ایک بڑی عمارت کے سامنے سفید دستانے پہنے کھڑا آدمی اپنے ہاتھ کو ہوا میں بلند کر رہا ہے۔ (© Andy Wong/AP Images)
مارچ میں ایک فوجی صحافیوں کو بیجنگ میں 'گریٹ ہال آف دا پیپل' کے بہت قریب جانے سے روک رہا ہے۔ (© Andy Wong/AP Images)

آج چین دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں صحافیوں کو جیلوں میں بند کرتا ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی دنیا بھر میں قید کیے گئے صحافیوں کا سالانہ سروے جاری کرتی ہے۔ 11 دسمبر کو جاری کیے جانے والے سروے کے مطابق دنیا میں تقریباْ 250 صحافی قید ہیں جن میں 48 چین میں قید ہیں۔ کسی ایک ملک میں 2019ء میں قید میں ڈالے جانے والے قیدیوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے، "(جیل میں ڈالے گئے صحافیوں) کی تعداد ایسے میں مسلسل بڑھتی چلی گئی جب صدر شی جن پھنگ نے ملک پر اپنی گرفت مضبوط کی اور میڈیا پر پہلے سے زیادہ پابندیاں مسلط کیں۔” رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) "پریس کو اپنے آہنی شکنجے میں لینا” جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی چنیدہ صحافیوں پر مقدمات چلانے کی خاطر اکثر "لڑنے یا ہلڑ بازی کے لیے اشتعال دلانے” جیسے مبہم مجرمانہ الزامات کا استعمال کرتی ہے۔ چین میں قانون کی آزاد حکمرانی نہیں ہے۔ مارچ میں امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کی جانے والی 2018ء کی انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق، "سی سی پی عدلیہ پر مسلسل غلبہ حاصل کیے ہوئے ہے اور اسے تمام ججوں کی تعیناتی پر اختیار حاصل ہے۔ بعض صورتوں میں تو یہ عدالتوں کو فیصلوں کا براہ راست حکم دیتی ہے۔”

صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی ایک آزاد، غیر منفعتی تنظیم ہے جو دنیا بھر میں آزادی صحافت کو فروغ دیتی ہے۔

ایک آدمی باتیں کرتے ہوئے ہاتھوں سے اشارے کر رہا ہے۔ (© Reuters)
2014ء کی اس تصویر میں نظر آنے والے چین کے فوٹو صحافی، لُو گوانگ کو سی سی پی نے 2018 میں گرفتار کیا۔ گرفتاری کے کئی ماہ بعد انہیں رہا کیا گیا۔ (© Reuters)

سروے کے مطابق انسانی حقوق اور بدعنوانی کے بعد سیاست صحافیوں کی ذمہ داریوں کا وہ شعبہ ہے جس میں کام کرتے ہوئے صحافیوں کے جیل جانے کے سب سے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، "شنجیانگ صوبے میں، جہاں مسلمان نسلی اقلیتوں کے دس لاکھ افراد کو حراستی کیمپوں میں بند کیا ہوا ہے، ایک کاروائی کے نتیجے میں درجنوں صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔”

صرف صحافی ہی نہیں

شنجیانگ میں مقامی اشاعتی اداروں میں کام کرنے والے اور "سیاست اور قانون اور آبادی کی صورت حال کے بارے میں لکھنے والے” ویغوروں اور دیگر مسلمان نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افرا د کو اسی طرح گرفتار کیا جا رہا ہے جیسے یلقون روزی جیسے دانشوروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یلقون روزی نے ویغور ثقافت پر 100 سے زائد نصابی کتب تیار کیں اور ان کی ایڈٹنگ کی۔

کمیونسٹ پارٹی نے ایسے صحافیوں کے چین میں مقیم خاندانوں کو بھی قید کر رکھا ہے جو بیرونی ممالک میں رہتے ہیں اور رپورٹنگ کرتے ہیں۔

سی جے پی کی رپورٹ آزادی اور جمہوریت کی حامی ایک غیر منفعتی تنظیم، فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے ایک ماہ بعد آئی ہے۔ فریڈم ہاؤس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین انٹرنیٹ کی آزادی کو پامال کرنے والا دنیا کا بدترین ملک ہے۔ دونوں رپورٹوں مین چین کی کمیونسٹ پارٹی کی جارحانہ سنسرشپ کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے نومبر میں صحافیوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کی سزا سے بریت کو ختم کرنے کے عالمی دن کے موقع پر کہا، "دنیا بھر میں صحافیوں کو بدعنوان حکومتوں کی زیادتیوں کو بے نقاب کرنے والی رپورٹنگ پر ہلاک کیا جاتا ہے، اُن پر تشدد کیا جاتا ہے، انہیں جیل میں ڈالا جاتا ہے، اور انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ امریکہ "صحافیوں اور میڈیا کے دیگر پیشہ ور افراد کو اُن کے کام کی وجہ سے دھمکانے، ڈرانے، اور اُن پر تشدد کرنے کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔”