اسرائیل کی روز افزوں عزت مشرق وسطی کو مضبوط بناتی ہے

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی قبولیت ہر ایک کو فائدہ پہنچاتی ہے اور یہ ایک خوشحال مشرق وسطی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

پومپیو نے مخففاً اے آئی پی اے سی یا ایپیک کہلانے والی امریکہ اسرائیل عوامی امور کی کمیٹی کو بتایا، "مشرق وسطٰی اور دنیا کے ممالک اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ اسرائیل کتنا پائیدار ہے۔ وہ اس بات کو بھی تسلیم کرنے لگے ہیں کہ مشرق وسطٰی جتنا زیادہ اسرائیل کو گلے لگاتا جائے گا اس کا مستقبل اتنا ہی زیادہ روشن ہوتا چلا جائے گا۔”

وزیر خارجہ نے اسرائیل کی مضبوط ، آزاد منڈی، اور اس اختراعی معیشت کی طرف اشارہ کیا جہاں کاروباری نظامت کاری کا صلہ دیا جاتا ہے۔

پومپیو نے اسرائیل کو ایک ایسی جگہ بھی قرار دیا جہاں پر سب بلا خوف و احسان، آزادانہ طور پر عبادت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، "ایک ایسا اسرائیلی معاشرہ جو تمام عقائد کا احترام کرتا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسی کوئی چیز نہیں جس کی وجہ سے مذہبی اقلیتوں سے خوفزدہ ہوا جائے۔”

وزیر خارجہ نے مشرق وسطٰی کے ممالک کے حالیہ برسوں میں اسرائیل کی حمایت میں دیئے مندرجہ ذیل اشاروں کو اجاگر کیا:

  • اومان نے 2018 میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اومان کے دورے پر اُن کا خیرمقدم کیا۔
  • گزشتہ برس بحرین نے 1994 کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیلی صحافیوں کو بحرین کا دورہ کرنے کی اجازت دی۔
  • متحدہ عرب امارات نے 2018ء میں جوڈو کے ایک ٹورنامنٹ کے دوران اسرائیل کا قومی ترانہ بجایا۔
  • اِن تین ممالک کے نمائندوں نے صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کے اسرائیل اور فلسطینی عوام کے درمیان امن کے ایک منصوبے کے اعلان کی تقریب میں بھی شرکت کی۔

اسی اثنا میں، امریکی پالیسیوں کے تحت مسلسل حمایت کا مظاہرہ کیا جاتا رہا۔ امریکہ نے دسمبر 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کیا اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا۔

وزیر خارجہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کو "دنیا میں یہود دشمنی کی سرپرستی کرنے والی پہلے نمبر کی ریاست” قرار دیا۔ انہوں نے ایرانی رہنماؤں کے اسرائیل کے خلاف ” زہریلے اعلانات” کی مذمت کی اور انہیں ایرانی حکومت کی اپنی بدعنوانیوں اور بد انتظامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس طرح کے بیانات ایران کی اُس قابل فخر تاریخ کے منافی ہیں جس میں ہولوکاسٹ کے زمانے میں یہودیوں کو جائے پناہ دینا بھی شامل ہے۔

امریکی پابندیاں ایرانی حکومت کو اُس پیسے سے محروم کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں جس پیسے کو یہ حکومت حزب اللہ اور اُن دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے استعمال کرتی ہے جو پورے مشرق وسطٰی میں تشدد کے بیج بوتے ہیں۔

پومپیو نے کہا، "دنیا جانتی ہے کہ شریف ایرانی قوم اسرائیل، یا یہودیوں، یا کسی بھی دیگر مذہبی گروہ سے نفرت نہیں کرتی۔ یہ ہٹ دھرم، عدم برداشت والی حکومت ہی ہے جو ایسا کرتی ہے۔”