Trailers blocking a bridge (© Fernando Llano/AP Images)
انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد کو روکنے کے بعد کولمبیا اور وینیز ویلا کو آپس میں ملانے والے پل پر فوجی سپاہی کھڑے ہیں۔ (© Fernando Llano/AP Images)

امریکہ نے وینیز ویلا کے چھ سرکاری اہل کاروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکہ کے محکمہ خزانہ کے مطابق سب کے سب چھ سرکاری اہل کار سابقہ صدر نکولس مادورو کے ہمنوا ہیں اور اُن میں سے بہت سے گروہوں کو کنٹرول کرتے ہیں جنہوں نے 23 فروری کو انسانی بنیادوں پر بھیجی جانے والی امداد کو وینیز ویلا میں داخل ہونے سے روکا۔

وزیر خزانہ سٹیون ٹی منوچن نے کہا، "ہم  قابل مذمت تشدد، المناک اموات اور وینیز ویلا کے بیمار اور فاقہ زدہ شہریوں کے لیے بھیجی جانے والی اشیائے خورد و نوش کے  بے حسی سے جلائے جانے کے جواب میں مادورو کی سکیورٹی فورسز کے اراکین پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔"

People praying and holding large crucifix (© Fernando Llano/AP Images)
23 فروری کو کولمبیا کی سرحد کے قریب وینیز ویلا کے شہری، وینیز ویلا کی ریاست بولیوار کے نیشنل گارڈ کے ساتھ تصادم کے دوران دعائیں مانگ رہے ہیں۔ (© Fernando Llano/AP Images)

امداد کو روکنے والوں میں شامل ایک گروہ مادورو کا سپیشل پولیس کا یونٹ ہے جسے مخففاً ایف اے ای ایس اور مقامی زبان میں "فیورزاس دو اکسیونیس اسپیسیال" کہتے ہیں۔ ایف اے ای ایس عین اس وقت سرحدی علاقوں میں آ دھمکا جب انسانی بنیادوں پر مہیا کی جانے والی امداد کے وہاں پہنچنے کا اعلان کیا گیا۔

A line of soldiers and clouds of white gas in street (© Fernando Llano/AP Images)
کولمبیا کی سرحد کے قریب وینیز ویلا کے شہر ارینا کے مقامی لوگوں پر فوجی آنسو گیس کے گولے پھینک رہے ہیں۔ (© Fernando Llano/AP Images)

کولمبیا کے حکام کے مطابق اس دن کے تصادم میں مادورو کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں پانچ افراد ہلاک ہوئے اور 285 زخمی ہوئے جن میں سے 27 افراد کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔

محکمہ خزانہ کے اس اقدام کے تحت جن افراد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں اُن کے ایسے تمام اثاثوں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جو یا تو امریکہ میں ہیں یا جو کسی امریکی شہری کے زیرِ انتظام  ہیں۔

منوچن نے وینیز ویلا کے عوام اور عبوری صدر خوان گوائیڈو کے لیے امریکی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ "مادورو کے ایسے وفاداروں کو نشانہ بناتا رہے گا جو انسان کے پیدا کردہ اس بحران کی وجہ متاثر ہونے والے افراد کی مصیبتوں کو طوالت دے رہے ہیں۔"