امریکہ افریقہ کا پسندیدہ شراکت دار بننا چاہتا ہے

بڑے بڑے کھمبوں پر لگی بجلی کی تاریں۔ (© Shutterstock)
(© Shutterstock)

ٹرمپ انتظامیہ امریکہ اور افریقہ کے مابین کاروباری شراکتیں استوار کر رہی ہے تاکہ دنیا کے دوسرے بڑے براعظم میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے نئے منصوبے شروع کیے جا سکیں۔

اس کا حاصل: امریکہ اور افریقہ کی برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ نئی ملازمتیں۔

جب 2019 میں امریکہ نے موزمبیق میں قدرتی مائع گیس کا پیداواری پلانٹ لگانے کے لیے پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تو اس موقع پر وزیر تجارت، ولبر راس نے کہا، "افریقہ میں امریکہ کی سرمایہ کاری نے ایک نئی فوری ضرورت سے نمٹنا شروع کر دیا ہے۔”

اس وقت راس نے کہا، "یہ انتہائی اہم منصوبہ نہ صرف امریکہ میں 10,000 ملازمتوں کے مواقعے پیدا کرنے میں مدد کے لیے امریکی کمپنیوں اور کارکنوں کی جیت ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس میں موزمبیق کے لوگوں کے لیے بھی مواقعے موجود ہیں۔”

یہ منصوبہ نئی شراکت کاری کی محض ایک مثال ہے جو کہ امریکی حکومتی ادارے خوشحال افریقہ پروگرام کے تحت شروع کیے ہوئے ہیں، جس میں افریقہ میں امریکی سفارت خانوں میں ’ڈیل ٹیمز’ یعنی سودا کار ٹیمیں قائم کرنا بھی شامل ہے۔ امریکہ کے خارجہ اور تجارت کے محکمے اس پروگرام کو فروری میں شروع کیے گئے گلوبل ڈیل ٹیم نامی پروگرام کے تحت وسعت دے رہے ہیں۔

ڈیل ٹیم کے تحت، وسائل کو اور درجن بھر ایسے امریکی اداروں کی مہارتوں کو ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے جو دنیا بھر میں امریکی کاروباری مواقعوں کو مہمیز دیتے ہیں۔

افریقہ میں سفارت خانوں میں قائم ڈیل ٹیموں میں پہلے ہی سے یہ سوچ، جس کی چند ایک مزید مثالیں ذیل میں دی جا رہی ہیں، کار فرما ہے:

  • عوامی جموریہ کانگو: جنرل الیکٹرک کمپنی کے توانائی منصوبے ملک میں 20 فیصد مزید توانائی پیدا کرنے میں مدد یں گے۔
  • ایتھوپیا: کوکا کولا کمپنی ملک میں اپنے کاروبار کو وسعت دے گی جہاں یہ پہلے ہی تین پلانٹس قائم کر کے 2200 ملازمتیں پیدا کر چکی ہے۔
  • سینی گال:شکاگو کی ویلڈی لمونٹ کمپنی سینی گال میں اُن 440,000 لوگوں تک بجلی کی سہولت پہنچائے گی جنہیں ابھی یہ سہولت میسر نہیں۔
  • روانڈا: ریاست ایلانائے میں روزمنٹ کی کلیگن انٹرنیشنل، روانڈا کے دارالحکومت کیگالی میں پینے کے پانی کی فراہمی کو تین گنا بڑہانے میں مدد کرے گی۔

امریکی تعاون سے چلنے والے اسی نوعیت کے دیگر پروگراموں اور ان منصوبوں سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی معیثتوں کو ترقی دینے میں مدد ملے گی۔

کرسیوں پر بیٹھے دو آدمی ہاتھ ملا رہے ہیں اور ان کے پیچھے، وزیر خارجہ اور دیگر افراد کھڑے ہیں۔ (State Dept./Ron Przysucha)
امریکہ اورسینی گا ل کے درمیان ایک نیا معاہدہ۔ پچھلی قطار میں بائیں سے دائیں: سینی گال میں امریکی سفیر ٹولینابو مشنگی، امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو، سینی گال کے وزیر برائے اقتصادیات امادو ہوٹ اور امریکہ میں سینی گال کے سفیر منصور ایلائی مین کین، پیش منظر میں دائیں طرف بیٹھے ویلڈی لمونٹ کے صدر پیٹرک ہینلی کو، بائیں طرف بیٹھے سینی لیک پیپ بٹائی کے ڈائریکٹر جنرل سے 16 فروری کو ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ (State Dept./Ron Przysucha)