افزائی کریں گے جس سے وہ شیفس اور گاہکوں کو دکھا سکیں کہ مقامی کھانے بنانے کے طریقے اب بھی اُن کے ملکوں میں موجود ہیں۔

امریکہ میں کئی اور ایسے ریستوران بھی کھل گئے ہیں جن کی نظر روائتی مقامی کھانوں کو دوبارہ عام کرنے پر ہے۔

اِن کی دو مثالیں مقامی اجزاء اور روائتی قبائلی ترکیبیں استعمال کرنے والے برکلے، کیلی فورنیا کا کیفے اوہلون، اور شینڈلر، ایریزونا کا کائی ریستوران ہیں۔

شرمن کہتے ہیں کہ “اِس کام کا تعلق میری ذات یا اپنا مستقبل بنانے سے کبھی بھی نہیں رہا۔ بلکہ اس کا تعلق ایک ایسا  کام کرنے سے تھا جو پہلے بھی پہاں کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی نہ صرف یہاں پر ضرورت تھی بلکہ اس کی ہر جگہ پر ضرورت ہے۔”