امریکہ اور بین الاقوامی شراکت کاروں کا ہدف: بیجنگ کا ویغروں پر ظلم و وستم

لوگوں نے کتبہ اٹھا رکھے ہیں جن پر لکھا ہے: 'ویغر نسلی کشی' (© Jacquelyn Martin/AP Images)
یکم اکتوبر 2020 کو لوگ ویغروں کی جبری مشقت کی روک تھام کے قانون کی حمایت میں وائٹ ہاؤس کے سامنے کھڑے ہیں۔ (© Jacquelyn Martin/AP Images)

شنجیانگ میں ویغروں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر امریکہ اور بین الاقوامی شراکت دار عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) کے اعلی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

22 مارچ کو وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے عالمگیر میگنٹسکی پابندیوں کا اعلان کیا۔ کینیڈا، برطانیہ اور یورپی یونین کے ساتھ مل کر یہ پابندیاں پی آر سی کے اُن دو اداروں کے اعلی عہدیداروں کے خلاف لگائی گئی ہیں جو شنجیانگ میں ویغروں اور اُن نسلی اقلیتوں کے خلاف بیجنگ کی جابرانہ پالیسیوں پرعمل کرتے ہیں جن کی اکثریت مسلمان ہے۔

ایک بیان میں بلنکن نے کہا، “دن بدن بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مذمت کے باوجود، پی آر سی شنجیانگ میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہم پی آر سی کے جرائم کے فوری خاتمے اور بہت سارے متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے کی خاطر دنیا بھر میں اپنے حلیفوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔”

نئی امریکی پابندیوں میں سنکیانگ پبلک سیکیورٹی بیورو (ایکس پی ایس بی) کے ڈائریکٹر، چن منگگیو کو اور سنکیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور (ایکس پی سی سی) کے پارٹی سکریٹری، وانگ جنزینگ کو نشانہ بنایا ہے۔ ایکس پی سی سی کو پی آر سی کے اعلی لیڈروں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ اس کمپنی کو شنجیانگ میں 20 فیصد معاشی سرگرمیوں پر اختیار حاصل ہے۔

2017ء سے لے کر اب تک پی آر سی دس لاکھ سے زائد ویغروں اور مسلمان اقلیت سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کو شنجیانگ کے حراستی کمپوں میں نظربند کر چکا ہے۔ جبر کی اس مہم کے تحت ویغروں کو جبری مشقت اور اجتماعی نگرانی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اقلیتی عورتوں کو جبری نس بندی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ، ڈومنیک راب نے ایکس پی ایس بی کے چار اعلی عہدیداروں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے 22 مارچ کے ایک بیان میں کہا، ” شنجیانگ میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کے ثبوتوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے، ہم (اِن خلاف ورزیوں کے) ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے لیے اہدافی پابندیاں لگا رہے ہیں۔”

کینیڈا کے وزیر خارجہ، مارک گارنو نے پی آر سی سے ویغروں کے خلاف ایک نظام کے تحت کیے جانے والے ظلم و ستم کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے 22 مارچ کے بیان میں کہا، “شنجیانگ میں چینی ریاست کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی انتہائی سنگین خلاف ورزیوں سے ہمیں گہری تشویش ہے۔”

یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا نے پی آر سی کے کئی ایک ایسے اداروں یا عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں جن پر ایکس پی سی سی اور شنجیانگ میں پارٹی کے سابقہ ڈپٹی سیکرٹری، زو ہلین سمیت امریکہ پہلے ہی پابندیاں لگا جا چکا ہے۔

اِن پابندیوں کے تحت عہدیداروں اور اداروں کے اثاثے منجمد ہو جاتے ہیں اور عہدیدار امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین یا کینیڈا کا سفر نہیں کر سکتے۔ پابندیاں لگانے والے ممالک کے شہری پابندیوں کے زد میں آنے والوں کے ساتھ کاروباری لین دین بھی نہیں کر سکتے۔

بلنکن، راب اور گارنو نے 22 مارچ کو ایک مشترکہ بیان میں کہا، “ہم شنجیانگ میں ویغر مسلمانوں اور دیگر نسلی اور مذہبی گروہوں کے اراکین کے خلاف چین کے جابرانہ طرز عمل کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے میں متحد ہیں۔ ہم چین کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالنے کے لیے مل کر کھڑے رہیں گے۔”