امریکہ کا کینیڈی سنٹر کے اعزاز یافتہ فنکاروں کے ساتھ فنون لطیفہ کا جشن

امریکی ثقافتی زندگی کی خوبصورتی اور صورت گری میں فنکاروں کا دیرینہ کردار چلا آ رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل پانچ افراد کی ہنرمندی اور شہرت کا جشن منایا۔ اس موقع پر امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن بھی انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے موجود تھے۔

40ویں سالانہ کینیڈی سنٹر کے اعزازات کے لیے امریکی دفتر خارجہ میں ڈنر اور ایوارڈ دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹلرسن کا کہنا تھا، "فنکارانہ اظہار غالباً آزایِ اظہار کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ موسیقی، رقص، فلمی مواد اور ٹیلی ویژن کے ذریعے بیان کیے جانے والے الفاظ اور پیغامات ہماری بہت سی خامیوں کے باوجود آزاد سماج کا اظہار ہیں۔ (واشنگٹن میں ‘جان ایف کینیڈی سنٹر فار پرفارمنگ آرٹس’ کے منتظمین ہر سال اعزازات کے لیے فنکاروں کا انتخاب کرتے ہیں۔)

ٹلرسن نے کہا، "فنکارانہ اظہار ہمارے اختلافات ختم کرتا ہے، ہمارے تنوع کو تسلیم کرتا ہے اور آزاد لوگوں کے طور پر ہمیں ایک دوسرے سے قریب لاتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ آج دنیا کے بہت سے حصوں میں اس طرح کے حالات نہیں پائے جاتے۔ فنکارانہ اظہار برداشت نہ کرنے والی حکومتوں کے نزدیک گویا آزادی بذات خود ناقابل برداشت ہوتی ہے۔”

2017 میں کینیڈی سنٹر کے اعزاز یافتگان کا تعلق رقص، ٹیلی ویژن اور موسیقی کے شعبوں، (ردھم اینڈ بلیوز، لاطینی پاپ اور ہپ ہاپ) سے ہے۔ ان کی غیرمعمولی صلاحیتوں کے بارے میں مزید جانیے:

Gloria Estefan singing into hand-held microphone (© AP Images)
(© AP Images)

کیوبائی امریکی گلوکارہ و نغمہ نگار گلوریا اسٹیفن، ہوانا میں پیدا ہوئیں مگر ان کے والدین نے کاسترو انقلاب سے کچھ ہی عرصہ  بعد کیوبا چھوڑ دیا تھا۔ بعدازاں ان کے والد نے امریکی فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ گلوریا کے بینڈ ‘میامی ساؤنڈ مشین’ نے امریکہ میں شہرت پانے سے پہلے ہی لاطینی امریکہ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ 1980 کی دہائی کے وسط تک اسٹیفن اور ان کا گروپ ‘ورڈز گیٹ ان دا وے، اینی تھنگ فار یو اور کونگا’ جیسے کامیاب  گانے پیش کر رہا تھا۔ اسٹیفن سات ‘گریمی ایوارڈ’ اور صدارتی ‘میڈل آف فریڈم’ جیت چکی ہیں۔

Carmen de Lavallade in gesturing pose (© Marvin Joseph/The Washington Post/Getty Images)
(© Marvin Joseph/The Washington Post/Getty Images)

رقاص اور اس فن کی ماہر کارمین ڈی لاویلیڈ کے والدین کا تعلق غرب الہند سے ہے اور وہ کری اول نسل کے والدین کی اولاد ہیں۔  کارمین نے  اس وقت رقص کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی جب بیشتر سیاہ فاموں کو اس میدان سے دور رکھا جاتا تھا۔ انہوں نے ناصرف بیلے رقص میں شاندار کارکردگی دکھائی بلکہ جدید رقص میں بھی مہارت کا لوہا منوایا۔ ان کے نمایاں پیشہ وارانہ مستقبل میں نیویارک میٹروپولیٹن اوپیرا میں سرکردہ رقاصہ کا کردار اور رقص کے ماہر، ایلون ایلے کے انقلابی کام میں ان کی لگاتار شریک کار کی حیثیت سے نمایاں کارکردگی شامل ہے۔ انہوں نے ییل سکول آف ڈرامہ میں رقص کی استاد کے طور پر رقاصوں اور اداکاروں کی کئی نسلوں پر اپنے فن کا گہرا اثر چھوڑا۔

