امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارت، اقتصادی ترقی اور باہمی روابط کو فروغ دیتی ہے

قطار کی شکل میں عورتیں ظعفران کے پھول چن رہی ہیں (USAID)
افغان عورتیں ظعفران اگاتی ہیں جسے امریکی اور بھارتی حکومتوں کے ذریعے قائم کی گئی شراکتوں سے بیچا جا سکتا ہے۔ (USAID)

بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت، جنوبی اور وسطی ایشیا میں عالمگیر معاشی ترقی اور صحت مند معیشتیں لے کر آئی ہے۔

امریکہ اور بھارت میں دو طرفہ تجارت کی طویل تاریخ دو سو برس پھیلی ہوئی ہے اور یہ مختلف شعبوں پر مشتمل ایک وسیع سلسلے کا احاطہ کرتی ہے۔

بھارت میں امریکہ کے سابق سفیر، کینتھ جسٹر نے 5 جنوری کو اپنے الوداعی خطاب میں کہا، “میں یہ بات مانتا ہوں کہ دنیا میں ایسے کوئی دو طرفہ تعلقات نہیں ہیں جو اتنے وسیع، پیچیدہ، اور اتنے زیادہ بامعنی ہوں جتنے کے امریکہ اور بھارت کے ہیں۔”

انہوں نے کہا، “ہم دفاع، انسداد دہشت گردی، ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ، سائبر سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ماحولیات، صحت، تعلیم، سائنس اور ٹکنالوجی، زراعت، خلا، سمندروں اور بہت سے دیگر (شعبوں میں) تعاون کرتے ہیں۔”

گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ اور بھارت کی تجارت میں اضافہ ہوا ہے اور امریکہ اب بھارت کا نمبر ایک تجارتی شراکت کار بن گیا ہے۔ 2001ء میں سامان اور خدمات کے تبادلے کی مالیت 20.7 ارب ڈالر تھی جو 2019ء کے آخر تک بڑھکر تقریباً 147 ارب ڈالر ہو گئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تجارتی پالیسی کو مزید آزاد بنانے سے اگلے پانچ سالوں میں دو طرفہ تجارت دوگنا ہوسکتی ہے۔

2019 میں ہندوستان میں مجموعی طور پر براہ راست امریکی سرمایہ کاری 46 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ تمام ذرائع سے امریکی سرمایہ کاری کی اصل رقم اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ امریکی کمپنیاں بھارت میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں بن چکی ہیں۔ یہ سرمایہ کاری بھارتیوں کے لیے ملازمتیں پیدا کرنے، صارفین کو اپنی پسند کے انتخاب کی آزادی، ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور معاشی بہتری لے کر آئی ہے۔ مثال کے طور پربھارت میں امریکی ای کامرس کمپنیاں تقریبا ایک بلین ڈالر مالیت کی اشیا امریکہ برآمد کرنے کی سہولتیں فراہم کر چکی ہیں۔

2017 سے بھارت کے لیے امریکہ، توانائی کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ 2016ء میں امریکہ کی بھارت کو خام تیل کی برآمدات صفر تھیں جو 2019ء میں بڑھکر 93 ملین بیرل ہوگئیں۔ اسی طرح 2016 سے 2019 کے درمیان مائع قدرتی گیس کی برآمدات میں پانچ گنا سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔

اس کا نتیجہ بھارت کے باضابطہ شعبے میں ملازمتوں، دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور تعلیمی تبادلوں کے مواقع اور بھارت کی ٹکنالوجی کی صنعت جیسے شعبوں میں ترقی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

بُوتھ کے سامنے چار آدمیوں نے مل کر فیتہ پکڑا ہوا ہے (USAID)
2017ء سے لے کر اب تک بھارت اور افغانستان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر امریکہ “خوشحالی کا راستہ” کے عنوان سے تین تجارتی میلوں کی سرپرستی کرچکا ہے۔ (USAID)

بھارتی کاروباری مالکان کی مدد کرتے ہوئے، امریکی کمپنیاں، وال مارٹ اور ایمیزون بھارت میں ای کامرس کے شعبے میں 23.7 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ حال ہی میں بھارت میں پہلی مرتبہ ایمیزون کے ذریعے کی جانے والی ای کامرس خرید و فروخت دو ارب ڈآلر ڈالر کی حد عبور کر گئی۔

خطے کے ممالک میں جڑت پیدا کرنے کے لیے امریکی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں بھارتی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رہی ہیں۔

سارے بھارت میں “اوپن ورچوئلائزڈ ریڈیو ایکسیس نیٹ ورک” (اوپن وی آر اے این) بنانے اور تقسیم کرنے کے لیے بھارت کی تین سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں، یعنی ایئرٹیل، جیو اور ووڈافون نے امریکی کمپنیوں الٹیوسٹار، سسکو اور ماوینیئر کے ساتھ شراکت کی۔ یہ نیٹ ورک محفوظ، اور موثر انداز سے  تیز رفتار فائیو جی انٹرنیٹ اور جڑت  لے کر آئے گا۔

جسٹر نے کہا، “سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوئی دوسرا ملک روزگار پیدا کرنے، صارفین کو اپنی پسند کے انتخاب کی آزادی، ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور بھارت کے لیے معاشی بہتری میں اتنا زیادہ حصہ نہیں ڈالتا۔”

افغانستان سمیت، امریکہ اور بھارت کی کاروباری شراکت داری سے دیگر ممالک کو بھی فائدے پہنچے ہیں۔

ٹوئٹر

یو ایس ایڈ افغانستان

یو ایس ایڈ کی سرپرستی میں “خوشحالی: 2018ء میں ہونے والے بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شو” کو آگے بڑہاتے ہوئے، آج صحت کی تین بھارتی تنظیموں نے افغانستان کی صحت کی ایک کمپنی کے ساتھ تجارتی معاہدوں  پر دستخط کیے۔

2017ء سے امریکہ کا بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ  (یو ایس ایڈ) اپنے “خوشحالی کا راستہ” نامی پروگرام کے تحت بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کو بڑھانے میں مدد کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس سلسلے میں افغانستان میں بھارتی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے تجارتی شو منعقد کیے جاتے ہیں۔

بھارت اور افغانستان کے درمیان ہونے والے زیادہ تر تجارتی معاہدوں کا تعلق زراعت سے چلا آ رہا ہے۔ 2019ء میں  3.6 ملین ڈالر کے زرعی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ زراعت کے شعبے میں اور سنگ مرمر جیسی دیگر مصنوعات، دونوں میں دو طرفہ تجارت کو بڑہانے کے زبردست امکانات موجود ہیں۔

اِن معاہدوں سے خاص طور پر عورتوں کو فائدہ پہنچا۔ 2019ء کے “خوشحالی کا راستہ” نامی تجارتی شو میں ہونے والے تمام تجارتی معاہدوں میں سے تقریباً ایک چوتھائی معاہدے عورتوں کی ملکیتی کمپنیوں نے کیے۔

اپنے اختتامی کلمات میں جسٹر نے کہا، “امریکہ نے اس خطے  — اور بھارت کے ساتھ جڑے رہنے کا عزم کیا ہوا ہے کیونکہ ہمارا مستقبل اس سے ناقابلِ جدا طریقے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا پختہ عہد ہے جسے ہمارے شہریوں، ہمارے مشترکہ جمہوری اصولوں، ہمارے مشترکہ مفادات، اور ہمارے معاشی اور تجارتی تعلقات کی حمایت حاصل ہے۔”