افریقہ میں انسدادِ ملیریا کی امریکی کوششوں میں وسعت

براعظم افریقہ میں، امریکہ اپنے اس اقدام کو وسعت دے رہا ہے جس کی بدولت ملیریا کے خطرے سے دوچار 48 کروڑ سے زائد افراد کی مدد کی جا چکی ہے۔ زندگی کے لیے خطرہ سمجھی جانے والی بیماری، ملیریا عموماً وائرس سے متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔

بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے (یوایس ایڈ) نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ چار افریقی ممالک یعنی کیمرون، آئیوری کوسٹ، نائجر اور سیئرا لیون، امریکی تعاون سے ملیریا کی روک تھام اور علاج کے پروگرام شروع کریں گے، جبکہ برکینا فاسو میں پہلے سے جاری امریکی پروگرام کو وسعت دی جائے گی۔ ‘یوایس ایڈ’ کے منتظم مارک گرین کا کہنا ہے کہ "ہم افریقہ میں 50 کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ملیریا سے موثر بچاؤ اور اس پر قابو پانے میں مدد کر رہے ہیں۔”

اس کوشش کو ‘امریکی صدر کا ملیریا کے خلاف اقدام’ کہا جاتا ہے جس کا آغاز 2005 میں ہوا تھا۔ ان ممالک کے اضافے کے ساتھ اب اس اقدام کا دائرہ کار ذیلی صحرائی افریقہ کے 24 ممالک تک پھیل جائے گا جہاں ملیریا، صحت عامہ کے لیے بدستور ایک شدید خطرہ بنا ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ نے 19 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا، "ہم نے ‘ملیریا کے خلاف صدارتی اقدام’ جیسے پروگراموں کے ذریعے دنیا بھر میں بہتر صحت اور مواقع  پیدا کرنے پر کام کیا ہے۔”

ایک عورت اپنے گھر میں مچھر دانی پکڑے ہوئے کھڑی ہے۔ (© K. Kasmauski/MCSP)
کیڑے مار دوائیاں لگی مچھر دانیاں گھانا میں ایک خاندان کے افراد کو ملیریا کے مچھروں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ (© K. Kasmauski/MCSP)

امریکہ 1950 سے ملیریا کے خلاف عالمگیر کاروائیوں میں سرگرمی سے حصہ لیتا چلا آ رہا ہے اور آج اس بیماری کے خاتمے کے لیے عالمی کوششوں میں امریکہ سب سے زیادہ مالی امداد دے رہا ہے۔

اگرچہ ملیریا کی بیماری کی  روک تھام  کی جا سکتی ہے اور اس کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے، تاہم ہر سال کروڑوں لوگ اس کا نشانہ بنتے ہیں جنہیں تکلیف دہ بخار، سردرد اور کپکپی کا سامنا ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2015 میں افریقہ کے 19 کروڑ لوگوں کو یہ بیماری لاحق ہوئی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ملیریا کے 90 فیصد مریض اسی براعظم میں پائے جاتے ہیں۔ افریقہ میں اس بیماری سے قریباً تین لاکھ 94 ہزار اموات ہوئیں جن میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

ایک آدمی ایک ہاتھ اوپر کیے ٹرک میں کھڑا ہے اور ایک پیکیج فضا میں بلند نظر آ رہا ہے۔ (© Riccardo Gangale/VectorWorks)
تنزانیہ میں لوگوں میں تقسیم کرنے کے لیے ایک آدمی ٹرک سے مچھر دانیاں اتار رہا ہے۔ (© Riccardo Gangale/VectorWorks)

ملیریا کے خلاف صدر کے اقدام کے تحت اس بیماری سے متاثر ہونے والے ممالک اور دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر مقامی لوگوں کو بیماری سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اشیا اور خدمات مہیا کی جاتی ہیں:

  • سوتے میں حفاظتی استعمال کے لیے کیڑے مار دوائیاں لگی مچھر دانیوں کی فراہمی۔
  • اندرون خانہ دیواروں اور چھتوں پر مچھروں اور دیگر کیڑوے مکوڑوں کے خاتمے کی ادویات کا اُن جگہوں پر چھڑکاؤ جہاں پر ملیریا کے مچھروں کے بیٹھنے کا امکان ہوتا ہے۔
  • بیماری کے موسم میں دافع ملیریا دواوًں کی فراہمی۔ (بارشوں کا یہ موسم جون اور ستمبر کے درمیان ہوتا ہے۔)

اس اقدام کے ذریعے متاثرہ ممالک میں صحت کے نظام، ملیریا کی تشخیص اور منشیات کے عادی لوگوں کے علاج کی خدمات کو بھی فروغ ملتا ہے۔

مارک گرین کا کہنا ہے، "ملیریا کے خلاف جنگ امریکہ اور بیشتر ممالک میں سرکاری و نجی سطح پر مضبوط شراکتوں کی بدولت ہی ممکن ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اکیلے، یہ کام نہیں کر سکتا۔