ای سی جی اور دل کا تصویری خاکہ۔ (© Shutterstock)
(© Shutterstock)

امریکی جدت طرازوں نے ایک ایسا نیا سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر طبی ماہرین کی دل کے امراض کا پتہ چلانے کے لیے الٹرا ساؤنڈ تصاویر اتارنے میں مدد کرتا ہے۔ دنیا کی اس مہلک ترین بیماری کی شروع میں ہی تشخیص کرنے کے حوالے سے یہ ایک ڈرامائی کامیابی ہے۔

اس نئے سافٹ ویئر کا نام "کیپشن گائیڈنس” ہے اور امریکہ کی خوراک اور دواؤں کی انتظامیہ (ایف ڈی اے) نے 7 فروری کو "کیپشن ہیلتھ اِنک” نامی کمپنی کو اسے مارکیٹ میں متعارف کرانے کی منظوری دی۔ اس کے نتیجے میں اُن طبی ماہرین کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا جو تشخیص کے لیے درکار دل کی اعلٰی معیار کی تصاویر لے سکیں گے۔

ایک آلہ جس پر الٹرا ساؤنڈ سے بننے والی تصویر اور ڈیٹا دکھائی دے رہا ہے۔ (© Patrick T. Power/Caption Health)
کیپشن ہیلتھ کا کہنا ہے کہ اِن کا دل کا الٹرا ساؤنڈ کرنے والا سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت سے کام کرنے والا دنیا کا پہلا سافٹ ویئر ہے۔ (© Patrick T. Power/Caption Health)

کیپشن ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو، اینڈی پیج نے 7 فروری کو ایک بیان میں کہا، "کسی بھی مریض کو ممکنہ طور پر جان بچانے والے دل کے الٹرا ساؤنڈ کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت کی قوت کے ذریعے کیپشن گائیڈنس تک مریضوں کو جب اور جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی، بے مثل رسائی فراہم کی جائے گی۔”

دل کی بیماری دنیا میں موت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ صحت کی عالمی تنظیم کے مطابق 2016ء میں دل کی بیماریوں سے 17 لاکھ 90 ہزار اموات ہوئیں جو کہ مجموعی اموات کا 31 فیصد ہیں۔ دل کی ان اموات میں سے 85 فیصد دل کا دورہ پڑنے یا فالج کا نتیجہ تھیں۔

ٹویٹ کی عبارت کا خلاصہ:

امریکی ایف ڈی اے

دل کی بیماری امریکی مردوں اور عورتوں میں موت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مختلف قسم کی دل کی بیماریوں کے علاج کے لیے ایف ڈی اے کے منظور کردہ بہت سے آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔ دل کو دھڑکنے میں مدد دینے والے آلات کے بارے میں مزید معلومات کے لیے یہ ویب سائٹ دیکھیں:#HeartHealthMonth https://go.usa.gov/xdkQg

ایف ڈی اے کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الٹرا ساؤنڈ دل کی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اور علاج کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ٹکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے اس سافٹ ویئر کے ذریعے ایک عام آدمی الٹرا ساؤنڈ کرسکتا ہے اور اعلٰی معیار کی تصاویر لے سکتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس عمل میں مریض کے جسم کو کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ یہ منظوری "خصوصی طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس سے مصنوعی ذہانت اور مشینی علم کی ٹکنالوجیوں کی ایسی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ اِن صلاحیتوں کا مقصد دل کی بیماریوں کی اُن محفوظ اور موثر تشخیصات تک رسائی بڑہانا ہے جن سے مریضوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔”

فروری 2019 میں صدر ٹرمپ نے جدید ٹکنالوجیوں کی تحقیق و ترقی اور اِن کے استعمال کے اخلاقی راہنما اصول فراہم کرنے کے لیے، امریکہ کے مصنوعی ذہانت کے ابتدائی پروگرام کا اعلان کیا۔

ٹرمپ نے کہا، "امریکہ کی اقتصادی اور قومی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے "اے آئی” (مصنوعی ذہانت کا انگریزی مخفف) میں مسلسل امریکی قیادت خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔”