اسرائیل سے مصر کو پائپ لائن کے ذریعے سستی توانائی کی فراہمی

بکریوں کے پاس کھیت میں کھڑی ایک عورت۔ (© Khalil Hamra/AP Images)
امریکہ نے بحیرہ روم میں واقع اُس پائپ لائن کی مرمت کرنے میں مدد کی جو اوپر دکھائے گئے مصر کے ساحلی شہر العریش کو اسرائیل سے قدرتی گیس فراہم کرتی ہے۔ (© Khalil Hamra/AP Images)

ٹیکساس کی توانائی کی ایک کمپنی نے اُس پائپ لائن کی مرمت کی جس کے ذریعے اب اسرائیل کے ساحلِ سمندر سے شمال مشرقی مصر میں قدرتی گیس پہنچائی جا رہی ہے۔

ایک امریکی ادارے نے ہیوسٹن کی نوبل انرجی اِنک نامی کمپنی کو ای ایم جی پائپ لائن کی مرمت کے لیے انشورنس (بیمے) کی شکل میں 43 کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کی۔ ای ایم جی پائپ لائن نے 2012ء میں کام کرنا بند کردیا تھا۔

سابق مصری وزیر سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون سحر نصر نے نومبر 2019 میں مشترکہ بیان میں انشورنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا، "”مصر نجی شعبے کی اس بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس سے مصری عوام پر مرتب ہونے والے معاشی اثرات کا منتظر ہے۔”

یہ انشورنس امریکہ کی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن (ڈی ایف سی) کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔ اس ادارے کا قیام بلڈ ایکٹ کے تحت عمل میں آیا اور یہ سنگین عالمی مشکلات کے حل کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت کاری کرتا ہے۔

ای ایم جی پائپ لائن بحیرہ روم کے نیچے اسرائیلی ساحل سے 90 کلومیٹر (55.9 میل) العریش، مصر تک جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پندرہ برس میں اس پائپ لائن سے اندازاً 85 بلین مکعب میٹر (3 کھرب مکعب فٹ) قدرتی گیس فراہم کی جائے گی جس سے مصر میں نئی ملازمتیں پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ سستی توانائی دستیاب ہوگی جبکہ معاشی نمو کو فروغ ملے گا۔

ڈی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایڈم بوہلر نے ایک بیان میں کہا، "توانائی کی سکیورٹی کو مضبوط بنانا (جس سے تجارت میں مضبوطی آتی ہے، سرمایہ کاری میں مدد ملتی ہے اور زندگی کا معیار بہتر ہوتا ہے) مصر میں دیرپا خوشحالی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

بوہلر نے مزید کہا، "اس منصوبے سے ملک کو مستحکم معاشی نمو کو فروغ دینے اور ایسے مواقع پیدا کرنے میں قابل اعتماد، کم لاگت توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد ملے گی جن سے مصر اور خطے میں مستحکم اثرات مرتب ہونگے۔”

ڈی ایف سی کی پائپ لائن کے پراجیکٹ کے لیے مدد، باہمی طور پر فائدہ مند سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی کی مدد کرنے کے امریکی عزم کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ سوچ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انشی ایٹو سے یکسر مختلف ہے جو ناقدین کے کہنے کے مطابق ملکوں کو قرض میں جکڑ دیتا ہے اوران کی قومی خود مختاری کی خلاف ورزی کرتا ہے۔