امریکہ نے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پر اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلٰی، علی خامنہ ای کی تباہ کن پالیسوں کو آگے بڑھانے کی وجہ سے پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ خامنہ ای پر 24 جون کو پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

31 جولائی کو پابندیوں کا اعلان کرتے وقت امریکہ کے محکمہ خزانہ نے کہا کہ ظریف یا اس کے دفتر نے ایران کی انقلاب اسلامی کی سپاہ (آئی آر جی سی) کے اراکین کے حق میں انتخابات کے نتائج کو بدلنے اور غیرملکی حکومتوں کو آئی آر جی سی کے کارندوں کو رہا کرنے کے لیے رشوت دینے کی کوششیں بھی کیں۔

امریکہ نے اس سال موسم بہار میں آئی آر جی سی کو ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر نامزد کیا تھا۔

اِن پابندیوں سے ظریف کے امریکہ میں معاملات طے کرنے یا جائیداد تک رسائی کو روک دیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ظریف کو ایرانی حکومت کا ایک ایسا عذر خواہ  قرار دیا جو سالوں سے حکومت کی تباہ کن سرگرمیوں میں شریک چلا آ رہا ہے۔

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصۃ

وزیر خارجہ پومپیو: حال ہی میں، صدر ٹرمپ نے عوام کی قیمت پر دولت سمیٹنے والے ایران کے رہبر اعلٰی پر پابندیاں عائد کیں۔ آج، امریکہ نے عذر خواہِ اعلٰی جواد ظریف کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ خامنہ ای کے مافیا کی طرح وہ بھی حکومت کے غیرقانونی رویے میں اتنا ہی ملوث ہے جتنا کہ باقی مافیا ہے۔

"وزیر خارجہ ظریف حکومت کا ایک اعلٰی اہلکار اور عذر خواہِ اعلٰی کئی برسوں سے ایرانی حکومت کی گھناؤنی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔" وزیر خارجہ مائیک پومپیو

ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا، "ایران کے بہادر اور بجا طور پر غیور عوام پر ایران کے قیمتی وسائل صرف کرنے کی بجائے ایرانی حکومت دہشت گردی میں مدد اور اس کی حمایت کرتی ہے، بے گناہ ایرانیوں کو جیلوں میں قید اور ان پر تشدد کرتی ہے، شام اور یمن کے غیرملکی تصادموں کو ہوا دیتی ہے، اور اِن کے علاوہ حالیہ ہفتوں میں اس حکومت نے اپنے جوہری پروگرام کو بھی پھیلایا ہے۔"

31 جولائی کو پومپیو نے یہ بھی کہا کہ خامنہ ای نے "ایرانی عوام کی قیمت پر اپنے لیے دولت سمیٹی ہے۔"اربوں ڈالر کے سرمایہ کاری کے ایک فنڈ کا اختیار رہبر اعلٰی کے ہاتھ میں ہے۔

امریکہ کے وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے کہا کہ آزاد پریس تک رسائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طرف ظریف اقوام متحدہ میں انٹرویو دیتا پھرتا ہے اور دوسری طرف ایرانی حکومت اپنے ملک کے اندر آزادیوں کو محدود کیے ہوئے ہے۔

منوچن نے کہا، "ادھر ایرانی حکومت ایرانی شہریوں کو سوشل میڈیا تک رسائی دینے سے انکار کر رہی ہوتی ہے  اور ادھر وزیر خارجہ ظریف دنیا بھر میں میڈیا کے ذریعے حکومتی پراپیگنڈہ اور غلط معلومات پھیلا رہا ہوتا ہے۔"

ظریف کے خلاف کاروائی، اس سال گرمیوں میں خامنہ ای اور اس کے ساتھیوں پر لگائی جانے والی پابندیوں کو آگے بڑہانے کا ایک حصہ ہے۔ یہ اقدامات تب سامنے آئے ہیں جب ایرانی حکومت نے حال ہی میں خلیج میں اور اس کے اردگرد تیل کے ٹینکروں پر حملے کیے ہیں اور ماضی کے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری ایندھن کی افزودگی اور اس کی ذخیرہ اندوزی میں اضافہ کیا ہے۔