جو بائیڈن ورچوئل سربراہی کانفرنس کے شرکاء کو دکھانے والی سکرین کے سامنے بیٹھے ہیں۔ (© Evan Vucci/AP Images)
وائٹ ہاؤس سے صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر بلائی گئی ورچوئل سربراہی کانفرنس کے دوران، امریکہ کی طرف سے دیئے جانے ویکسین کے عالمی عطیات کو دوگنا کرنے کا اعلان کیا۔ (© Evan Vucci/AP Images)

صدر بائیڈن نے 22 ستمبر کو اعلان کیا کہ امریکہ دنیا بھر کے ممالک کو کووڈ-19 ویکسین کی 500 ملین  اضافی خوراکیں بھیجے گا اور کووڈ-19 سے بحالی کو تیز سے تیز تر کرنے کے لیے نئی شراکت داریاں قائم کرے  گا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر بائیڈن نے کووڈ-19 کی ورچوئل عالمی سربراہی کانفرنس میں کہا، “اچھی خبر یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ اس وبائی مرض کو کیسے شکست دینا ہے: یعنی ویکسینیں، صحت عامہ کے اقدامات اور اجتماعی کارروائی سے۔ حکومتیں بہت کچھ کر سکتی ہیں، لیکن ہم اکیلے سبھی کچھ نہیں کر سکتے۔”

صدر نے کہا کہ امریکہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو فائزر-بائیو این ٹیک کی کووڈ-19 ویکسین کی 500 ملین اضافی خوراکیں عطیے کے طور پر دے گا جس سے امریکہ کی طرف سے عطیہ کردہ ویکسینوں کی خوراکوں کی تعداد 1.1 ارب سے زیادہ ہو جائے گی۔

امریکہ پہلے ہی 100 ممالک کو ویکسین کی لگ بھگ 160 ملین خوراکیں بھجوا چکا ہے۔ یہ تعداد دنیا کے ممالک کی عطیہ کردہ مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

بائیڈن نے کہا کہ امریکہ میں لگائی جانے والی ویکسین کی ایک خوراک کے مقابلے میں، امریکہ دنیا کو ویکسین کی تین خوراکوں کا عطیہ دے رہا ہے۔

بین الاقوامی شراکت داریاں

صدر نے امریکہ اور یورپی یونین کے مابین ایک نئی شراکت داری کا بھی اعلان کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ضرورت مند ممالک میں ویکسین کی مساوی تقسیم کی جائے۔ دنیا کے ویکسین کے تقسیم کار کی حیثیت سے امریکہ،  کوویکس کی مدد کرنا جاری رکھے  ہوئے ہے۔

دیگر کوشوں میں مندرجہ ذیل کوششیں شامل ہیں:-

  • امریکہ نے ویکسین لگانے کو یقینی بنانے کے لیے 370 ملین ڈالر کا جبکہ گاوی نامی ویکسین کے اتحاد کے لیے 380 ملین ڈالر کا وعدہ کیا ہے تاکہ سب سے زیادہ ضرورت مند علاقوں میں ویکسینیں تقسیم کی جا سکیں۔
  • آسٹریلیا، بھارت، جاپان اور امریکہ کے مابین کواڈ شراکت داری کے ایک حصے کے طور پر، اس اتحاد کا 2022 کے آخر تک بھارت میں ویکسین کی ایک ارب خوراکیں بنانے کا منصوبہ ہے۔
  • امریکہ جنوبی افریقہ کی جانسن اینڈ جانسن ویکسین کی خوراکوں کی تیاری کو 500 ملین تک بڑھانے کی کوششوں میں مدد کرے گا۔ یہ ویکسین 2022 تک افریقہ میں تقسیم کی جائے گی۔

صحت کے عالمی ادارے کے 2021 کے آخر تک دنیا کی کم از کم 40 فیصد آبادی کو اور ستمبر 2022 تک 70 فیصد کو ویکسین لگانے میں امریکہ اور اس کے اتحادی مدد کریں گے۔

بائیڈن نے کہا، ” ان ویکسینوں کو لوگوں کے بازوؤں میں لگانا ہمیں کبھی بھی پیش آنے والا ممکنہ طور پر مشکل ترین انتظامی چیلنج ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ہمیں اپنی سرمایہ کاری کو نمایاں طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ [دوسرے] ممالک کی لوگوں کے بازوؤں میں ویکسین کے ٹیکے لگانے میں مدد کی جا سکے۔”

ورچوئل سربراہی کووڈ-19 کانفرنس کے اختتام  پر وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ صحت عامہ کے عالمی بحران کا خاتمہ حکومتوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور سرکاری اداروں کے مکمل تعاون کا تقاضہ کرتاا ہے۔

دیگر وسائل

وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے امریکہ، آکسیجن یونٹوں کی فراہمی کے لیے 1.4 ارب ڈالر فراہم کرے گا، ٹیسٹوں کو بڑہانے میں اور دنیا بھر میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد کرے گا۔ 2022 کے اختتام تک تمام ممالک میں آکسیجن کی کافی سہولیات کی موجودگی ہمارا ہدف ہے۔

بلنکن نے کہا، “مختصر بات یہ ہے کہ اس وائرس کو ختم کرنے کے لیے ہم اپنی دسترس میں موجود تمام وسائل استعمال کریں گے۔ ہم اگراس موقع پر درکار اتحاد اور سرعت سے کام کریں گے تو ہم اس وبا کو ختم کر سکتے ہیں۔”