سمندروں میں غلامی کے خلاف احتجاجی مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں (© Bay Ismoyo/AFP/Getty Images)
انڈونیشیا میں سمندروں میں کام کرنے والے مزدور مچھلیاں پکڑنے والے جہازوں پر لی جانے والی جبری مشقت کے خلاف دسمبر 2020 میں جکارتہ میں عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ (© Bay Ismoyo/AFP/Getty Images)

امریکہ پوری دنیا میں جبری مشقت کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) سے تعلق رکھنے والے مچھلیاں پکڑنے والے ایک بیڑے سے سمندری غذا درآمد نہیں کرے گا۔

امریکہ کے کسٹم اور سرحدی تحفظ کے محکمے (سی بی پی) کی ایک سال پر محیط تحقیقات کے بعد یہ ثبوت سامنےآئے ہیں کہ پی آر سی میں قائم “ڈیلیان اوشن فشنگ کمپنی” (بڑے سمندروں سے مچھلیاں پکڑنے والی ڈیلیان کمپنی) محنت کی بین الاقوامی تنظیم کے جبری مشقت سے متعلق تمام 11 اشاریوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ (پی ڈی ایف، 4.2 ایم بی)۔ 28 مئی کو سی بی پی نے ڈیلیان کمپنی کے بیڑے کی پکڑی ہوئی سمندری غذا کی امریکہ درآمد کو روک دیا۔

سی بی پی نے جبری مشقت کے شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے اجرتوں کے روکنے، خراب رہائشی حالات اور جسمانی تشدد جیسے اشاریوں کی نشاندہی کی۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر، الیخاندرو این میورکاس نے کہا، “جو کمپنیاں اپنے محنت کشوں کا استحصال کرتی ہیں اُن کے لیے امریکہ میں کاروبار کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکم “دور دراز علاقوں میں ماہی گیری کی صنعت میں کام کرنے والوں کے انسانی حقوق کے ہمارے تحفظ کو جاری رکھنے کو یقینی بنائے گا۔”

ماہی گیری کے اِن بیڑوں کے محنت کشوں میں سے زیادہ تر کا تعلق انڈونیشیا، ویت نام اور فلپائن جیسے ممالک سے ہوتا ہے۔

امریکی قانون کلی یا جزوی طور پر کسی مجرم سے، یا جبری مشقت یا قرض کی ادائیگی کے عوض مشقت کے ذریعے تیار کروائی گئی مصنوعات کی درآمد کو روکتا ہے۔ جبری مشقت کو روکنے اور اس سے نمٹنے کی خاطر امریکی حکومت کمپنیوں کو اپنے ترسیلی نظام کا جائزہ لینے کا مشورہ دیتی ہے۔ حکومت نے اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔

جنوری میں سی بی پی نے جبری مشقت کے ثبوتوں کی بنیاد پر چین کے شنجیانگ کے خطے سے لائی جانے والی کپاس اور ٹماٹروں کی تمام مصنوعات کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ اور اسی وجہ سے جولائی 2020 میں سی بی پی کے افسروں نے شنجیانگ میں انسانی بالوں سے تیار کی جانے والی 13 ٹن مصنوعات کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

امریکہ کے خارجہ اور محنت کے محکموں کے مطابق 2017ء کے بعد سے چین کی حکومت شنجیانگ میں 10 لاکھ سے زائد ویغروں اور اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، نظربند کر چکی ہے اور اِن میں سے بہت سوں سے جبری مشقت لی جا چکی ہے۔

امریکی محکمہ محنت کی 2020ء کی بچوں سے لی جانے والی مشقت یا جبری مشقت کے تحت تیار کی جانے والی اور ستمبر میں شائع ہونے والی مصنوعات کی ایک فہرست میں 17 ایسی مصنوعات کا پتہ چلا جو پی آر سی میں جبری مشقت کو استعمال کرکے بنائی گئی ہیں۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔

 کپاس کے رسے کے ساتھ کام کرتی ہوئی ایک عورت (© Mark Schiefelbein/AP Images)
ایک خاتون محنت کش شنجیانگ کے ایک پلانٹ میں 20 اپریل کو کاٹن کا دھاگہ استعمال کر رہی ہے۔ امریکی حکومت نے جبری مشقت کے ثبوتوں کی بنیاد پر اس خطے سے آنے والی کپاس کو روک دیا ہے۔ (© Mark Schiefelbein/AP Images)

امریکہ مزدوروں کے حقوق کی برتری کو قائم  رکھنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہا ہے۔ امریکہ-میکسیکو-کینیڈا کے  معاہدے میں ایسی دفعات شامل ہیں جو جبری مشقت کے ذریعہ تیار کردہ سامان کی شمالی امریکہ میں درآمد پر پابندی عائد کرتی ہیں۔

تجارت کی عالمی تنظیم میں اس وقت سبسڈی یعنی اعانتوں پر مذاکرات جاری ہیں۔ جزوی طور پر اعانتیں غیرقانونی، چوری چھپے اور خلاف ضابطہ ماہی گیری (آئی یو یو) میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اِن مذاکرات کے ضمن میں امریکہ کے تجارتی نمائندہ کے دفتر نے 26 مئی کو ایک تجویز جمع کرائی ہے جس میں دنیا کے ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ماہی گیر جہازوں پر جبری مشقت کو روکیں۔ اس تجویز میں واضح کیا گیا ہے کہ آئی یو یو ماہی گیری کے دوران اکثر جبری مشقت سے کام لیا جاتا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے 28 مئی کو کہا، “امریکہ ان لوگوں کے احتساب کو فروغ دے گا جو مالی نفعے کی خاطر جبری مشقت کو استعمال کرکے لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔ ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے کہ بے نوا لوگوں کی آوازیں سنی جائیں اور اُن کا تحفظ کیا جائے۔”

جن اشیا کی تیاری اور جن صنعتوں میں جبری مشقت کے استعمال کے خطرات پائے جاتے ہیں اُن کے بارے میں جاننے کے لیے یہ ویب سائٹ دیکھیے: www.ResponsibleSourcingTool.org