احتجاج کے نئے اور انوکھے طریقے

جب حکومتیں اپنے شہریوں کے خیالات کے اظہار کے حق محدود کر دیتی ہیں تو شہری کسی نہ کسی طریقے سے اپنی بات کہنے کی دیگر راہیں تلاش کر لیتے ہیں۔

ایران میں ملک بھر میں نوجوان، حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس میں حکومت کی جانب سے حال ہی میں ٹیلی گرام بند کرنے کے خلاف احتجاج بھی شامل ہے۔ یہ پیغام رسانی کا ایک ایپ ہے جو ایران کی نصف آبادی کے استعمال کرتی ہے۔ ٹیلی گرام پر اپنے خیالات کے اظہار کی راہ روکے جانے پر ان لوگوں نے ایرانی کرنسی ریال پر حکومت مخالف نعرے لکھنا شروع کر دیے ہیں جن میں یہ نعرہ بھی شامل ہے کہ "ہمارا دشمن یہاں موجود ہے، وہ کہتے ہیں کہ امریکہ ہمارا دشمن ہے۔"

اگرچہ ایرانی حکومت نے ٹویٹر اور فیس بک پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاہم وہاں کے لوگ بہتر مستقبل کی خاطر جدوجہد کے لیے سوشل میڈیا پر دیگر ذرائع کی مدد سے ان رکاوٹوں سے انحراف کرتے ہوئے اپنا کام کر رہے ہیں۔ ایران میں لوگ نامعلوم اکاؤنٹس کی مدد سے ایسے کرنسی نوٹوں کی تصاویر آن لائن پوسٹ کر رہے ہیں جن پر نعرے لکھے ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے  #Onehundredthousand_talking_banknotes  کا ہیش ٹیگ استعمال ہو رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد ان تصاویر کو ایک لاکھ مرتبہ شیئر کرنا ہے۔  @Iran_white_rose  نامی اکاؤنٹ کی جانب سے ٹویٹ کیا گیا ہے کہ "چیلنج یہ ہے کہ سوشل میڈیا اور سماج کے درمیان 100000# پل بنائے جائیں۔"

دیگر لوگ لازمی حجاب کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کی حمایت میں ذیل میں دی گئی تصویر جیسی تصویریں بنا رہے ہیں۔

امریکی تحقیقی گروپ 'بروکنگز انسٹیٹیوشن' کے دوحہ مرکز میں ایرانی امور کے ماہر علی فتح اللہ نجاد کہتے ہیں، "یقیناً کسی بھی آمرانہ ملک میں سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ہمیشہ دونوں فریقوں میں بلی چوہے کے کھیل جیسا ہوتا ہے۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس کا جلد خاتمہ ہوتا نظر نہیں آتا۔"

دنیا بھر میں تخلیقی انداز کے احتجاج میں کرنسی استعمال ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر 2012 میں روس میں مظاہرین نے روبل کے ہزاروں نوٹوں پر انسداد بدعنوانی کے نعرے لکھے۔

بھارت میں میں 'ففتھ پلر' نامی ایک بین الااقوامی غیرمنفعتی تنظیم نے صفر روپے کے نوٹ کے ساتھ بدعنوانی کے خلاف پرامن طور سے کامیاب احتجاجی مہم چلا رکھی ہے۔ 50 روپے کے نوٹ سے مشابہ ان کرنسی نوٹوں پر یہ تحریر درج ہے، "ہر سطح پر رشوت ستانی کا خاتمہ کیجیے۔"  ففتھ پلر ایسے 30 لاکھ  نوٹ تقسیم کر چکی ہے اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ یہ نوٹ رشوت طلب کرنے والے سرکاری اہل کاروں کو دیں۔

اگرچہ ایرانی عوام سوشل میڈیا کے خلاف پابندیوں پر پریشان ہیں تاہم فتح اللہ نجاد کو یقین ہے کہ ان لوگوں کی آوازیں بدستور سنی جاتی رہیں گی۔ وہ کہتے ہیں "ایران کے لوگ ٹیکنالوجی کی سمجھ  بوجھ  رکھتے ہیں اور وہ ٹیکنالوجی پر ریاستی کنٹرول کو جُل دینے کے لیے ہمیشہ نئے نئے طریقے نکالتے رہتے ہیں۔"