"جی ہاں، ہمارے بہت سے لوگ سیاست میں آ کر امیر ہو گئے۔ میرا بھی یہی معاملہ ہے۔" فخریہ انداز میں یہ بات نیویارک سٹی کے سیاست دان اور شہر میں ٹیمانی ہال کے نام سے کام کرنے والی بدنام 'سیاسی مشین' کے رکن جارج واشنگٹن پلنکٹ نے 1905 میں کہی تھی۔ [سیاسی مشین کی اصطلاح طاقتور اور بااثر مفاد پرست سیاسی گروہوں کے بارے میں استعمال کی جاتی ہے۔]

20ویں صدی کے آغاز میں بہت سے امریکی شہر خودغرضانہ سیاسی مشینوں کے ذریعے  چلائے جاتے تھے۔ یہ تنظیمیں سیاسی طاقت تک رسائی پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی خاطر ووٹوں میں دھاندلی، لوگوں کی وفاداریاں اور ان کے ووٹ خریدنے جیسے ہتھکنڈے استعمال کرتیں تھیں۔ نیویارک سٹی میں ٹیمانی ہال نامی تنظیم نے سب سے زیادہ شہرت پائی۔ تاہم فلاڈلفیا، بوسٹن اور شکاگو میں بھی ایسی سیاسی مشینیں موجود تھیں۔

Cartoon showing people pushing over a booth advertising a rally (© Bettmann/Getty Images)
1887 میں انتخاب کے دن سیاسی مخالفین ٹیمانی ہال کے بوتھ کو گرا رہے ہیں۔ (© Bettmann/Getty Images)

ان سیاسی مشینوں کی پشت پناہی سے منتخب ہونے والے مقامی حکام عہدوں کو اپنے حامیوں میں مراعات اور عموماً نوکریوں کی تقسیم کے لیے استعمال کرتے تھے۔ سیاسی مشینوں کے غیرمنتخب سربراہ اپنے شہروں میں بڑے بڑے منصوبوں کے منافع بخش ٹھیکے حاصل کرتے تھے جن سے وہ اور ان کے حامی دولت اکٹھی کرکے امیر ہو جاتے تھے۔

یہ اتنی بڑی رقم ہوتی تھی کہ پلنکٹ کو یہ سوچ کر حیرانی ہوئی کہ جب "دیانت دارانہ" انداز میں اتنا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے تو پھر مجرمانہ طرزعمل سے کام لینے کی کیا ضرورت پڑی ہے۔

تاہم 1900 کے لگ بھگ عوامی طاقت نے ٹیمانی ہال جیسی سیاسی مشینوں کا صفایا کرنا شروع کر دیا۔ اسی وقت ملک بھر میں ترقی پسندانہ دور کا آغاز ہوا۔ اصلاحی امیدواروں نے سرپرستانہ سیاست کے خاتمے کی بات کی۔ صحافیوں نے سیاسی آقاؤں کی بدعنوانی کو آشکار کیا اور ان کا تمسخر اڑایا۔ سرکاری نوکریوں کے امتحانات نے سیاسی پارٹی کے نااہل وفاداروں کو حکومتی عہدوں پر پہنچنے سے روکنے میں مدد دی۔

دنیا بھر میں سیاسی مشینیں

جب تک بدعنوان سیاست دان ووٹ خریدتے یا ریاستی مالیات تک رسائی اور اس کا ناجائز استعمال کرسکیں گے اس وقت تک مشینی سیاست کہیں بھی سر اٹھا سکتی ہے۔

Close-up of several hands with writing on them (© Juancho Torres/Anadolu Agency/Getty Images)
شدید غذائی بحران کا شکار وینیزویلا کے شہری کولمبیا کے ایک سرحدی شہر میں کھانا لینے کا انتظار کر رہے ہیں۔ (© Juancho Torres/Anadolu Agency/Getty Images)

وینیزویلا میں مادورو حکومت نے بھوک کو ووٹ خریدنے کے لیے استعمال کیا۔ ایران میں 'بنیاد مستضعفان' جیسی بظاہر خیراتی تنظیموں کا استعمال رہنماؤں کی جیبیں بھرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایسی تنظیمیں عموماً سینکڑوں کاروبار چلاتی ہیں جن کا منافع ان کے آقاؤں کی جیب میں جاتا ہے۔ یہ تنظیمیں تعمیراتی صنعت میں بھی کام کرتی ہیں اور اندرون ملک ہوائی اڈوں کے ٹرمینل اور دوسرے ممالک میں انفراسٹرکچر [زیریں ڈھانچہ] تعمیر کرتی ہیں۔

مورخین ٹیمانی ہال کے حتمی زوال کا سبب فایوریلو لاگارڈیا کے انسداد بدعنوانی پلیٹ فارم کو گردانتے ہیں جنہوں نے 1934 سے 1945 تک نیویارک سٹی کے میئر کی حیثیت سے کام کیا۔ ان کے دور میں اس نئے سیاسی نظام کی ابتدا ہوئی جس نے ان سیاسی مشینوں کی جگہ لی۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے امیدوار منتخب کرنے کے انداز میں یہ روایت آج بھی جاری و ساری ہے۔ ترقی پسندانہ دور میں ریاستوں نے براہ راست پرائمری نظام کو اپنایا جس میں سیاسی لیڈروں کے بجائے عوام پارٹی کے امیدواروں کا چناؤ کرتے ہیں۔ امریکہ کا صدارتی امیدواروں کے انتخاب کے لیے 'پرائمری اور کاکس' کا ملا جلا موجودہ نظام اسی دور کی میراث ہے۔

'باس ٹویڈ' کا زوال

ولیم ایم ٹویڈ نیویارک کی ٹیمانی ہال سیاسی مشین کا ایک بدنام ترین کردار تھا۔

Poster showing reward offered for wanted criminal (© Smith Collection/Gado/Getty Images)
(© Smith Collection/Gado/Getty Images)

اس نے 'ٹویڈ رِنگ' نامی نیٹ ورک بنایا جس کے ارکان  نے 1950 سے 1970 کی دہائی تک دھوکہ دہی سے نیویارک کے ٹیکس دہندگان کے لاکھوں ڈالر اینٹھے اور عدالتوں، قانون سازوں، شہرکے محکمہ خزانہ اور سیاست پر اثرانداز ہوا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے باس ٹویڈ کو گرفتار کرکے دو مرتبہ جیل بھیجا۔ بعدازاں وہ سپین فرار ہو گیا جہاں اسے سپین کی فوج کے اُس افسر نے گرفتار کر لیا جس نے اس کا چہرہ ایک سیاسی کارٹون کی بدولت پہچان لیا۔