امریکہ تیل پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا

روس اور سعودی عرب ایک طرف ہٹ جائیں۔ متوقع طور پر امریکہ 2023 تک دنیا میں کسی بھی ملک سے زیادہ تیل پیدا کر رہا ہو گا۔

جیسا کہ نیچے دیئے گئے چارٹ سے ظاہر ہوتا ہے امریکہ دنیا کے چوٹی کے تیل پیدا کرنے والے ممالک، روس اور سعودی عرب کے مقابلے میں یومیہ بہت حد تک کم تیل پیدا کرتا تھا۔ مگر اس سال امریکہ کی تیل کی پیداوار 10.6 ملین بیرل یومیہ ہو جائے گی۔ یہ مقدار آج تک ریکارڈ کی جانے والی مقدار کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہو گی۔

صدر ٹرمپ نے 2017 میں کہا،" 40 سال سے زیادہ عرصے تک امریکہ ایسی غیرملکی حکومتوں کے رحم و کرم پر تھا جنہوں نے توانائی کو معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم نئی ایجادات اور ٹیکنالوجی کی بدولت اب توانائی کا حقیقی انقلاب ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔"

یہ تبدیلی آنے کو ہے۔ آئندہ تین برسوں میں امریکہ عالمی سطح پر توانائی کی طلب میں اضافے کا 80 فیصد فراہم کرنے کے قابل ہو گا۔ عالمی توانائی ایجنسی کو توقع ہے کہ 2023 تک امریکہ روزانہ 17 ملین بیرل سے زیادہ تیل اور گیس پیدا کرے گا جس سے  دیگر تمام ممالک پیچھے رہ جائیں گے۔

امریکہ کی جانب سے توانائی کی زیادہ پیداوار دنیا بھر کے ایسے ممالک کے لیے فائدہ مند ہے جو آزاد اور کھلی منڈی سے تیل اور گیس کی قابل اعتبار ترسیل کے خواہاں ہیں اور یہ گویا امریکی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے ایک تحفہ ہو گا۔

Chart showing petroleum production by United States, Russia and Saudi Arabia from 2008 to 2016

توانائی کے شعبے میں یہ ترقی 'امریکی شیل انقلاب' کی مرہون منت ہے جسے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے شیل چٹانوں سے تیل اور گیس نکالنے والی کمپنیوں نے مہمیز دی ہے۔ نئے اور غیرروایتی طریقہائے کار کو افقی کھدائی، پانی کے ذریعے چٹانیں توڑنا یا عام زبان میں 'فریکنگ' کہتے ہیں۔ آج کل امریکہ میں خام تیل کی نصف سے زیادہ پیداوار اسی طریقے سے حاصل کی جاتی ہے اور گزشتہ دہائی میں اس طریق کار کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ (2008 میں امریکہ میں تیل و گیس کی مجموعی پیداوار کا صرف 7 فیصد اس طریقے سے حاصل ہوتا تھا۔)

عالمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر فاتح بیرول نے جنوری میں سینیٹ کے ایک پینل کو بتایا، "نئے وسائل تک رسائی کے لیے پیداکاروں کی غیرمعمولی اہلیت کی بدولت، ارزاں طور سے امریکہ میں تیل اور گیس کی مجموعی پیداوار 2040 میں اس سطح پر پہنچ جائے گی جو کسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے کسی بھی وقت حاصل شدہ پیداوار سے 50 فیصد زیادہ ہو گی۔ یہ ایک متاثرکن کارنامہ ہے جس میں کوئی مبالغہ نہیں ہو سکتا۔ اس حقیقت نے امریکہ کو آئندہ کئی دہائیوں تک سب سے زیادہ تیل اور گیس  پیدا کرنے والا ایک غیرمتنازع  ملک بنا دیا ہے۔"

برآمدات میں اضافہ

پیداوار میں ڈرامائی اضافے سے گزشتہ آٹھ سال میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی امریکی برآمدات دگنی ہو گئی ہیں۔ 2015 میں اندرون ملک پیدا ہونے والے خام تیل کی برآمدات پر پابندی اٹھائے جانے اور جہازرانی پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی کو بھی کسی حد تک اس ترقی کا سبب قرار دیا جا سکتا ہے۔ امریکی خام  تیل کی سب سے بڑی منزل کینیڈا، مجموعی امریکی برآمدات کا 58 فیصد خریدتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی تیل ہالینڈ، چین، اٹلی اور برطانیہ کو برآمد کیا جاتا ہے۔

یہ مضمون فری لانس مصنف، مائیو آلسپ نے تحریر کیا۔