ایتھوپیا اور اریٹریا میں پرورش پانے اور بعدازاں امریکی شہری و کاروباری منتظم بننے والے دو افراد مذکورہ افریقی ممالک کے درمیان 2018  کے امن معاہدے کی مستقبل کے حوالے سے اہمیت کے بارے میں بہت زیادہ پر امید ہیں۔

43 سالہ ابراہم میلیس 1998 میں ورجینیا آئے اور ایک سال بعد انہوں نے یہاں ‘کرسٹل پارکنگ’ کے نام سے پارکنگ کی خدمات مہیا کرنے والی ایک کمپنی قائم کی۔ وہ کہتے ہیں ”اریٹریا کے عوام بہت بڑی تبدیلی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔”

Abraham Melles standing in parking garage (State Dept./David A. Peterson)
اریٹریا کے میلیس اپنی کمپنی کے زیرانتظام میری لینڈ میں چلنے والے گیراجوں میں سے ایک گیراج میں۔ (State Dept./David A. Peterson)

اگست میں میلیس نے میری لینڈ کے علاقے بتھیسڈا میں ‘ڈیلینا اریٹرین اربن کچن’ نامی 50 نشستی ریستوران کھولا۔ انہوں نے ریستوران کا یہ نام اپنی 10 سالہ بیٹی کے نام پر رکھا ہے۔ تھوڑی تھوڑی مقدار میں ملے جلے  کئی ایک کھانے پیش کرنے والے اس ریستوران میں ایتھوپیا اور اریٹریا دونوں ممالک کے کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔

2012 میں امریکی شہری بننے والے میلیس کہتے ہیں، ”امریکہ میرے لیے بہت زبردست رہا اور میں خوش قسمت ہوں کہ ہر کام کو بنیادوں سے اوپر اٹھانے کے باوجود میں نے کامیابی حاصل کی۔”

اب وہ اپنے وطن میں مواقع تخلیق کرنے کی امید لیے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اریٹریا کے دارالحکومت اسمارا میں 28 کمروں کا ایک بوتیک ہوٹل کھولا ہے۔ میلیس کا کہنا ہے ”ہم میزبانی کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔”

امریکہ میں نئے سرے سے ابتدا

50 سالہ ایلیمیہو ابیبے 1994 میں اس وقت امریکہ منتقل ہوئے جب ان کے آبائی ملک ایتھوپیا میں سیاسی شورش پھیلی ہوئی تھی۔

میلیس کی طرح انہوں نے بھی واشنگٹن کے علاقے میں سکونت اختیار کی جہاں امریکہ آنے والے ایتھوپیائی باشندوں کی سب سے بڑی آبادی ہے اور عدیس ابابا سے باہر سب سے بڑی تعداد میں ایتھوپیا کے لوگ یہیں رہتے ہیں۔ ایتھوپیا میں نئی حکومت کے قیام اور اریٹریا کے ساتھ امن معاہدے کے بعد ابیبے 20 سال میں پہلی مرتبہ اپنے آبائی ملک جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”یہی درست سمت ہے”۔ ابیبے نے امریکی شہریت کا امتحان پاس کر لیا ہے اور اب تقریب حلف برداری کی تاریخ کے منتظر ہیں۔

Alex Abebe standing in restaurant (State Dept./David A. Peterson)
ابیبے نے میری لینڈ میں اپنے ایک ریستوران کا نام ایتھوپیا کے ایک پہاڑی سلسلے کے نام پر رکھا۔ (State Dept./David A. Peterson)

2012 میں ابیبے نے واشنگٹن میں ‘چرچر ایتھوپین ریسٹورنٹ’ نامی ایک چھوٹا سا طعام خانہ کھولا تھا۔ انہوں نے یہ نام ایتھوپیا کے پہاڑی علاقے کے نام پر رکھا۔

اب اس ریستوران میں 69 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور اسے مزید وسعت دی جا رہی ہے جس کے بعد یہاں مزید 41 لوگ بیٹھ سکیں گے۔ اس برس کے اوائل میں ابیبے نے بتھیسڈا میں دوسرا ریستوران کھولا اور آئندہ برس واشنگٹن اور ورجینیا میں دو مزید شاخیں کھولنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں۔

یوں وہ ناصرف علاقے میں تیزی سے پھیلتے کھانے پینے کے کاروبار میں حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ اپنے مرحوم والدین اور ایتھوپیا میں اس ریستوران کو بھی خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں جو کبھی چرچر میں ان کی ملکیت ہوا کرتا تھا۔

یہ مضمون فری لانس لکھاری لینور ٹی ایڈکنز نے تحریر کیا۔