امریکہ انسانی حقوق کی حمایت کرتا ہے

ایران کی سڑکوں پر مظاہرہ کرنے والے ایک بیٹے کو گولی مار دی جاتی ہے۔ چین میں انتخابات کا مطالبہ کرنے والے ایک شوہر کو جیل میں قید کرنے کے بعد مار مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ اور وینیز ویلا کے ایک شہری کو مادورو کی غیرقانونی حکومت کی طرف سے فاقہ زدہ لوگوں کے لیے بھجوائی جانے والی انسان دوست امداد پہنچانے کی اجازت نہ دینے کے خلاف مظاہرہ کرنے پر جیل میں بند کر دیا جاتا ہے جہاں وہ قید کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

یہ واقعات اُن واقعات میں شامل ہیں جن کا حوالہ امریکی محکمہ خارجہ کی 11 مارچ کو جاری کی جانے والی سال 2019 کی انسانی حقوق کی صورت حال کی انفرادی ممالک کی رپورٹوں میں دیئے گئے ہیں۔ اِن رپورٹوں کا یہ 44واں سال ہے۔ اس سال کی رپورٹوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی تقریباً 200 ممالک کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے اِن رپورٹوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ” ہماری قومی شناخت کے لیے، ہر ایک انسان کے حقوق اور وقار پر ہمارے اعتقاد سے بڑھکر کوئی اور چیز اہمیت نہیں رکھتی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ زندگی اور آزادی اور خوشی کے حصول کا تعلق محض امریکیوں سے ہی نہیں۔ اِن کا تعلق پوری دنیا کے کے انسانوں سے ہے۔”

ذیل میں سال 2019 کی رپورٹ میں بیان کیے گئے انسانی حقوق کی تسلسل سے خلاف ورزیاں کرنے والوں پر ایک نظر ڈالی گئی ہے:

چین کی کمیونسٹ پارٹی ثقافتی شناخت کو مٹانے کی مہم میں تواتر سے ویغوروں اور دیگر نسلی اقلیتوں کی نگرانی کرتی چلی جا رہی ہے اور انہیں حراست میں لے رہی ہے۔

© Ng Han Guan/AP Images کی تصویر پر چسپاں چین میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں تصویری خاکہ۔ (State Dept.)

اسلامی جمہوریہ ایران نے 2019 میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بڑھاوا دیا اور حکومت کی بدعنوانی اور بدانتظامی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے والوں کو ہلاک کیا۔

© AP Images کی تصویر پر چسپاں ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں تصویری خاکہ۔ (State Dept.)

نکولس مادورو کی غیرقانونی حکومت اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے ماورائے عدالت ہلاکتوں اور تشدد کا سلسلہ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اختلاف رائے رکھنے والوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے اور ہلاک کر رہی ہے۔

© Ariana Cubillos/AP Images کی تصویر پر چسپاں وینیزویلا میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں تصویری خاکہ۔ (State Dept.)

اِن رپورٹوں کے اجرا کے موقع پر پومپیو نے خاص طور پر انسانی حقوق کے ایک سرگرم رکن، ہوزے ڈینیئل فیرر کا ذکر کیا۔ ہوزے کا شمار کیوبا کے اُن ہزاروں سیاسی قیدیوں میں ہوتا ہے جنہیں حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے مارا پیٹا اور جیل میں قید کیا گیا ہے۔

پومپیو نے کہا، "ہم دعاگو ہیں کہ وہ دن آئے جب کیوبا، وینزویلا، چین، ایران کے (شہری) اور تمام لوگ اپنی حکومتوں کے خوف کے بغیر آزادانہ طور پر بات کرسکیں اور اکٹھے ہوسکیں۔ امریکہ گمشدہ لوگوں کو یاد رکھے ہوئے ہے اور اُن کی آزادی کی حمایت کرتا ہے۔”