Lionel Richie at piano singing (© AP Images)
(© AP Images)

لیونل رچی نے اپنے والدین کی خواہشات کے برعکس اوائل عمری میں ہی سکول چھوڑ کر موسیقی میں اپنا مستقبل بنانے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں انہوں نے ‘دی کموڈورز’ گروپ اور بعد ازاں اکیلے بہت سے کامیاب گانے پیش کیے جن میں سے ‘تھری ٹائمز اے لیڈی، برک ہاؤس اور ہیلو’ جیسے شاندار نغموں نے انہیں گلوکاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ 1985 میں انہوں نے  شریک مصنف کی حیثیت سے ‘وی آر دی ورلڈ’ نامی گانا لکھا اور اس کے ذریعے افریقہ میں انسانی امداد کے لیے چھ کروڑ ڈالر جمع کیے۔ اپنے پورے کیریئر میں اب تک ان کے 100 ملین ریکارڈ فروخت ہو چکے ہیں۔

Norman Lear standing in a garden, holding a coffee cup (© Bob Riha Jr./Getty Images)
(© Bob Riha Jr./Getty Images)

ٹیلی ویژن لکھاری اور پروڈیوسر نارمن لیئر نے 1970 کی دہائی میں امریکی ٹیلی ویژن  پر انتہائی انوکھے طربیہ پروگرام پیش کیے جن کے ذریعے خواتین کے لیے مساوی حقوق، نسلی تعلقات اور معاشی عدم مساوات جیسے سماجی مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ ‘آل ان دی فیملی، ون ڈے ایٹ اے ٹائم، دی جیفرسنز اور ایسے دوسرے پروگراموں کی بدولت امریکیوں نے ہنسنے کے ساتھ ساتھ اپنی دنیا کو دیانت دارانہ اور ہمدردانہ انداز میں دیکھنا شروع کیا۔

LL Cool J holding microphone and performing (© AP Images)
(© AP Images)

امریکی ہپ ہاپ فنکار ایل ایل کول جے نے نیویارک کے قصبے کوئینز میں جیمز ٹوڈ سمتھ کے نام سے پرورش پائی۔ ایل ایل کول جے (لیڈیز لو کول جیمز کا مخفف) کے طور پر انہوں نے 16 سال کی عمر میں اپنا مشہور البم پیش کیا۔ 1985 میں ان کے پہلے البم ‘ریڈیو’ کی بدولت ہپ ہاپ کی صنف نے موسیقی کے میدان میں جگہ بنائی اور ان کا شمار پہلے کامیاب سولو ریپ گلوکاروں میں ہوتا ہے۔ 1987 کے ان کے گانے، ‘آئی نیڈ لو’ کا شمار عالمی مارکیٹ میں کامیاب ہونے والے پہلے ہپ ہاپ گانوں میں ہوتے ہے۔

کینیڈی سنٹر کی صدر ڈیبورا ایف رٹر نے کہا، "اس سال کے تمام اعزاز یافتگان مشہور ہیں اور مکمل بے ساختگی اور بے باکانہ ذہانت کی بنا پر دنیا ان سے محبت کرتی ہے۔ یہ لوگ اعلیٰ ترین درجے کے فنکار ہیں اور صدر کینیڈی کی یادگار کے طور پر کینیڈی سنٹر  کے لیے انسانی جذبے کے حوالے سے ان  کے بے پایاں کردار پر روشنی ڈالنا باعث فخر ہے۔”

نیویارک، ہالی وڈ اور دنیا بھر میں فن کے مراکز سے تعلق رکھنے والوں نے 3 دسمبر کو کینیڈی سنٹر اوپیرا ہاؤس میں 2017 کے ان اعزاز یافتگان کو اپنے فن کے مظاہروں کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا۔