کووڈ-19  وبا نے انٹرنیٹ پر لوگوں کے انحصار میں ڈرامائی طور پر اضافہ کر دیا ہے۔ دنیا کے ایک حصے میں سکولوں میں پڑھائی کے لیے جانا اور مریضوں کا ڈاکٹروں کے کلینکوں میں جانا آن لائن منتقل ہو گئے ہیں، دفتروں اور کاروباری اداروں میں کام کرنے والے ٹیلی ورک یعنی گھروں سے کام کرنے لگے ہیں اور دوستوں اور خاندانوں کی انٹرنیٹ کے ذریعے ورچوئل ملاقاتیں ہونے لگی ہیں۔

عالمی بنک کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود افریقہ میں آبادی کے صرف پانچویں حصے یعنی 22 فیصد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے جبکہ 700 ملین افراد انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہیں۔

امریکہ کے  حکومتی ادارے اور نجی شعبہ افریقی شراکت داروں کے ساتھ مل کر انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم لوگوں کو انٹرنیٹ فراہم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ 6 اکتوبر کو گوگل کے سی ای او، سندر پچائی نے اگلے پانچ سالوں میں افریقہ میں انٹرنیٹ تک سستی رسائی اور کاروباری افراد اور غیر منفعتی تنظیموں کی مدد کے لیے ایک ارب  ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پچائی نے سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا، “چاہے آپ اپنے خاندان کو صحت مند رکھنے کے لیے معلومات حاصل کرنے والے والدین ہوں، ورچوئل تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم ہوں یا نئے گاہکوں اور مارکیٹوں سے رابطے کرنے والے کاروباری نظامت کار ہوں، [ان سب] میں جو ایک مشترک چیز ہم نے دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی پر [ہمارا] انحصار انتہائی زیادہ بڑھ گیا ہے۔”

دیگر امریکی کمپنیاں بھی افریقہ میں انٹرنیٹ تک رسائی کو بڑھا رہی ہیں۔ (ماضی میں فیس بک کے نام سے جانے جانی والی)، میٹا کمپنی جنوبی افریقی کمپنی ایم ٹی این گلوبل کنیکٹ اور ماریشس میں قائم ویسٹ انڈین اوشن کیبل کمپنی کی  شراکت سے دنیا کے سب سے لمبے زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل نیٹ ورکس بچھا رہی ہے۔ مئی 2020 میں اعلان کردہ  ٹو افریقہ پراجیکٹ کے تحت 16 افریقی ممالک کو یورپ اور مشرق وسطیٰ سے جوڑنے کے لیے 37,000 کلومیٹر لمبی تار بچھائی جائے گی۔

امریکی خلائی کمپنی سپیس ایکس کا ایک شعبہ سٹار لنک ہے جسے امریکہ کا وفاقی مواصلاتی کمشن مالی اعانت فراہم کرتا ہے۔ سٹار لنک کا 2021 میں سیٹلائٹ کے نیٹ ورک کے ذریعے افریقہ میں دیہی آبادیوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کا کام شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔

امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کو 2020 کی ایک رپورٹ (پی ڈی ایف، 5.8 ایم بی) سے پتہ چلا کہ انٹرنیٹ تک رسائی میں اضافے سے افریقیوں کو اچھے خاصے معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ:

      • ماہر کاریگروں کے لیے روزگار اور اُن کی آمدنیوں میں اضافہ۔
      • مغربی افریقہ میں اگلی صفوں میں کام کرنے والوں کے لیے ایسی ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی جن کے ذریعے ان کارکنوں کو کووڈ-19 سے متعلق انتہائی اہم معلومات دستیاب ہو سکیں۔
      • ایسی کمپنیوں کی مدد کرنا جو مشرقی افریقہ میں بجلی اور ڈیجیٹل مالیاتی وسائل سمیت سہولتوں سے محروم کمیونٹیوں کو درکار  وسائل فراہم کرتی ہیں۔
      • مالیاتی خدمات کو بہتر بنانا جس میں کینیا کی پیسوں کے لین دین کی وہ موبائل سروس بھی شامل ہے جس سے  194,000 گھرانوں کو غربت سے نکلنے میں مدد ملی۔

