امریکہ اورکینیڈا: خلا میں شراکت کار

امریکہ اور کینیڈا خلابازوں کی ایک نئی نسل کی حوصلہ افزائی کے لیے مل کر باہمی کوششیں کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک 1958ء میں امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کے قیام سے خلائی تحقیق میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کینیڈا دیگر خلائی کاوشوں کے علاوہ ناسا کے خلائی مشنوں پر خلاباز بھیجتا ہے اور بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے ٹکنالوجی فراہم کرتا ہے۔

30 برس تک خلائی شٹل کے پروگرام میں کام آنے والے روبوٹ نما بازو کی فراہمی کے بعد، 2019ء میں کینیڈا ناسا کے ‘لونر گیٹ وے‘ یعنی بابِ چاند نامی خلائی سٹیشن کے پراجیکٹ میں پہلا بین الاقوامی شراکت کار بن چکا ہے۔ تعمیر کے بعد یہ چھوٹا خلائی سٹیشن مریخ سمیت، چاند کے مدار میں مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے گردش کرے گا۔ کینیڈا کے روبوٹ نما بازو کا نام کینیڈا آرم تھری اور روبوٹ نما ہاتھ کا نام ڈیکسٹر ہے۔ اِن دونوں روبوٹوں سے خطرناک خلائی چہیل قدمیوں میں کمی آئے گی۔

ناسا کے منتظم جِم برائنڈ سٹائن نے کہا، "کینیڈا خلا میں استعمال کیے جانے والے روبوٹوں کی عالمی قیادت کرتا ہے اور اس نے ہبل خلائی دوربین کی مرمت اور بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی تعمیر میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔”

ایک آدمی راکٹ نما لباس پہنے ایک بچے کے ہمراہ فوٹو کھچوانے کے لیے تیار خلاباز کی تصویر لے رہا ہے۔ (State Dept./Mariah MacKeigan)
کینیڈین خلائی ادارے کے خلاباز جرمی ہینسن ایک متاثرکن خلاباز ہیں۔ وہ اوٹاوہ، کینیڈا میں چاند پر اترنے کی 50ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ (State Dept./Mariah MacKeigan)

نئے خلابازوں کی تلاش

امریکی سفارت کار ناسا، کینیڈا کے خلائی ادارے (سی ایس اے) اور کینیڈا کے تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر خلائی تحقیق سے متعلق طلبا کو حقیقی تجربات کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

2019ء میں اپالو 11 کی چاند پر اترنے کی 50ویں سالگرہ کے دوران، سائنس، ٹکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی (سٹیم) کے بارے میں تقریبات منعقد کرنے کےلیے سفارت کاروں نے کینیڈین عحاَئب گھروں کے ساتھ مل کر کام کیا۔

امریکہ اور کینیڈا کے سکول کے بچوں، خلائی صنعت کے نمائندوں اور متعلقہ حکومتی اہلکاروں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی کمانڈ کرنے والے امریکی کینیڈین خلاباز ڈریو فیوسٹل سے باتیں کیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے طلبا اور ناسا کے منتظم برینڈ سٹائن نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ایک پروگرام میں شرکت کی۔

2020 کے موسم گرما میں کینیڈین یونیورسٹیوں کے طلبا ناسا کی (NASA I²) ناسا آئی ٹو نامی بین الاقوامی انٹرن شپ پراجیکٹ کے لیے ناسا میں امریکہ کے ٹھکانوں پر انٹرن شپ کے مقابلے میں شامل ہوں گے۔

سی ایس اے کے صدر سلوین لاپورٹے امریکہ اور کینیڈا کی "خلائی شراکت کاری کو دو ممالک کے درمیان انتہائی کامیاب تعاون کی ایک انتہائی عمدہ مثال قرار دیتے ہیں۔”

برائنڈ سٹائن نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا، "چاند کی سطح اور خلا کے اندر بہت دورتک ہم اپنے مستقبل کے بارے میں … کینیڈا کے ساتھ کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔”