آرٹ یا ایپس کے ذریعے تشدد کا خاتمہ

محکمہ خارجہ کا 'کمیونٹی لیڈر' کا اعزاز پانے والے دس نوجوانوں نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا۔ 2017 کے ابھرتے ہوئے ان نوجوان لیڈروں میں سے چند ایک نے اپنے تجربات کے بارے میں شئیر امریکہ سے گفتگو کی۔

راستہ بدلنا

Raj Kumar (State Dept./Kelsey Brannan)
راج کمار (State Dept./Kelsey Brannan)

پاکستان کے راج کمار نے سوچ رکھا تھا کہ وہ اسلام آباد میں کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد بزنس مین بنیں گے۔ مگر اِن کی سوچ میں تبدیلی آئی اور آج  وہ آرٹس اور سپورٹس کے ذریعے امن کو فروغ  دینے کے کاموں میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سکول میں فرقہ وارانہ تشدد کا براہ راست مشاہدہ کرنے کے بعد "میں نے سوچا کہ مجھے اپنی توجہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔"

جو طریقہ انہوں نے اختیار کیا وہ "آراٹ برائے امن" کا ایک پروگرام تھا جس کے تحت  مختلف نسلی اور مذہبی پس منظر کے حامل 500 نوجوان اور دوسری کمیونٹیوں کے لوگ ڈرائنگ، پینٹنگ، آرٹ اور موسیقی کے ذریعے امن کا پیغام عام کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔

24 سالہ راج کمار کہتے ہیں، "ہم والدین کو ایک پیغام  دینا چاہتے تھے کہ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو ہم، رنگ، نسل یا مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے کے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتتے۔ جب ہم بڑے ہوتے ہیں تو یہ سماج ہے جو ہمیں اپنے  سانچے میں ڈھال لیتا ہے۔"

Children sitting on rug with drawings and art supplies (Rimsha Ali Shah/DIYA — Art for Peace)
راج کمار کے پروگرام کے تحت بچے اپنے تصّور کے مطابق امن کی منظر کشی کر رہے ہیں۔ (Rimsha Ali Shah/DIYA — Art for Peace)

نوجوانوں کے فعال ہونے پر زور

Amel Mohandi (State Dept./Kelsey Brannan)
عمل موہندی (State Dept./Kelsey Brannan)

جب الجزائر کی عمل موہندی نے کینسر کے مرض میں مبتلا بچوں کے لیے ایک رضاکار گروپ بنایا تو اُس وقت اُن کی عمر 18 سال تھی۔ اِس کے بعد سے وہ نوجوان لوگوں کے مابین رابطے پیدا کرنے میں مدد کے لیے نئے نئے طریقے تشکیل دیتی چلی آ رہی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں آن لائن  پلیٹ فارموں کا طریقہ اختیار کیا ہے۔

موہندی نے 2014ء میں ویب کی بنیاد پر ایک ٹیلی ویژن پروگرام، 'وِژن ٹی وی' تشکیل دیا جس میں نوجوان لوگوں پر سماجی اور سیاسی مسائل میں عملی دلچسپی لینے پر زور دیا جاتا ہے۔ 2017ء  میں انہوں نے ' نوجوانوں کے مابین روابط' کا آغاز کیا۔ یہ ایک آن لائن فورم ہے جس میں مختلف پس منظر کے حامل نوجوانوں کی ایک دوسرے سے سیکھنے کی حوصلہ افزائی کی  جاتی ہے۔

آج کل 22 سالہ موہندی 'نیومیڈیا ٹیلی ویژن' میں بطور صحافی کام کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کا پروگرام "پناہ گزینوں، بچوں، عورتوں اور نوجوانوں سے متعلق حساس اور مختلف فلاحی مقاصد جیسے مسائل" کے بارے میں الجزائر کے نوجوانوں کے ساتھ بات کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

جرائم کا سامنا کرنا

Moisés Salazar Vila (State Dept./Kelsey Brannan)
موئیزیز سالازار وِلا (State Dept./Kelsey Brannan)

موئیزیز سالازار وِلا، پیرو کے صوبے کالاؤ میں پلے بڑھے جہاں جرائم کی بھرمار تھی۔ وہ خود بھی کئی بار ان جرائم کا نشانہ بنے۔ لیکن آج وہ منظم جرائم پیشہ لوگوں، انسانوں کی سمگلنگ اور گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے  ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔

25 سالہ سالازار ولا نے باضابطہ تربیت حاصل کیے بغیر، 'ریچ'  یعنی 'پہنچ'  نامی انسدادِ جرائم کا ایک ایپ تیار کیا جس میں زبان اور جغرافیائی رکاوٹوں کو ختم کیا گیا ہے۔

وہ 'ریچ' کو جرائم کے خلاف ایک ایسا سوشل نیٹ ورک قرار دیتے ہیں جو کئی زبانوں میں کام کرتا ہے اور جیو لوکیشن یعنی موقع واردات کی نشاندہی کر کے شہریوں اور پولیس، دونوں کو اطلاعات  فراہم کرتا ہے جس سے جرم کے خلاف جوابی کاروائی کرنے کا وقت کم ہو گیا ہے۔ اس ایپ کی بدولت انہوں نے مائیکرو سافٹ کا 2015ء  کا اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ اعزاز حاصل کیا۔

ابھرتے ہوئے لیڈر

ذیل میں دی گئی تصویر میں آپ سال 2017 کے ابھرتے ہوئے لیڈروں کے پورے گروپ کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان کا تعلق افغانستان، الجزائر، بیلجیئم، یروشلم، مالٹا، پاکستان، پیرو، سری لنکا، تاجکستان اور ویت نام سے ہے ــــــ اور یہ  سب اپنی اپنی کمیونٹیوں میں کوئی نہ کوئی تبدیلی لے کر آئے ہیں۔

People posing for camera (State Dept./Kelsey Brannan)
2017 کے 10 ابھرتے ہوئے نوجوان لیڈر۔ (State Dept./Kelsey Brannan)