اپنے متنوع تعلیمی شعبے کی وجہ سے دنیا میں تعلیم حاصل کرنے والے بین الاقوامی طلبا کی اولین منزل، امریکہ ہے۔

اوپن ڈور رپورٹ کے مطابق مسلسل پانچویں برس امریکہ نے 2019 – 2020 کے تعلیمی سال میں دس لاکھ سے زائد بین الاقوامی طلبا کی میزبانی کی۔ یہ رپورٹ بین الاقوامی تعلیم کے انسٹی ٹیوٹ ( آئی آئی ای) اور امریکی محکمہ خارجہ کے تعلیمی اور ثقافتی بیورو نے تیار کی ہے۔

اوپن ڈور رپورٹ کے اجرا سے اکیسویں سالانہ بین الاقوامی تعلیمی ہفتے (آئی ای ڈبلیو) کا آغاز ہوا۔ یہ ہفتہ امریکہ کے خارجہ اور تعلیم کے محکموں کا بین الاقوامی تعلیم اور دنیا کے ممالک کے مابین تبادلے کے باہمی فوائد کو اجاگر کرنے کا ایک مشترکہ پروگرام ہے۔

محکمہ خارجہ کے تعلیمی اور ثقافتی بیورو کی اسسٹنٹ سیکرٹری، میری روائس نے کہا، ” عالمی وبا سے پہلے مسلسل پانچویں برس دس لاکھ سے زائد بین الاقوامی طلبا کو امریکہ میں دیکھ کر ہماری حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔”

"ہمیشہ کی طرح بین الاقوامی طلبا کا تحرک آج بھی اہم ہے اور ہم سمجھتے ہیں  کہ طلبا کے لیے تعلیم حاصل کرنے اور اپنی ڈگریاں لینے کے لیے امریکہ بہترین ملک ہے۔ تعلیم ایک عظیم تر مستقبل کا ذریعہ ہے اور بین الاقوامی تبادلے  طلبا کی مستقبل کی راہیں تبدیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔”   محکمہ خارجہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری، میری روائس  

 

 

2019 – 2020 کے تعلیمی سال کے دوران، چین، بھارت اور جنوبی کوریا سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے سب سے زیادہ بین الاقوامی طلبا امریکہ آئے۔ گزشتہ تعلیمی سال کے مقابلے میں اس برس بنگلہ دیش کے طلبا کی تعداد میں 7 فیصد اور نائجیریا کے طلبا کی تعداد میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا۔

اس رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی طلبا میں تعلیم کے لیے مقبول ترین ریاستیں، کیلی فورنیا اور نیویارک تھیں۔ بین الاقوامی طلبا کی تیسرا اور چوتھا انتخاب ٹیکساس اور میساچوسٹس کی ریاستیں تھیں کیونکہ یہاں چوٹی کی یونیورسٹیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

آدھے سے زائد بین الاقوامی طلبا نے سائنس، ٹکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے شعبوں میں ڈگریاں حاصل کیں۔ اس کے بعد زیادہ طلبا نے کاروبار اور انتظام کاری اور سماجی سائنسز کے شعبوں میں ڈگریاں لیں۔

تاہم ایس ٹی ای ایم میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے واحد منزل امریکہ ہی نہیں ہے۔ اس برس فنون لطیفہ اور اطلاقی فنون کی تعلیم حاصل کرنے والے بین الاقوامی طلبا میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی اثنا میں، امریکی طلبا کی ایک روز افزوں تعداد انڈر گریجوایٹ پروگراموں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرونی ممالک کا رخ کر رہی ہے۔ 2018 – 2019 کے تعلیمی سال کے دوران 347,000 امریکی طلبا نے بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کی۔ اس سے پہلے سال کی تعداد کے مقابلے میں یہ تعداد 1.6 فیصد بڑھی ہے۔

امریکی طلبا کے چوٹی کے انتخاب برطانیہ اور اٹلی تھے جبکہ سپین اور فرانس کا نمبر ان کے بعد آتا ہے۔

تاہم جنوبی کوریا میں تعلیم حاصل کرنے والے امریکی طلبا کی تعداد میں گزشتہ تعلیمی سال کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی طلبا کی یورپ سے باہر تعلیم حاصل کرنے کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

2019 – 2020 کی اوپن ڈور رپورٹ دنیا بھر میں تعلیم کو متاثر کرنے والی کووڈ19 کی عالمی وبا سے پہلے تیار کی گئی تھی۔

آئی آئی ای کے صدر اور چیف ایگزیکٹو، ایلن گڈمین نے بتایا کہ یہ یقین کرنے کے پیچھے ایک وجہ ہے کہ آخر کار اس عالمی وبا کے بین الاقوامی تعلیم پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

آئی آئی ای کی 101 سالہ تاریخ میں کووڈ-19 بارھویں عالمی وبا ہے۔ آئی آئی ای نے ماضی کی وباؤں میں بین الاقوامی تعلیم میں رحجانات پر غور کیا اور یہ پتہ چلا کہ عالمی وبا کے بعد بین الاقوامی تبادلے تیزی سے بحال ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "گو کہ عالمی وبائیں شدید مشکلات اور افراتفری کا سبب بنتی ہیں، تاہم قنوطیت پسندی کی بڑی مضبوط وجوہات بھی ہیں۔ ہر ایک (وبا) کے بعد، بین الاقوامی تعلیم کے تبادلے تیزی سے بحال ہو جاتے ہیں اور طلبا کی تعداد میں اچھا خاصا اضافہ ہوتا ہے۔”