افغان لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے دوسرے موقعے کی فراہمی

ابھی مشکل سے دن پوری طرح چڑھا بھی نہیں ہوتا کہ کلثوم شجاعی موٹرسائیکل پر وسطی افغانستان کے پہاڑوں سے پار جانے کے لیے گھر سے نکل پڑتی ہیں۔ان کا مشن دور دراز علاقوں میں مقامی کمیونٹیوں میں قائم کردہ تعلیمی مراکز کو درست طور پر چلانے کو یقینی بنانا ہے۔

کلثوم کا کام امریکی ادارے برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) کے ایک ایسے پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد افغانستان کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں خواتین اور لڑکیوں کو حصولِ تعلیم کا دوسرا موقع فراہم کرنا ہے۔

ایک افغان خاتون تختہِ سیاہ کے سامنے کھڑی ہیں اور ایک طالبہ کو پڑھا رہی ہیں۔ (©UNICEF Afghanistan/2016/Sheida)
کلثوم شجاعی، دائیں، دائیکنڈی، وسطی افغانستان کے ایک تعلیمی مرکز میں ایک طالبہ کی ریاضی کا ایک سوال حل کرنے میں مدد کر رہی ہیں۔ (©UNICEF Afghanistan/2016/Sheida)

یوایس ایڈ نے یونیسف اور افغانستان کی وزارت تعلیم کے اشتراک سے افغانستان کے انتہائی الگ تھلگ 13 صوبوں میں تعلیم کے تیزتر حصول کے مراکز  قائم کیے ہیں۔ یہ مراکز نوجوان لڑکیوں کے لیے بنائے گئے ہیں جنہیں اب تک جنگ، خواتین اساتذہ کی کمی، سکول سے طویل فاصلوں یا تعلیمی سامان کی کمی کے باعث حصولِ تعلیم تک رسائی اور مواقع دستیاب نہیں تھے۔

صدر ٹرمپ نے 11 اکتوبر کو لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر کہا، "امریکہ دنیا بھر میں لڑکیوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے، ان کی خوداعتمادی میں اضافے اور انہیں اپنے معاشروں میں رہنمائی کی تحریک دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔”

صدر کا کہنا تھا، "نوجوان لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں کے مکمل اظہار کے لیے درکار رسائی، تعلیم اور تربیت، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم  ہے کہ ہماری بہترین اور قابل ترین لڑکیوں کی قوت، دانش اور صلاحیتوں کو سب کی بہتری کے لیے بروئے کار لایا جائے۔”

افغانستان میں یوایس ایڈ کی کاوشیں

2002ء میں افغانستان میں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے تمام مواقعوں سے محروم کر دیا گیا تھا۔ افغان وزارت تعلیم کے مطابق آج 35 لاکھ لڑکیوں سمیت 90 لاکھ بچے سکولوں میں داخل ہیں۔

ایک عورت کلاس میں طالبات کے سامنے بیٹھی لکھ رہی ہے۔ (©UNICEF Afghanistan/2016/Sheida)
کلثوم شجاعی، دائیں، دائیکنڈی، افغانستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں کمیونٹی کی بنیاد پر قائم پروگراموں کی نگرانی کرتی ہیں۔ (©UNICEF Afghanistan/2016/Sheida)

ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک یو ایس ایڈ، افغان حکومت اور عالمی عطیہ دہندگان نے حصولِ تعلیم کے خواہش مند تمام طلبا اور طالبات بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کی ابتدائی اور ثانوی تعلیم تک رسائی ممکن بنانے کے لیے باہم مل کر کام کیا۔ یو ایس ایڈ نے ایک لاکھ 54 ہزار سے زائد اساتذہ کی بھرتیوں اور تربیت میں بھی مدد دی جن میں 54 ہزار خواتین اساتذہ شامل ہیں۔

کابل یونیورسٹٰی کی گریجوایٹ کلثوم کہتی ہیں، "میں کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچ سکتی تھی کہ ایک دن میں لڑکیوں کی تعلیمی کلاسوں کے قیام میں ان لوگوں کی مدد کے قابل ہو سکوں گی۔ یہ میرا خواب ہے کہ ایک دن اس ملک میں تمام لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی حاصل ہو جائے۔”۔ 

میاں بیوی موٹر سائیکل پر سوار ہیں جب کہ عقب میں برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیاں نظر آ رہی ہیں۔ (©UNICEF Afghanistan/2016/Sheida)
کلثوم اور اُن کے شوہر 20 ایسے دور دراز تعلیمی مراکز میں جاتے ہیں جن کی نگرانی کلثوم کی ذمہ داری ہے۔ (©UNICEF Afghanistan/2016/Sheida)

یہ مضمون طویل شکل میں USAID/Exposure پر شائع کیا چکا ہے۔ اسے سارہ کریمی نے لکھا جس میں محمد علی شیدا کی رپورٹنگ شامل ہے۔