امریکہ کا ہدف وہ خفیہ گھر ہیں جن میں انسانی سمگلر لوگوں کو چھپاتے ہیں

امریکہ کا کسٹمز اور سرحدی تحفظ کا محکمہ (سی بی پی) انسانی سمگلروں کے خلاف کاروائیاں کرتے ہوئے اپنی کوششیں اُن  خفیہ گھروں پر مرکوز کر رہا ہے جن میں  تارکین وطن کو چھپایا جاتا ہے۔

یہ خفیہ گھر وہ گھر ہوتے ہیں جن میں انسانوں کے سمگلر تارکین وطن کو اُس وقت تک ٹھہرائے رکھتے ہِیں جب تک اُن کو ملک کے اندر یا سرحدوں سے باہر دوسرے ملک میں منتقل نہیں کر دیا جاتا۔

30 اکتوبر کو ایک خفیہ گھر کو بند کرنے کے بعد سی بی پی کے لاریڈو، ٹیکساس سیکٹر کے گشتی دستے کے سربراہ، میتھیو ہوڈاک نے کہا، "خفیہ گھروں سے جڑی مجرمانہ سرگرمیاں پڑوسیوں کے لیے خطرات اور صحت کے لیے نقصان دہ ماحول پیدا کرتی ہیں۔”

ہوڈاک نے بتایا، "اکٹھے مل کر کام کرتے ہوئے، ہم بہتر طور پر قانون نافذ کرسکتے ہیں اور اپنی کمیونٹی اور ملک بھر کی کمیونٹیوں کو کووڈ-19 اور دیگر سنگین خطرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔”

تارکین وطن کو کسی نئے مقام پر منتقل کرنے سے قبل، انسانی سمگلر تارکین وطن کو کئی دنوں تک خفیہ گھروں میں چھپائے رکھتے ہیں۔ صفائی کی مناسب سہولتوں کے بغیر درجنوں تارکین وطن کو چھوٹَے چھوٹے گھروں میں رکھا جاتا ہے جس سے بالخصوص کووڈ-19 کی عالمی وبا کے دوران، خطرناک رہائشی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔

نگران گشتی افسر کینتھ کرُوپا نے بتایا، "سمگلر اپنے مال، یعنی انسانوں کو متعفن اور گندے ماحول میں رکھنے کے لیے زبردستی اضافی پیسے وصول کرتے ہیں۔”

کرُوپا نے ہزاروں میل کے سفر سے تھکے ماندے درجنوں ایسے تارکین کے حالات بیان کیے جنہیں چھوٹے چھوٹے کمروں میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ وہاں نہ تو پانی کے نلکے ہوتے ہیں اور نہ ہی بجلی یا کھانے پینے کے لیے کچھ موجود ہوتا ہے۔ سمگلر تارکین وطن کا باہر کی دنیا سے رابطہ منقطع کر کے خفیہ گھروں میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

 باورچی خانے کے کاؤنٹر پر پڑے ہوئے گندے برتن اور کھانے کی چیزیں (U.S. Customs and Border Protection)
22 ستمبر کو سان ایلیزاریو، ٹیکساس میں ایک خفیہ گھر میں پھیلے ہوئے گند کا ایک منظر۔ (U.S. Customs and Border Protection)

اکتوبر 2019 اور اکتوبر 2020 تک، سی بی پی نے 397 خفیہ گھروں کا پتہ چلایا اور اُن کو بند کیا۔ یہ گھر ٹیکساس سے کیلی فورنیا تک امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کے ساتھ  واقع یوما، ایریزونا، اور لاریڈو، ٹیکساس جیسے شہروں میں واقع تھے۔

سی بی پی کو صرف لاریڈو میں 100 گھر جبکہ ایڈنبرگ، ٹیکساس میں سی بی پی کو 141 ایسے گھر ملے۔

میکسیکو کے طول و عرض اور امریکہ کے جنوبی حصے میں کووڈ-19 کے پھیلاؤ سے یہ خفیہ گھر بیماریوں کے گڑھ بن چکے ہیں۔ تارکین وطن کے گروپوں میں اس وبا کے پھیلنے سے یہ گھر جان لیوا مقامات بن جاتے ہیں۔

امریکہ بنیادی مسائل کا حل نکال کر تارکین وطن کے خفیہ گھروں میں پہنچنے کے واقعات کی روک تھام کی کوشش کرتا ہے۔ جون میں وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے شمالی مثلث کے ممالک کے لیے 252 ملین ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا، "اس امداد سے امریکہ کی قومی سلامتی کو فروغ ملے گا اور یہ امداد صدر کے امریکہ میں غیرقانونی امیگریشن کو کم کرنے کے مقصد کو آگے بڑہائے گی۔”