افریقہ میں ایبولا کی وبا کی روک تھام کے لیے امریکہ کا کروڑوں ڈالر کا عطیہ

جنیوا میں ایک اعلٰی امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکہ عوامی جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا کو روکنے کے لیے 80 لاکھ  ڈالر کی رقم فراہم کر رہا ہے۔

وسطی افریقہ کے اس ملک کے صحت کے حکام نے اطلاع دی ہے کہ اس بیماری سے 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 50 ایسے افراد کا پتہ چلا ہے جن کا اس بیماری کا شکار ہونے کا شک ہے۔ اس وبا کی سب سے پہلی اطلاعات دیہی علاقوں سے موصول ہوئیں۔ تاہم زیادہ تر مریضوں کا تعلق دس لاکھ سے زائد افراد کی آبادی والے صوبائی دارالحکومت بنڈاکا کے شہر سے ہے۔

امریکہ کے صحت اور انسانی خدمات کے وزیر ایلکس اذر نے امریکی امداد کی اس تازہ ترین قسط کا اعلان 22 مئی کو صحت کی عالمی اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے عوامی جمہوریہ کانگو کی "اتنے بھرپور انداز سے نمٹنے پر” تعریف کی اور صحت کی عالمی تنظیم کے تمام ممبروں پر "اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کو یقینی بنانے” پر  زور دیا۔

زیادہ تر رقومات امریکہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔ امریکہ مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھی روانہ کر رہا ہے۔

"امریکی حکومت صحت کی عالمی سلامتی کا عزم کیے ہوئے ہے۔”

~ محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوآرٹ

کانگو کی میڈیکل ٹیموں نے  طبی امداد کے شعبے میں کام کرنے والوں اور ایبولا کا شکار ہونے والے مریضوں سے رابطے میں آنے والے افراد کو حفاظتی ٹیکے لگانے شروع کر دیئے ہیں۔ اِن حفاظتی ٹیکوں میں امریکی دوا ساز کمپنی "میرک” کی فراہم کردہ تجرباتی ویکسین استعمال کی گئی ہے۔

امریکہ 2014 سے لے کر اب تک وباؤں کی روک تھام، اِن کا پتہ چلانے اور اِن سے نمٹنے کی خاطر ترقی پذیر ملکوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی غرض سے ایک ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ وباؤں کو ابتدا ہی میں روکنے کا عزم وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

صحت کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2014 سے 2016 تک مغربی افریقہ کے ممالک گنی، لائبیریا اور سیئرا لیون میں پھوٹنے والی ایبولا کی وبا پر قابو پانے سے پہلے 11,310 افراد ہلاک ہوئے۔