امریکہ کا کووِڈ-19 کی عالمی امداد میں اضافہ

ایک تصویری خاکہ جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کووِڈ-19 اور ایبولا کے لیے ایک ارب ڈالر وقف کر چکا ہے۔ (State Dept.)
(State Dept.)

کووِڈ-19 کے خلاف جنگ میں امریکہ اس عالمی وباء کو روکنے کے اپنے عزم کو مضبوط بناتے ہوئے 225 ملین ڈالر کی اضافی امداد کا وعدہ کر رہا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 7 اپریل کو نئی مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا، "ہم ایسا اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم فراخ دل لوگ ہیں۔ ہم یہ اس لیے بھی کرتے ہیں کیونکہ وائرس سرحدوں کا احترام نہیں کرتا۔ جب ہم غیرممالک میں اپنے دوستوں کی مدد کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں یہ (مدد) یہاں اپنے وطن میں بھی ہمیں محفوظ بنا رہی ہوتی ہے۔”

اپنے ہاں اس وباء کا سامنا کرنے کے باوجود امریکہ 64 ممالک کے خلاف کووِڈ-19 کا مقابلہ کرنے کے لیے 274 ملین ڈالر کی امداد دینے کا پہلے ہی وعدہ کر چکا ہے۔ اضافی امداد مذکورہ 274 ملین ڈالر کے علاوہ ہے۔

اس امداد کا مقصد صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مستحکم بنا کر، لیبارٹریاں تیار اور طبی کارکنوں کی تربیت کر کے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ پچھلی امداد سے گوئٹے مالا کو کووِڈ-19 کے علاج کے لیے ایک ہسپتال قائم کرنے میں مدد ملی ہے اور کمبوڈیا میں بچوں کو ایک ایسے وقت آن لائن تعلیم جاری رکھنے کی سہولتیں میسر آئی ہیں جب سکول بند پڑے ہوئے ہیں۔

ایبولا سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی بھاری مقدار میں امداد

امریکہ ایبولا کی حالیہ ترین وباء کے اگست 2018 میں پھوٹنے سے لے کر اب تک سب سے زیادہ عطیات دینے والا واحد ملک ہے۔ امریکہ نے ڈی آر سی اور ایبولا کے خطرات کا سامنا کرنے والے ہمسایہ ممالک میں اس وباء سے نمٹنے اور تیاریوں کی کوششوں میں 569 ملین ڈالر کی امداد دی۔

امریکہ نے ستمبر 2018 میں تباہی کی صورت میں مدد کرنے والی ایک ٹیم تعینات کی۔ اس ٹیم میں امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے اور بیماریوں کی روک تھام اور اِن پر قابو پانے کے مراکز سے تعلق رکھنے والے تباہی اور اس کے بعد پیدا ہونے والے صحت عامہ کے مسائل سے نمٹنے والے ماہرین شامل تھے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے حفاظتی ٹیکوں کی مہموں، تشخیصی ٹیسٹوں، اور علاج میں بھی مدد کی۔

بیماریوں کا مقابلہ کرنے میں امریکہ کے نجی شعبے نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ امریکی کارپوریشنیں اور خیراتی ادارے کووِڈ-19 کی امدادی کاروائیوں میں کئی ملین ڈالر دے رہے ہیں اور امریکی کمپنیاں انتھک طریقے سے نئے علاجوں اور نئی ویکسین پر کام کر رہی ہیں۔

ہاتھوں پر دستانے پہنے اور منہ پر ماسک لگائے ایک عورت ٹیکہ لگا رہی ہے۔ (© Sam Mednick/AP Images)
جمہوری مملکت کانگو میں ایک امدادی کارکن کو مئی 2018 میں ایبولا کی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ امریکی فرم کو اس ویکسین کی قانونی منظوری حاصل ہے۔ (© Sam Mednick/AP Images)

امریکی دوا ساز کمپنی ‘میرک اینڈ کو’ نے ایبولا وائرس کے خلاف ویکسین کے لیے نومبر میں یورپین کمشن کی طرف سے اولین قانونی منظوری حاصل کی۔ اس کے بعد دسمبر میں اسی ویکسین کے لیے میرک کو امریکہ کے خوراک اور دواؤں کے ادارے، ایف ڈی اے کی جانب سے بھی منظوری مل گئی۔ مستقبل میں اِس وباء کو روکنے میں یہ ایک انتہائی اہم قدم ہے۔