امریکہ اور جرمنی کی پابندیوں سے ایران کی ماھان ایئر پر دباؤ میں اضافہ

جرمنی میں امریکہ کے سفیر رچرڈ گرینل نے کہا ہے کہ جرمنی کا ماھان ایئر کے جرمنی کے ایئرپورٹوں پر اترنے کے حقوق کو منسوخ کرنا "ایک واضح پیغام بھیجتا ہے یعنی: ایران کو مشرق وسطٰی، یورپ اور دنیا بھر میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اپنی حمایت کو ختم کرنا ہوگا۔”

ایئرلائن کے اسد حکومت کو سہارا دینے اور جرمنی کے اپنی سلامتی کے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے جرمنی کی وزارت خارجہ نے 21 جنوری کو ایئر لائن کو جرمن ایئرپورٹوں تک رسائی دینے سے انکار کر دیا۔ ماھان ایئر لائن ڈسلڈورف اور میونخ کے لیے باقاعدہ پروازیں چلاتی تھی۔

فوکس نیوز کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں گرینل نے کہا کہ جرمنی کا اقدام شام میں "اسد حکومت کے لیے کام کرنے والے دہشت گرد آلہ کاروں کی ایرانی حکومت کی مدد میں آسانیاں پیدا کرنے میں اس ایئرلائن کے کردار کو تسلیم کرتا ہے۔” اس کے ساتھ ساتھ  یہ اقدام حزب اللہ اور لبنان سمیت خطے میں دیگر دہشت گرد تنظیموں میں ایران کی پشت پناہی کو بھی تسلیم کرتا ہے۔

24 جنوری کو امریکہ کے محکمہ خزانہ نے ماھان ایئر کی ملکیت اور اس کے زیر انتظام چلنے والی "قشم  فارس ایئر” اور ماھان ایئر کے لیے آرمینیا میں کام کرنے والی "فلائٹ ٹریول ایل ایل سی” نامی ایجنسی پر پابندی لگا دی۔

پہلے پہل امریکہ نے ماھان ایئر پر 2011 میں پابندی لگائی تھی۔ شام میں 2012 میں خانہ جنگی کے بعد سے ماھان ایئر اسد حکومت کو سہارا دے کر دہشت گردی پھیلانے میں مدد کر رہی ہے اور ایرانی حکومت کے جنگجوؤں اور ہتھیاروں کو مشرق وسطٰی کے طول و عرض میں پہنچا رہی ہے۔

گرینل کہتے ہیں، "دنیا بھر میں ماھان ایئر کی مسلسل پروازوں سے ایئر لائن کوجعلی قانونی حیثیت ملتی ہے۔ اس حیثیت کی وجہ سے ماھان ایئر کی اپنے سب سے زیادہ وفادار گاہک یعنی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کی اٹل حمایت سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔”