آرٹیمس I مشن: چاند کے مستقبل کے مشنوں کی تیاری

ناسا نے  16 نومبر کو آرٹیمس I مشن کا آغاز کیا۔ چاند اور مریخ پر انسانی تحقیق میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بھیجے جانے والے مشنوں کے سلسلے کا یہ پہلا مشن ہے۔

 چاند کے آرٹیمس راکٹ کی روانگی (© John Raoux/AP Images)
16 نومبر کو ناسا کا چاند کا نیا راکٹ کیپ کینیورل، فلوریڈا کے کینیڈی خلائی مرکز سے روانہ ہوا۔ (© John Raoux/AP Images)

بغیر عملے کے 25.5 دن کے مشن پر ‘ اورین’ نامی خلائی جہاز کو 2 ملین کلومیٹر سے زیادہ کے سفر پر روانہ کیا گیا ہے۔ انسانوں کے لیے بنائے گئے کسی بھی خلائی جہاز نے اس سے پہلے اتنا طویل سفر نہیں کیا۔ آرٹیمس I مشن میں اورین کے نظاموں کو آزمایا جائے گا جس کے بعد ارٹیمس II مشن کے تحت خلائی جہاز خلابازوں کو چاند پر لے کر جائے گا۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے امریکہ کے مشرقی معیاری وقت کے مطابق صبح 1 بج کر 47 منٹ پر راکٹ کی روانگی کے بعد کہا کہ “بغیر عملے کے یہ آزمائشی خلائی پرواز اورین کو خلا میں بہت دور اندر کی سختیوں کی انتہاؤں تک لے جائے گی جس سے ہمیں چاند اور بالآخر مریخ پر انسانی تحقیق کے لیے تیار ہونے میں مدد ملے گی۔”

آرٹیمس پروگرام کا مقصد بین الاقوامی اور تجارتی شراکت داروں کے ساتھ  مل کر کام کرتے ہوئے چاند پر پہلی طویل مدتی موجودگی قائم کرنا اور خلابازوں کو مریخ پر بھیجنا ہے۔

آرٹیمس پروگرام میں آرٹیمس سمجھوتوں کے اصولوں کی پابندی کی جاتی ہے۔ یہ سمجھوتے رہنما اصولوں کے ایک ایسے سلسلے پر مشتمل ہیں جو مستقبل میں خلائی تحقیق  کے پرامن، پائیدار اور سب کے لیے فائدہ مند ہونے کو یقینی بناتے ہیں۔ آرٹیمس سمجھوتوں پر 20 سے زائد ممالک دستخط کر چکے ہیں۔

اورین ناسا کے دنیا کے طاقت ور ترین خلائی لانچ سسٹم راکٹ کے زور پر زمین سے روانہ ہوا۔ یورپی خلائی ایجنسی نے اورین کو زمین کے مدار سے چاند تک لے جانے کے لیے ایک سروس ماڈیول فراہم کیا ہے۔

اورین چاند کے قریب اور چاند سے بہت دور آگے تک پرواز کرے گا اور 11 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمینی فضا میں دوبارہ داخل ہونے کے بعد 11 دسمبر کو باہا، کیلی فورنیا کے ساحل سے دور سمندری پانیوں میں اترے گا۔

وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے 16 نومبر کو کہا کہ “آرٹیمس پروگرام کے ذریعے امریکہ تاریخ کا سب سے وسیع اور متنوع ترین انسانوں کا تحقیق کا بین الاقوامی خلائی اتحاد تشکیل دے رہا ہے۔ ہم مستقبل کے مشنوں پر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنا جاری رکھنے کے منتظر ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دے گا۔