افریقہ میں امریکی سرمایہ کاری سے مستفید ہونے والے بہت سے کاروباروں میں ای – کامرس کی ایک ایسی نئی کمپنی بھی شامل ہے جو دیہی افریقی علاقوں میں عورتوں کی صحت اور تندرستگی کے لیے ضروری سامان تک رسائی میں مدد کر رہی ہے۔

امریکہ کا ترقیاتی بنک، یو ایس انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی)، 2015ء میں قائم کی جانے والی کمپنی، کاشا گلوبل انکارپوریٹڈ میں ایک ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے شراکت دار بنے گا۔ اس کمپنی نے 2016ء میں روانڈا میں کاروبار شروع کیا۔

صحت اور تندرستی کی اشیا کے علاوہ، کاشا کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی آلات بھی فروخت کرتی ہے۔ یہ آلات دیہی علاقوں کی عورتوں کو دیئے جائیں گے۔ بصورت دیگر دیہی علاقے کی عورتوں کے اِن آلات کا حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

کاشا نے سمارٹ فون نہ رکھنے والی عورتوں کے لیے اپنی ویب سائٹ کو "فلِپ فونوں” کے ساتھ کام کرنے کے قابل بھی بنایا ہے۔

ڈی ایف سی کے چھوٹی اور درمیانے درجے کی سرمایہ کاری کے دفتر کے مینیجنگ ڈائریکٹر، لورین روڈوِن کا کہنا ہے کہ امریکی سرمایہ کاری سے کمپنی کو دوسرے ممالک میں اپنا کاروبار کھولنے، مزید لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنے اور اپنے گاہکوں میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔

دو عورتیں یعنی جو اینا بکسل اور ایمینڈا آرچ نے کاشا کے نام سے یہ کمپنی بنائی۔ اس کے ملازموں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ کمپنی ایسی خدمات مہیا کرتی ہے جن سے عورتوں کو مدد ملتی ہے۔ اس کے 65 ملازم ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی کے 200 ایجنٹ/ٹھیکے پر کام کرنے والے وہ لوگ ہیں جو دوردراز علاقوں میں عورتوں کی کمپنی کی اشیا خریدنے میں مدد کرتے ہیں۔

اب تک یہ کمپنی 75,000 گاہکوں کی ضروریات پوری کرچکی ہے

کاشا کے ایجنٹ کمپنی کے کاروبار کا انتہائی اہم حصہ ہیں۔ وہ کمپنی کی مصنوعات کے بارے میں گاہکوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں، گاہکوں کی چیزیں منگوانے میں مدد کرنے کے لیے اپنے موبائل فون استعمال کرتے ہیں اور سامان پہنچانے میں معاونت کرتے ہیں۔

روڈوِن کہتے ہیں، "ایجنٹ، جنہیں کمیونٹی میں لوگ بھی جانتے ہیں، کمپنی کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر رہے ہیں اور گاہک ایجنٹوں پر بہت زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔”

افریقہ کے زیریں صحارا کے خطے میں عورتوں کی صحت اور زیبائش کے سامان کے رسدی سلسلے ناپائیدار اور ناقابل اعتبار ہیں۔ کم آمدنی والی عورتوں کو اِن چیزوں تک رسائی میں دقت پیش آتی ہے۔ کاشا معقول قیمتوں پر دوائیں، زیبائش کا سامان، ڈائیپر اور دیگر بہت سا سامان فراہم کرتی ہے۔ اس کمپنی کا سب سے زیادہ بکنے والے سامان کا تعلق نسوانی حفظان صحت سے ہے۔ اِن اشیا کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس خطے میں لڑکیوں کو اکثر سکول سے غیرحاضر رہنا پڑتا ہے۔

اس قسم کی سرمایہ کاریوں کے ذریعے امریکہ مقامی کاروباروں کے مالکان اور رسدی سلسلے کی مقامی انتظآم کاری میں مدد کر رہا ہے۔

کاشا کو اُن فراہم کنندگان پر اختیار حاصل ہے جنہیں وہ استعمال کرتی ہے اور دیہی علاقوں میں عورتوں کی مدد کرنے کی کاشا کی صلاحیت کی یہی جزوی وجہ ہے۔

روڈوِن کہتے ہیں، "جب رسدی سلسلے کی ملکیت اور انتظام مقامی لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے تو اِن کی کارکردگی بہت اچھی ہوتی ہے اور آپ بہت زیادہ مستعدی سے کام کر سکتے ہیں۔ کمپنی کے اہم مقصد کا ایک حصہ یہی کچھ ہے۔”

کاشا کے بارے میں ڈی ایف سی کو ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں ہونے والی 2016ء کی "ویمن ڈیلیور کانفرنس” میں پتہ چلا۔ اس کانفرنس میں 169 ممالک سے تعلق رکھنے والے کم و بیش 6،000 افراد نے شرکت کی۔ ڈی ایف سی کاشا کی اس لیے مدد کر رہا ہے کیونکہ کاشا کے کاروباری مقاصد اور ڈی ایف سی کے بہت سے پروگراموں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ اِن میں”ٹو ایکس ویمنز انشی ایٹو” اور ڈی ایف سی کا صحت اور خوشحالی کا پروگرام شامل ہیں۔ "ٹو ایکس ویمنز انشی ایٹو” کے تحت ترقی پذیر ممالک میں عورتوں کی معاشی با اختیاری کو فروغ دینے کے لیے تین ارب ڈالر کی مالیت کے پراجیکٹوں میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

روڈوِن کا کہنا ہے، "مصنوعات اور معلومات سے عورتوں کو صحت کے بارے میں بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔  ہماری دلچسپی لینے کی بس یہی بنیادی وجہ ہے۔”