اقوام متحدہ کی کامیابی کو آگے بڑھانے کے اقدامات

اقوام متحدہ نے دنیا بھر کے ممالک کو انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے، جوہری اسلحے کے پھیلاؤ کو محدود کرنے، امن کے لیے بات چیت کرنے اور ایک بلین سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نکالنے میں مدد دی ہے۔

13 تا 27 ستمبر نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں امریکہ کا مقصد اقوام متحدہ کی حاصل کردہ کامیابیوں کو آگے بڑھانا اور ادارے کو 21ویں صدی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندہ لِنڈا تھامس۔گرین فیلڈ نے نیویارک میں اس اجلاس کے لیے امریکہ کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے 8 ستمبر کو کہا کہ ”اب وقت آ گیا ہے کہ مستقبل کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ تصور پر ممالک کے وسیع اور متنوع اتحاد کے ساتھ ہم آہنگ ہوا جائے اور یہ تصور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہو۔”

تھامس۔گرین فیلڈ کا کہنا تھا کہ جنرل اسمبلی میں امریکہ کا وفد عالمگیر غذائی عدم تحفظ سے نمٹںے، عالمگیر صحت کو بہتر بنانے، تحفظ صحت اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو قائم رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ساتھ کام کرے گا۔ صدر بائیڈن 21 ستمبر کو اجلاس سے خطاب کریں گے۔

عالمگیر غذائی عدم تحفظ پر قابو پانے کے اقدامات

امریکہ موسمیاتی تبدیلی، کووڈ۔19 وبا اور یوکرین میں روس کی جنگ سمیت مسلح تنازعات سے جنم لینے والے خوراک کے عالمگیر بحران پر قابو پانے کا عزم رکھتا ہے۔

وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن 20 ستمبر کو یورپی یونین اور افریقن یونین کے ساتھ غذائی تحفظ کے موضوع پر ایک کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ اس کانفرنس کا مقصد غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لیےعالمگیر کوششوں کو آگے بڑھانا ہے اور اس سلسلے میں ‘عالمگیر غذائی تحفظ کے لیے لائحہ عمل’ سے کام بھی لیا جائے گا جس پر مئی سے اب تک 103 ممالک دستخط کر چکے ہیں۔ ان ممالک نے انتہائی ضرورت مند ملکوں تک خوراک پہنچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

یوکرین کے خلاف روس کی جنگ نے دنیا بھر میں غذائی قلت میں اضافہ کر دیا ہے۔ 31 اگست کو یمن میں غذائی امداد پہنچی جسے اپنی ضرورت کا تقریباً نصف اناج یوکرین سے موصول ہوتا ہے۔ (خالد زید/اے ایف پی/گیٹی امیجز)

اس روڈ میپ کا آغاز مئی میں ہوا جب بلنکن نے خوراک کے بحران سے نمٹنے کے لیے مزید اجتماعی اقدام کو متحرک کرنے میں مدد دینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس اور ایک وزارتی اجلاس کی صدارت کی۔

فروری سے اب تک امریکہ دنیا بھر میں ہنگامی غذائی تحفظ کے لیے5.7 بلین ڈالر سے زیادہ امداد مہیا کر چکا جسے وصول کرنے والوں میں انتہائی درجے کی بھوک اور غذائی قلت کا سامنا کرنے والے افریقی ممالک بھی شامل ہیں۔

عالمگیر صحت کا فروغ

امریکہ کے اعلیٰ حکام کووڈ۔19 وبا کے خلاف اقدامات کو مضبوط کرنے اور عالمگیر تحفظ صحت کو تقویت دینے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

21 ستمبر کو صدر بائیڈن ‘ایڈز، ٹی بی اور ملیریا پر قابو پانے کے عالمگیر فنڈ’ میں خرچ شدہ مالی وسائل کی کمی پوری کرنے کے لیے ساتویں کانفرنس کی میزبانی کریں گے۔ امریکہ کی حکومت نے 2002 سے اب تک اس فنڈ میں قریباً 20 بلین ڈالر دیے ہیں جو کسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے اس مقصد کے لیے دی جانے والی رقم سے زیادہ ہے۔

 زمین پر بیٹھا ایک طبی اہلکار خواتین کا ملیریا ٹیسٹ لے رہا ہے (زنہوا/ گیٹی امیجز)
امریکہ ایڈز، تپ دق اور ملیریا پر قابو پانے کے لیے قائم کردہ عالمگیر فنڈ کو سب سے زیادہ عطیات دینے والا ملک ہے۔ بالائی تصویر میں یکم اگست کو انڈیا کی ریاست تریپورہ میں کمیونٹی ہیلتھ آفیسر ایک خاتون کا ملیریا ٹیسٹ لے رہا ہے۔ (زنہوا/ گیٹی امیجز)

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں آخری نصف ایام کے دوران بلنکن ‘کووڈ۔19 گلوبل ایکشن پلان’ کو فروغ دینے کے لیے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کی مشترکہ میزبانی کریں گے۔ فروری میں امریکہ اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں نے کووڈ۔19 وبا کے شدید مرحلے پر قابو پانے اور عالمگیر غذائی تحفظ کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مںصوبہ شروع کیا۔

ان کوششوں میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں۔

  • کووڈ۔19 ویکسین تک رسائی میں اضافہ کرنا۔
  • دنیا بھر میں بیماریوں کی جانچ اور علاج
  • طبی کارکنوں کی معاونت

بائیڈن انتظامیہ نے حال ہی میں ورلڈ بینک کی جانب سے وبا کے مقابلے کی تیاری اور عالمگیر طبی تحفظ کے لیے قائم کردہ فنڈ کے لیے بھی 450 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کی حمایت

تھامس۔گرین فیلڈ نے کہا کہ امریکہ امن و سلامتی کو برقرار رکھنے، بین الاقوامی تعاون تشکیل دینے اور انسانی حقوق کے فروغ سے متعلق اقوام متحدہ کے چارٹر کے تصور کی پاسداری کا عزم رکھتا ہے۔

تھامس۔گرین فیلڈ کا کہنا تھا کہ یوکرین پر روس کا حملہ خودمختاری، خود ارادیت اور تنازعات کے پرامن حل سے متعلق اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کا امتحان ہے۔ روس کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے ذمہ دارانہ طرزعمل سے متعلق چھ اصولوں کی پاسداری کرے گا جن میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی مطابقت سے اقدامات، انسانی حقوق کا دفاع اور تعاون، جامعیت اور شفافیت کا فروغ شامل ہیں۔

تھامس۔گرین فیلڈ نے کہا کہ ”ہمیں ایک پُرامن دنیا کے لیے اپنے عزم کو مضبوط کرنا اور خودمختاری، علاقائی سلامتی اور امن و سلامتی سے متعلق اپنے ان اصولوں پر مزید سختی سے کاربند ہونا ہو گا جن پر ہمارا گہرا یقین ہے۔” انہوں ںے کونسل کے تمام ارکان کو بھی انہی اصولوں کو اختیار کرنے کے لیے کہا۔