ایک آدمی سولر پینل کو دیکھ رہا ہے۔ (© Isaac Kasamani/AFP/Getty Images)
دسمبر 2016 میں ایک انجنیئر یوگنڈا کے بجلی پیدا کرنے کے سوروٹی پلانٹ پر کام کر رہا ہے۔ اس پلانٹ کو یو ایس ایڈ کے "پاور افریقہ" منصوبے کے تحت تعمیر کیا گیا تھا۔ (© Isaac Kasamani/AFP/Getty Images)

امریکہ اور بین الاقوامی شراکت دار کووڈ-19 وبا کے خاتمے اور پائیدار ترقی کو تیز تر کرنے کے لیے افریقہ کے نجی شعبے میں 80 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

سات ممالک کے گروپ (جی 7) اور بین الاقوامی ترقیاتی بنکوں نے جون میں قابل تجدید توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ ساتھ افریقہ میں مصنوعات سازی، زراعت، اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں مدد کرنے کے اپنے عزم کا اعلان کیا ہے۔ جی 7 ممالک میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔

امریکہ کی بین الاقوامی ترقیاتی کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو، ڈیوڈ مارچک نے بتایا، ” امریکہ ویکسین کی تیاری، کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے، آب و ہوا کی تبدیلیوں میں کمی لانے اور نئے موسمی حالات سے مطابقت پیدا کرنے، اور صنفی مساوات پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاریوں کو ترجیح دے گا۔”

حالیہ سرمایہ کاریاں 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی پہلے سے کی گئی اُن سرمایہ کاریوں کو آگے بڑہاتی ہیں جو امریکہ نے گزشتہ 20 برسوں میں افریقہ کے زیریں صحارا کے خطے میں صحت عامہ کی سلامتی اور انسانی جانیں بچانے کے نظاموں کو مضبوط بنانے کے لیے کی ہیں۔

 حفاظتی لباس پہنے لوگ مشینوں اور دوائی کی شیشیوں کو دیکھ رہے ہیں۔ (© Lulama Zenzile/Die Burger/Gallo Images/Getty Images)
جنوبی افریقہ کے صدر سِرل رامافوسا، بائیں، 29 مارچ کو جیکیبرہا، جنوبی افریقہ میں ویکسین بنانے والی، ایسپن فارماکیئر فیکٹری کا دورہ کر رہے ہیں۔ (© Lulama Zenzile/Die Burger/Gallo Images/Getty Images)

افریقہ میں ترقیات کے شعبے کے رہنما اعلان کردہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کا اُس 425 ارب ڈالر کو پورا کرنے کی جانب ایک قدم کے طور پر خیر مقدم کر رہے ہیں جس کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے کہنے کے مطابق افریقہ کے زیریں صحارا کے خطے کو کورونا کی وبا کے خلاف جنگ اور غربت کے خاتمے کے لیے ضرورت ہے۔

مختار ڈیوپ بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ یہ کارپوریشن ورلڈ بنک گروپ کی ممبر ہے۔ مختار ڈیوپ نے کہا، “ہم جانتے ہیں کہ نجی شعبہ لاکھوں نوکریاں پیدا کرکے افریقہ کے معاشی مستقبل میں بڑا کردار ادا کرے گا۔ دیرپا اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔”

افریقی یونین، جرمنی ڈی ایف سی اور اس کے شراکت دار افریقہ میں ویکیسن کی تیاری اور تقسیم کو پہلے ہی سے مضبوط بنا رہے ہیں۔ 30 جون کو انہوں نے افریقہ کی سب سے بڑی دوا ساز کمپنی، ایسپن فارما کیئر ہولڈنگز لمیٹڈ میں 700 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا۔

یہ سرمایہ کاری جنوبی افریقہ کی دوا ساز کمپنی کو 2022ء تک امریکی دواساز کمپنی جانسن اینڈ جانسن کی دریافت کردہ ویکسین کی 500 ملین خوراکیں تیار کرنے کے قابل بنائے گی۔ یہ خوراکیں افریقی یونیں، جنوبی افریقہ کی حکومت اور ویکسینیوں کی مساویانہ تقسیم کے لیے وقف، کووڈ-19 ویکسینوں کی عالمی رسائی کی سہولت (کوویکس) کے ذریعے تقسیم کی جائیں گیں۔ ایسپن کمپنی نے 26 جولائی کو جانسن اینڈ جانسن کی ویکسینوں کی پہلی کھیپ جاری کی۔

افریقی اور یورپی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر امریکی حکومت بھی افریقہ میں صحت کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے سینی گال کے شہر ڈاکار میں واقع “انستی تیوت پاسچر دو ڈاکار” میں کووڈ-19 کی ویکسینوں کی تیاری کو مضبوط بنا رہی ہے۔

اس کے علاوہ صدر بائیڈن کے ویکسین کی 80 ملین خوراکیں فراہم کرنے کے شروع میں کیے گئے وعدے کے مطابق، امریکہ ان دنوں افریقہ کے ممالک میں 25 ملین خوراکیں  پہنچا رہا ہے۔ جون میں بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں تقسیم کرنے کے لیے امریکہ فائزر کی 500 ملین اضافی خوراکیں خریدے گا۔

امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے، یو ایس ایڈ کی منتظمہ، سمنتھا پاور نے کہا، “امریکہ کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں افریقی ممالک کی مدد کرنے کے لیے جرائتمندانہ اور فوری اقدام اٹھاتے ہوئے، افریقہ کی ویکسین تیار کرنے کی گنجائش اور ویکسین تک رسائی کو پائیدار طریقے سے مضبوط بنانے کا عزم کیے ہوئے ہے۔”