امریکہ اور لیبیا کی لیبیائی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے شراکت کاری

لیبیا کے آثارقدیمہ کے خزانوں کا شمار  دنیا کے عظیم اور قدیم ترین خزانوں میں ہوتا ہے۔ اِن میں سائرین سے لے کر دنیا میں اس وقت موجود قدیم ترین شہرغدامس تک کا پرانا شہر شامل ہیں۔ امریکہ اور لیبیا مل کر یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ نوادرات لیبیا کے اندر موجود رہیں اور انہیں لوٹ مار کرنے والوں اور دہشت گردوں کی پہنچ سے باہر رکھا جائے۔

Two men seated signing a document (State Dept.)
محکمہ خارجہ کے سٹیون گولڈ سٹائن، دائیں اور لیبیا کی وزارت خارجہ کے لطفی المغربی ثقافتی املاک کے تحفظ کے ایک سمجھوتے پر دستخط کر رہے ہیں۔ (State Dept.)

دونوں حکومتوں نے حال ہی میں ایک انتہائی اہم سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت آثارقدیمہ اور ثقافتی اہمیت  کی مخصوص اشیا کو سرکاری دستاویزات کے بغیر لیبیا سے امریکہ لانے کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔ اِس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے امریکہ کے کسٹمز اور سرحدوں کے تحفظ کے اہلکار ایسی اشیا کو ضبط کر لیں گے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار، سٹیون گولڈسٹائین نے 23 فروری کو اس سمجھوتے پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھوتہ " امریکہ اور لیبیا کی مشترکہ شراکت کاری کو لیبیا سے تعلق رکھنے والی ثقافتی اشیا کی لوٹ مار اور غیر قانونی کاروبار کے سدباب کو مضبوط بناتا ہے۔"

امریکہ نے 17 ممالک کے ساتھ غیرقانونی طور پر برآمد کی جانے والی ثقافتی املاک کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں متعلقہ ممالک کو واپس کرنے ک سمجھوتے کر رکھے ہیں۔ ثقافتی املاک کے اِن سمجھوتوں کا مطلب مندرجہ ذیل  ہے:

  • لوٹ کھسوٹ کی حوصلہ افزائی کرنے والے امور کو کم کرنا۔
  • ملکوں کی اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مدد کرنا۔
  • بین الاقوامی عجائب گھروں اور ثقافتی اداروں کے مابین شراکت داری اور اشیا کے تبادلے کو بڑھانا۔
Broken walls, columns and rocks (© Giuseppe Masci/AGF/UIG/Getty Images)
لگ بھگ 630 قبل مسیح یونان کی ایک نوآبادی کے طور پر بسایا جانے والا سائرین کا شہر، آج لیبیا کے مشرقی ساحل پر آثارقدیمہ کے اہم مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2016 میں یونیسکو نے سائرین کو "خطرات سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست" میں شامل کیا۔ (© Giuseppe Masci/AGF/UIG/Getty Images)

لیبیا کی ثقافتی دولت کو لاحق خطرات

کئی سالوں سے جاری عدم استحکام اور تشدد کی وجہ سے لیبیا کے شاندار ثقافتی مقامات کو منظم مجرمانہ بین الاقوامی گروہ آہستہ آہستہ مگر تسلسل کے ساتھ لوٹتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ لوٹی ہوئی قیمتی اور نادر اشیا کو غیرقانونی طور پر بیچتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کے لیے پیسے حاصل کرتے ہیں۔ ایسے میں جو اشیا خطرات کا شکار ہیں اِن میں پچی کاری والی شاہی رومی نوادرات اور دیواروں پر لگائی جانے والی پینٹنگز، سنگ مرمر اور پتھر کے بنے ہوئے یونانی مجسمے، اور مساجد کے چراغوں، عربی تحریر والے سکوں اور مٹی کے برتنوں سمیت اسلامی نوادرات شامل ہیں۔

'یہ کوئی آسان کام نہیں ہے'

اس سمجھوتے پر دستخط کرنے کے موقع پر لیبیا کی حکومت کے ایک اہل کار، لطفی المغربی نے ترجمان کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا، "لیبیا میں سکیورٹی کی مشکل صورت حال اور سیاسی تقسیم کے نتیجے میں ملک نے اپنی آثارقدیمہ اور ثقافت کی بہت بڑی دولت گنوا دی ہے۔" امریکہ سمیت، بین الاقوامی برادری لیبیا کی چرائی جانے والی املاک کی بازیابی کے ساتھ ساتھ مزید لوٹ مار کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ المغربی نے کہا، "تاہم، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔"

المغربی نے بتایا کہ وہ ابھی ابھی سپین سے واپس لوٹے ہیں جہاں لیبیا کی نوادرات کی ایک بڑی تعداد کا سراغ لگایا گیا ہے۔ لیبیا اور سپین کی حکومتیں اِن نوادرات کو لیبیا واپس لانے پر کام کر رہی ہیں۔ المغربی نے کہا، "اب ہمارا ہدف لیبیا میں استحکام لانا اور سلامتی کو بحال کرنا ہے اور تمام دہشت گرد اور مجرمانہ گروہوں پر مالی امداد کے تمام دروازے بند کرنا ہیں تا کہ اُن کا قلع قمع کیا جا سکے اور اُن کے وجود کو ختم کیا جا سکے۔"

گولڈ سٹائن نے کہا، "ہماری حکمت عملی بڑی واضح ہے۔ ثقافتی ورثے کی غیرقانونی تباہی اور ثقافتی املاک کا غیر قانونی کاروبار ناقابل قبول ہیں۔"