امریکہ اور جاپان کے تبادلوں سے بحر ہند اور بحرالکاہل کی دوستی

صدر ٹرمپ کے 25 مئی کو شروع ہونے والے جاپان کے دورے سے جاپان اور امریکہ کے درمیان مضبوط بندھن اجاگر ہوں گے۔.

اِن بندھنوں میں TOMODACHI [ٹوموڈاچی] جیسے عوامی پروگرام  بھی شامل ہیں۔

11 مارچ 2011 کو ٹوہوکو کے زلزلے اور سونامی کے بعد امریکہ نے "آپریشن ٹوموڈاچی” یا "دوستی کے آپریشن” کے تحت 9 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا امدادی سامان فراہم کیا۔ مگر اُس وقت کے امریکی سفیر، جان رُوس اس سے بڑھکر کچھ کرنا چاہتے تھے۔

امریکی اور جاپانی نوجوانوں کو آپس میں جوڑنے کے پروگرام کا خیال پہلے پہل اس سونامی میں تباہ ہونے والے شہر ریکوزینتاکاٹا کے میئر کے ذہن میں آیا۔ اُنہیں امید تھی کہ امریکہ نوجوانوں کو مستقبل سے جڑی اُن کی امیدوں کو بحال کرنے کے لیے صلاحیتیں پیدا کرنے  پر توجہ مرکوز کرے گا۔

ٹوموڈاچی منصوبے کا تعلق تعلیمی تبادلے اور قیادت کے ایک پروگرام سے ہے۔ جاپان میں امریکی سفارت خانہ اور ایک غیر منفعتی ادارہ، امریکہ – جاپان کونسل، مشترکہ طور پر اس پروگرام کو چلاتے ہیں۔

Students wearing TOMODACHI t-shirts seated in room (State Dept.)
ٹوموڈاچی کے شرکاء ٹوکیو میں امریکی سفیر کی رہائش گاہ میں 2013ء میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران۔ (State Dept.)

آج تک،6,000  جاپانی اور امریکی نوجوان ٹوموڈاچی کے 250 پروگراموں میں سے کسی نہ کسی پروگرام میں شرکت کر چکے ہیں۔ اِن میں مندرجہ ذیل پروگرام بھی شامل  ہیں:-

  • ٹومو ڈاچی ہونڈا تبادلے کے ثقافتی پروگرام کے تحت سونامی سے متاثرہ علاقے کے ثانوی سکولوں کے طالب علموں کو  ثقاتفتی تبادلے کی خاطر دو ہفتوں کے لیے لاس اینجلیس بھیجا جاتا ہے۔
  • ٹوموڈاچی یونیقلو فیلو شپ کے تحت جاپانی طالب علموں کو نیویارک اور کیلی فورنیا کے سکولوں میں کاروبار اور فیشن کے شعبوں میں ڈگریاں حاصل کرنے کے لیے سکالر شپ دیئے جاتے ہیں۔
  • ٹومو ڈاچی میٹ لائف کے عورتوں کی قیادت کے پروگرامکے تحت سرپرست خواتین کو ایسی ورکشاپوں کے ذریعے جاپان میں اُن کے شاگردوں کے ساتھ ملایا جاتا ہے جن کا ہدف پیشہ وارانہ ترقی ہوتا ہے۔ یہ پروگرام واشنگٹن اور نیویارک کے دوروں پر منتج ہوتے ہیں جن کے دوران نوجوان خواتین کی با اثر خواتین لیڈروں سے ملاقاتیں کرائی جاتی ہیں۔

ہر ایک پروگرام کی سرپرستی کوئی شراکت کار کمپنی یا غیرمنفعتی تنظیم کرتی ہے۔ اس پروگرام کے پہلے سال میں امریکی اور جاپانی کمپنیوں نے ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کے عطیات دیئے۔

جاپان میں امریکہ کے موجودہ سفیر ولیم ہیگرٹی نے عطیات دہندگان کو دسمبر 2017 میں ہونے والی ایک تقریب میں بتایا کہ "ٹوموڈاچی دونوں ممالک کے درمیان عوامی رابطے کو مضبوط بنانے والا ایک سرکردہ ادارہ بن چکا ہے۔ آج تک اس پروگرام کے تحت 6,000 افراد کو بحرالکاہل کے آرپار امریکہ سے جاپان اور جاپان سے امریکہ بھجوایا جا چکا ہے۔ … آپ کی توانائی، آپ کا وقت زندگیوں میں تبدیلیاں لا رہے ہیں اور امریکہ اور جاپان کے تعلقات کی اساس کو مضبوط بنا رہے ہیں۔”

Young people conversing over chart on desk (YSEALI)
جنوب مشرقی ایشیا کے نوجوان طالب علموں کے پروگرام کے انڈونیشیائی شرکاء سال 2019 کے ماحول دوست سیاحت کے دن کے موقع پر ایک منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔ (YSEALI)

ٹوموڈاچی پروگرام اُن بہت سے پروگراموں میں سے محض ایک پروگرام ہے جو امریکہ بحر ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں چلا رہا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کے نوجوان لیڈروں کے پروگرام، ( YSEALI) وائی سیلی کے تحت خطے کے نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں پروان چڑہائی جاتی ہیں۔ اس کے تحت مختلف قسموں کے پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں جن کا مقصد امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ہوتا ہے۔ وائی سیلی پروگرام جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی تنظیم آسیان کے رکن ملکوں کے 18 سے 35 سال کی عمر کے جوانوں کے لیے ہے۔ آج 152,000 نوجوان لیڈر اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

ٹوموڈاچی اور وائی سیلی پروگراموں میں ماضی میں شرکت کرنے والے اراکین کو 2019ء کے اواخر میں ایک جگہ  اکٹھا کرنے کا پروگرام ہے۔ اس کا مقصد بحرہند اور بحر الکاہل میں بندھنوں کو اور بھی زیادہ مضبوط کرنے کی خاطر ماضی میں امریکہ کے تبادلوں کے پروگراموں کے تحت امریکہ آنے والوں کے مابین میل جول پیدا کرنا ہے۔