نومبر میں صدر ٹرمپ کے دورہ چین کی بنیاد کئی دہائیوں پر مشتمل امریکہ چین تعلقات پر ہے جن میں بہت سے معاشی، سائنسی و ثقافتی اقدامات شامل ہیں۔ مستقبل قریب میں چینی ٹیکسٹائل پلانٹ کی فاریسٹ سٹی، ارکنسا میں آمد اس شراکت کی ایک مثال ہے۔

براعظمی امریکہ اور ارکنسا کے نقشے پر فاریسٹ سٹی دکھایا گیا ہے۔ (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)
(State Dept./S. Gemeny Wilkinson)

حال ہی میں چین کے بڑے صنعتی ادارے ‘شینڈونگ روئی ٹیکنالوجی گروپ’ (روئی) نے فاریسٹ سٹی کے مقام پر شمالی امریکہ میں اپنی پہلی فیکٹری کھولنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیکٹری میں ارکنسا میں پیدا ہونے والی کپاس سے ٹیکسٹائل مصنوعات میں استعمال ہونے والا دھاگہ تیار کیا جائے گا۔

نئی فیکٹری میں 800 ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ‘روئی’ 41 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے فاریسٹ سٹی میں سابق ‘سانیو مینوفیکچرنگ سنٹر’ کی ازسرِنو استعمال کرنے کے لیے مرمت کرے گی۔

ارکنسا کے معاشی ترقیاتی کمیشن کے ڈائریکٹر مائیک پریسٹن کا کہنا ہے کہ ‘روئی’ کے فاریسٹ سٹی میں آنے کے فیصلے کا نتیجہ تاریخ میں پہلی مرتبہ “ارکنسا ڈیلٹا کے علاقے میں ایک ہی بار اتنی نوکریوں کا سب سے بڑا موقع بننے کی صورت میں نکلے گا۔”

انہوں نے مزید کہا، “اس سے خطے پر بے پایاں معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔”

پریسٹن کا کہنا ہے کہ ملازمتیں پیدا کرنے کے علاوہ یہ کمپنی ایسی جگہ منتقل ہو رہی ہے جو ایک دہائی سے خالی پڑی تھی۔ اس فیکٹری میں ہر سال ارکنسا کی دو لاکھ ٹن سے زیادہ کپاس سے دھاگہ تیار کیا جائے گا جس سے ہماری ریاست میں کپاس کی صنعت کے لیے اضافی مواقع پیدا ہوں گے۔

کپاس کی پیداوار کے اعتبار سے امریکی ریاستوں میں ارکنسا کا پانچواں نمبر ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ ‘روئی’ ہر سال ارکنسا میں پیدا ہونے والی قریباً تمام کپاس استعمال کرے گی جس سے ممکنہ طور پر فصل کی گانٹھیں بنانے اور ان کی نقل و حمل سے وابستہ کارکنوں کی نوکریوں میں بھی اضافہ ہو گا۔

شہر میں معاشی ترقی کی مشیر، کے بروک ویل کہتی ہیں کہ’ فاریسٹ سٹی کا ‘ایسٹ ارکنسا کمیونٹی کالج’  فیکٹری کے لیے نئے کارکنوں کو تربیت دے گا۔  یوں ‘روئی’ کو کام شروع کرنے کے لیے ابتدائی افرادی قوت کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے بھی تربیت یافتہ کارکن میسر آتے رہیں گے۔

ارکنسا کے گورنر ایسا ہچنسن نے فاریسٹ سٹی میں روئی کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ نا صرف ارکنسا میں کپاس کے کسانوں کے لیے نمایاں اثرات کا حامل ہو گا بلکہ اس سے ان کی ریاست میں کاروبار کے حوالے سے مثبت پیغامات بھی جائیں گے۔

ہچنسن نے بتایا ، ” ہمارے چین کے کاروباری دوروں اور وہاں کے کاروباری لیڈروں کے ساتھ تعلقات کے قیام  کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ چینی صوبے شینڈونگ کی تین کمپنیوں نے ارکنسا میں کام کرنے کے منصوبے بنا لیے ہیں۔ سن پیپر سے لے کر پیٹ ون پیٹ پراڈکٹس اور روئی تک دیکھا جائے تو  ہم نے اس ریاست کو ایشیا سے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے حوالےسے مرکزی  مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔”

روئی کے چیئرمین یافو کیو نے ارکنسا کے ساتھ اپنی کمپنی کے روابط کی تعریف کی۔ اُن کا کہنا ہے، ” چین میں ٹیکسٹائل کے حوالے سے سب سے بڑے صنعت ساز کی حیثیت میں روئی گروپ اپنے کاروبار کو دنیا بھر میں وسعت دے رہا ہے۔ ارکنسا میں ہماری مصنوعات سازی کی فیکٹری، امریکہ میں روئی کے کام کے حوالے سے اولین سنگ میل ثابت ہوگی۔ ہم جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے بہترین معیار کی حامل مصنوعات تیار کرنے کا پختہ عزم لیے ہوئے ہیں۔”

چینی ٹیکسٹائل کمپنی، فاریسٹ سٹی میں اپنی کاروباری سرگرمیوں کا آغاز 2018ء کے وسط میں کرے گی۔

اس مضمون کی تیاری میں وائس آف امریکہ کے مواد سے مدد لی گئی۔