افریقی نژاد کاروباری نظامت کاروں کو آپس میں ملانے اور با اختیار بنانے کا امریکی پروگرام

بیلامور اینڈیکیز سٹیج پر کھڑی تقریر کر رہی ہیں (© World Learning)
بیلامور اینڈیکیز افریقی لیڈر کی حیثیت سے اپنے نقطہ نظر کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔ (© World Learning)

افریقی ملک برونڈی کے  ورثے کی حامل آسٹریلین شہری  بیلامور اینڈیکیز کہتی ہیں کہ حال ہی میں اُن کے امریکہ میں گزرے 10 دنوں نے اُن پر ثابت کر دیا ہے کہ دنیا بھر میں امتیازی سلوک کا سامنا کر کے باوجود افریقی نژاد لوگ خوشحال ہو سکتے ہیں۔

اینڈیکیز نے کہا کہ “اُن لوگوں سے ملنا جو اِس ملک میں یہ کامیابی حاصل کر چکے ہیں حقیقی معنوں میں متاثر کن تجربہ ہے۔ اِس [کامیابی] کے ساتھ عظمت آتی ہے اور میں نے محسوس کیا ہے کہ ہم بہت طاقتور ہیں۔ ہم اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ دولت کس طرح کی ہوتی ہے بشرطیکہ  ہم اُس کام کو مزید اونچی سطح پر لے جائیں جو ہم کر رہے ہیں۔”

27 سالہ اینڈیکیز سماجی اثرات مرتب کرنے والی “بی این کولیکٹو” کمپنی کی بانی اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔ بنیادی طور پر یہ کمپنی افریقی نژاد آسٹریلین شہریوں کی اپنی تمام تر صلاحیتیں کو بروئے کار لانے میں مدد کرتی ہے۔”

وہ محکمہ خارجہ کے افریقی النسل کاروباری نظامت کاروں کے تبادلے کے “افریقن ڈیسنڈنٹ سوشل انٹرپرینیورشپ ایکسچینج” نامی پروگرام  کے لیے منتخب کیے جانے والے لگ بھگ 100 افراد میں شامل تھیں۔ اس پروگرام کے تحت بیرونی ممالک میں رہنے والے افریقی نژاد افراد کو ایک دوسرے سے ملایا جاتا ہے اور انہیں با اختیار بنایا جاتا ہے۔ افتتاحی پروگرام میں 27 ممالک سے تعلق رکھنے والے شرکاء کا خیرمقدم کیا گیا۔

تبادلے کے اس پروگرام کا آغاز بالٹی مور میں تین روزہ ورکشاپ سے ہوا۔ اِس ورکشاپ کے شرکاء نے سماجی نظامت کاروں میں شامل اُن امریکیوں سے رابطہ کیا جو دنیا بھر میں افریقی نژاد لوگوں کی کمیونٹیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

یہاں سے پروگرام کے شرکاء کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ نے اٹلانٹا میں ایک ہفتہ گزارا جبکہ دوسرا گروپ نیو اورلینز گیا۔ اِن شہروں میں افریقی نژاد لوگوں کی متحرک بستیاں آباد ہیں۔ اِن شہروں کی تاریخوں اور افریقی نژاد امریکیوں کی زندگیوں کے موجودہ حقائق جاننے کے لیے اس پروگرام کے شرکاء نے ثقافتی مراکز کے دورے کیے اور اور کمیونٹی کے کاروباری نظامت کاروں کے پروگراموں میں شرکت کی۔

یہ دونوں گروپ لاس اینجلیس میں دوبارہ اکٹھے ہوئے جہاں انہوں نے شہر کے حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور مسقتبل کی نیٹ ورکنگ سمیت آئندہ پروگراموں کی منصوبہ بندی کی۔

کاروباری نظامت کاری کی ورکشاپ کے سائن کے برابر سٹیج پر کھڑیں مونیک روڈریگز ڈو پراڈو (Courtesy of Monique Rodrigues do Prado)
مونیک روڈریگز ڈو پراڈو (Courtesy of Monique Rodrigues do Prado)

31 سالہ مونیک روڈریگز ڈو پراڈو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔ وہ برازیل کے سیاہ فاموں کی حمایت کرتی ہیں۔ تبادلے کے اس پروگرام سے وہ ایک اجتماعی گروپ کی ایک فرد ہونے کا احساس لیے وطن واپس لوٹیں۔

وہ کہتی ہیں کہ “ہم انفرادی طور پر یا اپنی کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ لہذا مجھے اُس شخص کا احترام کرنا ہوگا جو مجھ سے مختلف ہے۔ اس کے باوجود ہم سیاہ فام ہی رہیں گے۔ اس کے باوجود ہم افریقی النسل ہی رہیں گے۔”

نیٹ ورکنگ فورم کے مقاصد:-

اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ لنڈا تھامس-گرینفیلڈ نے کہا کہ “کیونکہ ہم اپنی تاریخ اور بدستور موجود عدم مساوات کا سامنا کر رہے ہیں اس لیے ہم ایک بہتر اور زیادہ منصفانہ مستقبل کی تعمیر کے اپنے عزم صمیم کے ساتھ عالمی برادری کے ہمراہ متحد ہو کر کھڑے ہیں۔ اس مستقبل کی بنیاد تمام اقوام اور ثقافتوں کی دنیا کو مضبوط کرنے کی منفرد خدمات کے احترام اور تعریف پر مبنی ہے۔”