امریکہ میں زرعی علم و ہنر کی اگلی نسل

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 4 مارچ کو ریاست آئیووا کے شہر ڈے موئن میں حاضرین کو بتایا، "امریکہ کے وسطی علاقے میں مضبوط اقتصادی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔"

پومپیو زرعی شعبے کی اقتصادی طاقت کا سہرہ اُس آزادی کے سر باندھتے ہیں جس کے تحت امریکی اپنی تخلیقی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ  وہ اس کا اعزاز دہائیوں پر پھیلی ہوئی اُس ہنر مندی کو بھی دیتے ہیں جس نے ہمارے کاشت کاروں کواتنی مقدار میں اناج پیدا کرنے کے قابل بنایا جس کا بارے میں چند برس قبل دنیا سنتی تو ہکا بکا رہ جاتی۔

اِس تخلیقیت کو مضبوط بنانے کی خاطر ملک میں جوانوں کی ترقی کی سب سے بڑی "فور ایچ" نامی تنظیم ایسے نوجوانوں کو ہر سال ایوارڈ دیتی ہے جو اپنی کمنٹیوں میں تبدیلی لانے کے لیے زراعت کو استعمال میں لا رہے ہیں۔

ایک سو سال قبل جب فور ایچ کی بنیاد رکھی گئی تو اِس تنظیم نے امریکہ کے دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں زرعی ٹکنالوجی متعارف کروانے کا موقع دیا۔

2019ء کا زراعت کا ایوارڈ ریاست مشی گن کے قصبے کاس سٹی کی ایڈی بیٹل کو دیا جائے گا۔ چند سال قبل جب کاس سٹی کا واحد جنرل سٹور بند ہوا تو یہ شہر "اشیائے خورد و نوش کے بغیر ایک صحرا" جیسا نقشہ پیش کرنے لگا۔ قریب ترین جنرل سٹور 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔

بیٹل مدد کرنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے بتایا، "میرے پاس ملازمت یا کار نہیں تھی۔ حتٰی کے ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں تھا۔ مگر میں یہ  جانتی تھی کہ جانوروں کو کیسے پالاجاتا ہے۔"

Two women talking with bags of food between them (© 4-H Council)
کاس سٹی، مشی گن میں واقع واحد جنرل سٹور کے بند ہونے کے بعد، ایڈی بیٹل اور اُن کے ساتھی ضرورت مند کنبوں کو خوراک پہنچانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ (© 4-H Council)

بیٹل نے نوجوانوں کی سربراہی میں "اپنے گاؤں کے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے" کے نام سے ایک پراجیکٹ بنایا۔ اس پراجیکٹ کے تحت اب کم آمدنی والے ضروت مند افراد کو کھانے پینے کی چیزیں مہیا کی جاتی ہیں۔

بیٹل نے بتایا، "فور ایچ کے ذریعے مجھے اوائل عمری میں ہی اپنے اُس شوق کا پتہ چل گیا جس کا تعلق جانوروں سے متعلق زراعت کے ذریعے ضرورت مند لوگوں تک خوراک پہنچانے سے تھا۔" اس وقت تک ان کی تنظیم 4,500 کلو گرام گوشت، 5,100  لٹر دودھ اور 92 درجن انڈے اپنی کمیونٹی کے ضرورت مند ترین افراد تک پہنچا چکی ہے۔

1,600 کلومیٹر کی دوری پر واقع ریاست اوکلا ہوما میں 17 سالہ سیرینا وڈرڈ ریاست بھر میں نوجوان طلبا کو زراعت کے متعلق تعلیم دینے کے لیے فور ایچ کے ذریعے حاصل کی جانے والی اپنی مہارتوں کو استعمال کر رہی ہیں۔

"وڈرڈز ورکشاپس" نامی اُن کے پروگرام کے ذریعے نوجوان زرعی دنیا کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے ہیں۔ اِن ورکشاپوں میں شہد کی مکھیاں پالنے اور سائنس سے لے کر سادہ قسم کی باغبانی تک ہر ایک چیز شامل ہوتی ہے۔ آغاز سے لے کر آج تک اِس پروگرام سے  45,000 طلبا مستفید ہو چکے ہیں۔

Teenager helping group of students cutting shapes out of paper (© 4-H Council)
وڈرڈز ورکشاپس کے پراجیکٹوں میں سے دستکاری کے ایک پراجیکٹ کے دوران، سیرینا وڈرڈ پٹس برگ کاؤنٹی، اوکلا ہوما میں فور ایچ کلب کے ممبران کی مدد کر رہی ہیں۔ (© 4-H Council)

وڈرڈ کے نزدیک کمیونٹی ہی سب کچھ ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کا آبائی شہر کینیڈین، اوکلا ہوما "ایک ایسی جگہ ہے جہاں وہ لوگ بھی آپ کی مدد کے لیے آگے آتے ہیں جن سے آپ کی کوئی جان پہچان نہیں ہوتی۔"

آئیووا کے دورے کے دوران "فیوچر فارمرز آف امیریکا" [ مستقبل کے امریکی کسان] نامی نوجوانوں کی تنظیم سے خطاب کرتے ہوئے پومپیو نے وِن فیلڈ، کینسس میں اپنے انکل کے فارم کے بارے میں بات کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ کون سی چیز ہے جو امریکی کسانوں کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ پومپیو نے بتایا کہ اِن کے انکل کی زراعت نے ترقی کی کیونکہ وہ "ایک ایسی جگہ کام کر رہے تھے جہاں پر جدت طرازی اور تخلیقیت تھی۔ وہاں پر منافع لوگوں کو اپنے بارے میں اچھے فیصلے کرنے اور اس کے نتیجے میں اُن اجناس کے بارے میں اچھے فیصلے کرنے کی تحریک دیتا ہے جو وہ پیدا کرتے ہیں۔"

یہ مضمون فری لانس لکھاری مائیو آلسپ نے تحریر کیا۔