امریکہ تعلیمی آزادی کا تحفظ کیسے کرتا ہے

ارد گرد پھیلے سائنسی آلات، کاغذات کے درمیان اور تختہ سیاہ کے سامنے دو افراد۔ (© Bill Denison/Drew University/Getty Images)
دائیں جانب کھڑے، ولیم کیمپبل طب کے شعبے کے نوبیل انعام یافتہ ہیں۔ تصویر میں وہ ڈریو یونیورسٹی کے ایک طالب علم کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ (© Bill Denison/Drew University/Getty Images)

پوری دنیا کے طلباء امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔ امریکی یونیورسٹیوں کا شمار دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔

امریکی اداروں نے اتنا اعلی مقام کیسے حاصل کیا؟ اس کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد امریکہ کی تعلیمی آزادی سے دیرینہ وابستگی ہے۔

1940 وہ زمانہ تھا جب دنیا کے بیشتر حصوں میں نازی جارحیت آزادی کے لیے خطرہ بن چکی تھی۔ اس وقت امریکی یونیورسٹیوں کے پروفیسرون کی ایسوسی ایشن (اے اے یو پی) نے اعلان کیا کہ “سچائی کے فروغ کے لیے تحقیق کی آزادی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔”

اے اے یو پی نے کہا، “مشترکہ بھلائی کا انحصار سچائی کی آزاد تلاش اور اس کے کھلے بندوں اظہار پر ہے۔”

عظیم سائنسی دریافتوں کے پیچھے سچ کے متلاشی آزاد ذہن کارفرما ہوتے ہیں۔ امریکیوں نے طبیعیات، طب اور کیمسٹری میں آدھے اور اقتصادیات کے تقریبا تین چوتھائی نوبیل انعام حاصل کیے ہیں۔ اِن نوبیل انعام یافتہ امریکیوں میں سے کم وبیش ایک تہائی امریکی یونیورسٹیوں سے وابستہ تارکین وطن ہیں۔

آزادانہ طور پر پڑھنے، سیکھنے، تعاون کرنے اور شائع کرنے کی استعدادیں عظیم ذہنوں کو جدت طرازی کے قابل بناتی ہیں جس سے ہم سب کو فائدہ پہنچتا ہے۔

تعلیمی آزادی کے لیے ایک مشکل؟

تعلیمی آزادی امریکہ میں تعلیم اور تحقیق کے شعبے کی بنیاد ہے۔ یہ دنیا بھر کے تعلیمی شعبوں کی وہ مشترکہ قدر ہے جس کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مشترکہ قدر کو ترجیح نہ دینے والی قومیں تعلیمی آزادی کو خطرات، چوری، اور دھمکیوں کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ اِن سب کا مقصد اپنے فوجی اور انٹیلی جنس کے شعبوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔

یونیورسٹیاں اُس وقت آزاد نہیں ہوتیں جب حکومتیں:

  • بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے اپنے شہریوں کو ایسی حساس ٹیکنالوجیاں یا حیاتیاتی مواد چوری کرنے میں تعاون کرنے پر مجبور کرتی ہیں جن کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہو۔
  • تحقیق کرنے والوں کو سرکاری اداروں کے ساتھ اپنے روابط کو چھپانے کا حکم دیتی ہیں۔
  • بیرونی ممالک میں اپنے طالب علموں کے اظہار رائے کی نگرانی کرتی ہیں۔
  • “سیاسی لحاظ سے حساس” موضوعات کی تحقیق پر پابندی لگانے کی اہلیت کے بدلے پیسوں کی شکل میں عطیہ دیتی ہیں۔

تعلیمی آزادی کو تحفظ دینے کے لیے امریکی یونیورسٹیاں کیا کر رہی ہیں؟ حالیہ مہینوں میں:

  • ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر پر ایک غیرملکی حکومت سے پیسوں کی وصولیوں کو چھپانے پر باضابطہ طور پر مقدمہ قائم کیا گیا۔
  • سٹوڈنٹ ویزے کے حصول کے خواہاں ایک بین الاقوامی طالب علم پر اپنے غیرملکی فوجی روابط کے بارے میں جھوٹ بولنے اور امریکہ کی جاسوسی کرنے کی فرد جرم عائد کی گئی۔
  • تحقیق کرنے والے ایک طالب علم کو حیاتیاتی تحقیق (کے مواد والی) امتحانی نلیاں چوری کرنے اور امریکہ سے باہر سمگل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
  • پورٹ لینڈ سٹیٹ یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے اپنی یونیورسٹی کو کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کو یہ علم ہونے کے بعد بند کرنے کی درخواست دی کہ اساتذہ نے “ایسے موضوعات سنسر کیے جنہیں چینی حکومت پسند نہیں کرتی۔” اس سے اساتذہ کا مقصد (چینی وزارت تعلیم سے وابستہ تنظیم) ‘ہین بن’ کی ناراضگی سے بچنا تھا۔

اس سے بہت پہلے 1989 میں، امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے کچھ چینی طلباء نے تیاننمن سکوائر میں کیے جانے والے قتل عام کی مذمت کی تھی۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے ان طلبا کو دھمکی دی کہ اگر وہ ملک واپس آئے تو انہیں سزائیں دی جائیں گی۔ تاہم کانگریس نے چینی طلباء کے تحفظ کا ایک قانون منظور کیا تاکہ انتقامی کاروائیوں سےبچنے کے لیے طلبا کو امریکہ میں سیاسی پناہ لینے کی اجازت ہو۔

اِن اقدامات کا اُن چند ایک طریقوں میں شمار ہوتا ہے جس سے امریکہ تعلیمی آزادی کے حق میں کھڑا ہوتا ہے۔

امریکی یونیورسٹیوں میں بیرونی ممالک کے محققین اور طلبا کا امریکہ ہمیشہ خیرمقدم کرتا رہے گا۔ اس سلسلے میں امریکی حکومت اور نجی ادارے تبادلے کے بہت سے پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں۔ خیالات اور بصیرت کے آزاد مکالمے سے ہر ایک کو فائدہ پہنچتا ہے۔ یہی علمی آزادی ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا ہر ایک کو دفاع کرنا چاہیے۔

پیدل چلتے ہوئے دو افراد کی تصویر پر چسپاں امریکہ میں چینی طلبا کی تعلیمی آزادی کے بارے میں پومپیو کا بیان۔ (© Jessica Hill/AP Images)