Woman holding ornamental object (State Dept./D.A. Peterson)
تبتی نژاد ایک امریکی خاتون ہاتھوں میں بھنی ہوئی گندم اور جو سے بھرا ڈبہ اٹھائے ہوئے مہمانوں کا استقبال کر رہی ہے۔ لوسر کے موقع پر پیش کی جانے والی اشیا میں چاول کی شراب بھی شامل ہوتی ہے۔(State Dept./D.A. Peterson)

دنیا بھر میں تبتی باشندے اپنے نئے سال کے آغاز کی خوشی میں’ لوسار’ نامی تہوار مناتے ہیں۔ اس کا آغاز 5 فروری سے ہوتا ہے اور اس کا شمار اِن کے اہم ترین سالانہ تہواروں میں ہوتا ہے۔

8 فروری کو امریکی دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام لوسار کے حوالے سے ایک تقریب کی میزبانی کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔

شمالی امریکہ میںتقدس مآب دلائی لامہ کے نمائندے گوڈوپ سیرنگ نے تبتی نژاد امریکیوں، سول سوسائٹی کے گروہوں، مقامی سفارت کاروں اور امریکی کانگریس کے عملے کے ارکان کے ہمراہ اس تقریب میں نئے سال کو خوش آمدید کہا۔

سیرنگ نے بتایا، ”ہم لوسار کے موقع پر ایک دوسرے کو ‘تاشی ڈیلیک’ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اچھائی ہمیشہ آپ کے ساتھ  رہے۔”

People standing and listening to man at lectern (State Dept./D.A. Peterson)
لوسر منانے کی تقریب کے موقع پر گوڈوپ سیرنگ مہمانوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ (State Dept./D.A. Peterson)

سیرنگ کے مطابق لوسار کے پہلے دن کی روایات میں عبادت کرنا اور تبتی لاموں سے ملنا اور اُن کی دعائیں لینا شامل ہیں۔ دوسرے دن تبتی خاندان اپنے شہر یا گاؤں کے سربراہ کا سلام کرتے ہیں۔ تیسرے دن عوامی جشن ہوتا ہے جس میں تبتی کھانے کھائے جاتے ہیں، شراب پی جاتی ہے اور ناچ گانا ہوتا ہے۔

دفتر خارجہ میں ہونے والی تقریب میں مشرقی ایشیا اور بحر الکاہل کے امور کے شعبے کے اعلیٰ عہدیدار، پیٹرک مرفی کا کہنا ہے ”ہم آپ، آپ کے اہلخانہ، آپ کی کمیونٹیوں اور ہر ایک کو پرامن اور خوشحال نئے سال کی مبارک دیتے ہیں۔”

انہوں نے باآواز بلند کہا ”لوسار تاشی ڈیلیگ!” (نیا سال مبارک)

Two women dancing in front of crowd (State Dept./D.A. Peterson)
فنکارائیں نیک خواہشات اور صاف دل کی علامت “خاتا” یا سفید استقبالیہ دوپٹہ لیے رقص کر رہی ہیں۔ (State Dept./D.A. Peterson)

دفتر خارجہ کی اعلیٰ عہدیدار ایلس ویلز نے امریکی اور ہمالیائی روایات کی مضبوط مشترکہ اقدار کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا، ”رواداری، دردمندی، نئے افکار کی قبولیت اور دنیا کے بارے میں تجسس، یہ وہ خصوصیات ہیں جو کئی دہائیوں میں ہمارے لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب لائی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔”

پالیسی کے حوالے سے


تبتی شناخت کا تحفظ

تبتی ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے عالمگیر کوششیں اتنی اہم کبھی نہیں تھیں جتنی کہ آج ہیں۔

ثقافتی و لسانی حقوق کی ضمانتوں کے باوجود چین نے تبتیوں کے اپنے ورثے کی حفاظت کے حقوق پر بے شمار پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

امریکی دفتر خارجہ کی سال 2017 کے لیے جاری کردہ انسانی حقوق کی  رپورٹ  کے مطابق تبتی طلبہ کی سرکاری طور پر منظور شدہ تبتی زبان میں تعلیم اور نصابی کتب تک رسائی محدود ہے۔

مزید براں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے ملک بھر میں ‘ تعلیمی مرکزیت’ کی پالیسی نافذ کر رکھی ہے جس کا نتیجہ  تبتی بچوں کو اپنے گھروں اور علاقوں سے نکالے جانے کے سبب تبتی زبان اور ثقافت سے آگاہی پانے والوں کی گھٹتی ہوئی تعداد کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔”

چینی آئین کے آرٹیکل 4 کے مطابق ”تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو اپنی بولی اور لکھی جانے والی زبانوں کے استعمال اور فروغ نیز اپنے طور طریقے اور رسومات محفوظ رکھنے یا ان میں اصلاحات کا حق حاصل ہے۔”

دفتر خارجہ میں مشرقی ایشیائی اور بحر الکاہل کے امور سے متعلق شعبے کے اعلیٰ عہدیدار، پیٹرک مرفی نے کہا، ”امریکی حکومت تبتی عوام کی اپنی جداگانہ ثقافتی، مذہبی اور لسانی شناخت کے تحفظ کی امنگوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔”