امریکہ، کینیڈا اور جاپان کی سرکردگی میں ایک ایسی انقلابی کوشش کی جا رہی ہے جس میں ہوا اور سورج جیسے قابل تجدید وسائل کو ایٹمی توانائی سے جدید ترین ٹکنالوجیوں کے ذریعے باہم ملایا جاتا ہے۔

ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں "جوہری جدت طرازی: صاف توانائی کے مستقبل" کے موضوع پر ہونے والے وزارتی اجلاس میں امریکہ کے توانائی کے وزیر، رِک پیری نے کہا، "ایٹمی بجلی کا انتہائی اہم مگر ادھورے طور پر تسلیم کیے جانے والا کردار مستقل جدت طرازی سے دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔"

ایٹمی بجلی کی پیدا وار میں قابل تجدید وسائل کو شامل کرنے کی مہم میں ارجنٹینا، پولینڈ، رومانیہ، روس، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ پہلے ہی سے شامل ہو چکے ہیں اور کئی ایک دیگر ممالک نے اس ضمن میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

دنیا میں آلودگی سے پاک وسائل سے پیدا کی جانے والی بجلی کی مجموعی پیداوار کا ایک تہائی حصہ ایٹمی توانائی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں 1995 سے لے کر 2016 تک کے عرصے میں صاف توانائی کا 56 فیصد حصہ ایٹمی توانائی سے حاصل کیا گیا جوکاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی 14 ارب میٹرک ٹن کی مقدار کو فضا میں داخل ہونے سے روکنے کا سبب بنا۔

مختصر، زیادہ محفوظ  اور قابل استطاعت

اس پروگرام کے تحت ایسی ٹکنالوجیوں کو روشناس کرایا جاتا ہے جو پہلے سے ہی تیاری کے مراحل میں ہیں۔ اِن میں مندرجہ ذیل ٹکنالوجیاں شامل ہیں:

  • ری ایکٹروں کے ایسے جدید ترین ڈیزائن جو حجم کے لحاظ سے چھوٹے اور زیادہ محفوظ ہیں۔ ہنگامی حالات میں کولنگ یعنی ٹھنڈا کرنے کا غیرمتحرک نظام انسانی مداخلت یا توانائی کے کسی متبادل ذرائع کی مداخلت کے بغیر ہی خود کار طریقے سے ری ایکٹر کو بند کر دیتا ہے۔
  • ایسے نئے ایندھن جو انتہائی گرم درجہائے حرارتوں پر بھی نہ پگھلیں۔ حادثات کے دوران محفوظ رہنے والے یہ ایندھن ایٹمی بجلی کے تحفظ کو مزید بڑہاتے ہیں۔
  • ڈیزائنوں کی تیاری میں ایسی پیشرفتیں جو سہ جہتی پرنٹنگ کے ذریعے جوہری آلات تیار کر سکیں اور جن سے  وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہو سکے۔

امریکہ کے محکمہ توانائی کی ایک اہلکار، سارا لینن کہتی ہیں، "بالآخر، دنیا میں ایٹمی بجلی کو قابل تجدید وسائل کے ساتھ ملا کر بجلی پیدا کرنے کے آلودگی سے پاک  صاف طریقے کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔"

جاپان کے توانائی کے محکمے سے متعلقہ ایک اہلکار ہیروکو کیکوچی نے بتایا کہ یہ پروگرام "جوہری جدت طرازی سے متعلق سارے علم کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے۔"

کینیڈا کے قدرتی وسائل کے محکمے کے ایک اہلکار، سیموئل مینارڈ کہتے ہیں، "ایٹمی بجلی کم کاربن والے مستقبل کی جانب عالمی تبدیلی میں اپنا اہم کردار ادا کرنا جاری رکھے گی۔"