Venezuelan political officials standing on a balcony draped with the Venezuelan flag (© Ariana Cubillos/AP Images)
طارق العیسامی، انتہائی دائیں جانب، وینیز ویلا کے سابقہ آمر نکولس مادورو اور دیگر حکومتی اہل کاروں کے ساتھ 2019ء میں کراکس، وینیز ویلا میں کھڑا ہے۔ (© Ariana Cubillos/AP Images)

وینیز ویلا کے سابق نائب صدر طارق زیدان العیسامی مدح کے خلاف لگائے گئے الزامات میں امریکہ نے کہا ہے کہ نئب صدر نے منشیات کے سمگلروں کو تحفظ  فراہم کرنے اور اُن کی مدد کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کیا۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے میں تفتیشوں کے انچارج، اینگل ایم میلنڈیز نے کہا کہ العیسامی نے"منشیات کی بین الاقوامی سمگلنگ میں اپنے عہدے کی وجہ سے حاصل ہونے والے اختیارات کو استعمال کیا۔" اُس سے "امریکہ  کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معیشت کو" خطرات لاحق ہیں۔

نکولس مادورو نے العیسامی کو 2017ء میں اپنا نائب صدر مقرر کیا۔ العیسامی اُس بدعنوان حکومت کا حصہ ہے جس نے وینیز ویلا کی معیشت کو برباد کیا، 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کی اور ملک بھر میں وسیع پیمانے پر خوراک اور طبی سامان کی قلتیں پیدا کرنے کا باعث بنی۔

العیسامی آج کل مادورو کا صنعت اور قومی پیداوار کا وزیر ہے۔ اُس پر امریکہ کی طرف سے وینیز ویلا پر عائد پابندیوں اور "منشیات کے غیرملکی سرغنوں کی نامزدگی کے قانون" کی خلاف ورزیاں کرنے پر 8 مارچ کو فرد جرم عائد کی گئی۔

Front of airplane seen on a runway (© Shutterstock)
العیسامی کے خلاف تازہ ترین الزامات میں میں امریکی کمپنیوں کے ذریعے غیرقانونی طور پر نجی طیارے کرائے پر لینے کا الزام لگایا گیا ہے۔ (© Shutterstock)

مادورو کے اندرونی حلقوں میں بھی العیسامی کی بدنامی نمایاں ہے۔ 2017ء میں محکمہ خزانہ کے غیرملکی اثاثوں کے کنٹرول کے دفتر (او ایف اے سی) نے اسے وینیز ویلا کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سے منشیات کا ایک مخصوص سمگلر نامزد کیا۔ (اکثر ایک ہزار کلوگرام سے زیادہ کی سمگلنگ کرنے پر۔) اپنے اقتدار کے دوران اس نے وینیز ویلا میں منشیات کے سمگلروں اور کاروبار کرنے والوں کو تحفظ  فراہم کرنے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کیے۔

امریکہ نے العیسامی اور اس کے کاروباری ساجھے دار سمارک ہوزے لوپیز بیلو پر بھی پابندیاں لگائیں ہیں۔ اس کی وجہ سے اُن دونوں کا امریکہ یا کسی امریکی کمپنی کے ساتھ کاروبار کرنا قانونی طور پر ممنوعہ قرار پایا۔

العیسامی اور لوپیز بیلو پر عائد کیے گئے تازہ ترین الزامات کے مطابق دنیا میں اِن کے سفر کے لیے نجی طیارے کرائے پر لینے کے لیے امریکی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرکے انہوں نے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔ اگر العیسامی اور لوپیز بیلو پر اور پابندیوں کو توڑنے میں اُن کی مدد کرنے والے دو امریکیوں پر جرم ثابت ہوگیا تو ان کو 150 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ پاناما کے دو شہریوں پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اگر اُن پر بھی جرم ثابت ہوگیا تو انہیں 30 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