یو ایس ایڈ زیادہ سے زیادہ عورتوں کو انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔ افریقہ اور دنیا بھر میں غریب اور دیہی کمیونٹیوں میں عورتیں غیر متناسب طور پر انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم ہیں۔

ایف چِکس نامی پراجیکٹ کے ذریعے، یو ایس ایڈ اور انٹرنیٹ سوسائٹی اور نیٹ ورک سٹارٹ اپ ریسورس سنٹر جیسے نجی شعبے کے شراکت داروں نے سینی گال، مراکش، کینیا اور نمبیا کی دیہی آبادیوں میں عورتوں  کے لیے انٹرنیٹ کی دستیابی کو بڑھایا ہے۔

اس پراجیکٹ کے تحت انٹرنیٹ کے ایسے نیٹ ورک تیار کرنے کے لیے عورتوں کے گروپوں کے ساتھ مل کر کام کیا جاتا ہے جنہیں عورتیں ہی بناتی اور چلاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ٹیلی کمیونیکیشن کا بنیادی ڈہانچہ کھڑا کرنے اور اسے برقرار رکھنے اور سماجی معمولات انجام دینے کے لیے کنیکٹویٹی [جڑت] اور استعداد کار میں اضافہ ہوتا ہے۔

یو ایس ایڈ/مائکروسافٹ ایئربینڈ پروگرام کے ذریعے یو ایس ایڈ اور مائیکروسافٹ، مقامی انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان پر سرمایہ کاری کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے نیٹ ورکوں کو وسعت دے سکیں اور مزید خواتین کو آن لائن لا سکیں۔ یہ منصوبہ خواتین کی انٹرنیٹ تک رسائی اور گھانا اور کینیا جیسے ممالک میں خواتین کی ضروریات کو بامعنی جڑت میں سب سے زیادہ اہمیت دے کر معاشی مواقع کو بڑھاتا ہے۔

ایک چیز جو ان تمام اقدامات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے وہ پوری دنیا میں ایک کھلی، باہمی تعامل والی، قابل اعتماد اور محفوظ ڈیجیٹل معیشت ہے۔ اسی لیے امریکہ اور شراکت دار ممالک ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی [جڑت] اور سائبرسکیورٹی میں شراکت کے ذریعے مل کر کام کرتے ہیں۔ اس کا مقصد اس کام کو کرنے کے لیے درکار نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

اس کے کیا نتائج سامنے آئے ہیں؟ 2020 میں امریکہ کی بین الاقوامی ترقیاتی کارپوریشن نے نئے ڈیٹا سنٹروں میں 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جس سے جنوبی افریقہ، کینیا اور نئی افریقی مارکیٹوں میں معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کی ترقی میں مدد ملے گی۔

ستمبر میں ‘لیکوئڈ انٹیلی جنٹ ٹکنالوجیز‘ نامی کمپنی نے جنوبی افریقہ میں اپنے پانچویں میگا ڈیٹا سنٹر کے افتتاح کا اعلان کیا۔ ڈی ایف سی، برطانیہ اور عالمی بنک کی جانب سے دیئے گئے قرضوں سے اِن سنٹروں کی تعمیر میں مدد ملی۔

نومبر 2018 میں ڈی ایف سی نے ‘ایفری سیل’ نامی کمپنی کے ساتھ یوگنڈا اور جمہوریہ کانگو میں معیاری اور سستے موبائل ٹیلی فون فراہم کرنے اور انٹرنیٹ سروس کو بڑھانے کے لیے 100 ملین ڈالر کا قرضہ فراہم کرنے کے لیے شراکت داری کی۔

2018  کے قرض کے اعلان کے ایک بیان کے مطابق، ” ٹیلی کمیونیکیشن اب ہر ملک کی معاشی ترقی اور مسابقت کے لیے ضروری ہے۔ بہتر کنیکوٹیویٹی [جڑت] سے ترقی اور تجارت کو محدود کرنے والی رکاوٹوں کو دور کرے گی۔”