امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی تجارت میں ایک نئے دن کا آغاز

امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا نے 30 نومبر کو ایک ایسے تجارتی سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں جس نے صدر ٹرمپ کے  بقول "تجارتی منظرنامہ مستقل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔"

ٹرمپ، سبکدوش ہوننے والے میکسیکو کے صدر انریکے پینا نیٹو اور کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکہ-میکسیکو-کینیڈا سمجھوتے (یو ایس ایم سی اے) پر بیونس آئرس، ارجنٹینا میں 20 ممالک کے گروپ ( جی 20) کی کانفرنس کے دوران ہونے والی ایک تقریب میں دستخط کیے۔ (جی 20 سرکردہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک گروپ ہے جس کے رہنما مالی امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے پابندی سے ملتے رہتے ہیں۔)

متعلقہ فریقوں کی جانب سے اس کی توثیق ہونے کی صورت میں نیا سمجھوتہ شمالی امریکہ کے آزادانہ تجارتی سمجھوتے (نیفٹا) کو متوازن بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی جگہ لے گا۔ نیفٹا مذکورہ ممالک کے مابین تجارت بڑھانے کی خاطر 1994 سے بنیادی قوانین طے کرتا چلا آ رہا ہے۔

ٹوئٹر کا ترجمہ:

ابھی ابھی امریکہ اور دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم اور سب سے بڑے تجارتی سمجھوتوں میں شمار ہونے والے سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا نے اس عظیم دستاویز کو تیار کرنے پر بہت عمدہ طریقے سے کام کیا۔ عنقریب خراب نیفٹا ختم ہو جائے گا۔ یو ایس ایم سی اے سب کے لیے زبردست ثابت ہوگا۔

صبح 9 بجکر 45 منٹ  30 نومبر 2018

امریکہ اور میکسیکو نے اگست میں سمجھوتے پر اتفاق کر لیا تھا۔ ڈیری، مونگ پھلی اور منڈی تک رسائی کے دیگر مسائل پر سمجھوتوں کے بعد کینیڈا اکتوبر میں اس میں شامل ہو گیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا، "یہ لڑائی  چلتی آ رہی تھی اور لڑائیاں بعض اوقات عظیم دوستیوں کو جنم دیتی ہیں۔"

صدر نے کہا، " ان نئی شقوں  سے ہمارے سب ممالک میں محنت کشوں، ٹکنالوجی اور ترقی کو فائدہ پہنچے گا جس کے نتیجے میں شمالی امریکہ کے طول و عرض میں پھیلے ہمارے ممالک میں مزید ترقی ہوگی اور زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔"

امریکہ کے وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے اس معاہدے کی "شمالی امریکہ کی تجارت کو جدید خطوط ہر استوار کرنے اور دوبارہ متوازن بنانے کی خاطر ایک انہتائی اہم قدم" کے طور پر تعریف کی۔

انہوں نے کہا، "نیا سمجھوتہ پورے شمالی امریکہ میں کسانوں، مویشی پالنے اور کاشت کاری کے بڑے رقبوں کے مالکان، کاروباروں اور محنت کشوں کے لیے زبردست فوائد کو یقینی بناتا ہے۔"