امریکہ کی افریقی کمان کا اپنے شراکت داروں کی سلامتی کے خطرات اور کووڈ-19 سے نمٹنے میں تعاون

امریکہ کی افریقی کمان (ایفری کام) افریقی ممالک کو درپیش سلامتی کے خطرات کا مقابلہ کرنے اور کووڈ-19 وبائی بیماری سمیت، انسانی بحرانوں کا سامنا کرنے میں مدد کر رہی ہے۔

دنیا کی 25 تیز ترین رفتار سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے 13 افریقہ میں واقع ہیں۔ مگر افریقی ممالک کو سلامتی اور شدت پسند گروہوں، آب و ہوا کی تبدیلی، خوراک کی قلت اور بیماریوں کے خطرات جیسے چیلنج بھی درپیش ہیں۔ اِن چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایفری کام، افریقی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

2007ء میں قائم کی جانے والی ایفری کام کا مشن افریقہ میں تصادموں کے محرکات سے نمٹنے اور انتہا پسندی کی نفی کرنے میں مدد کرنے کے لیے امریکی حکومت کی دور رس کوششوں کے دفاعی شعبے میں رابطہ کاری کرنا ہے۔ ایفری کام کا شمار امریکی محکمہ دفاع  کی دنیا بھر میں اُن 11 جنگی کمانوں میں ہوتا ہے جو امن اور جنگ کے دوران امریکی فوجی دستوں میں ربط پیدا کرتی ہیں۔

ایفری کام کے فوجی ارکان دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے، نقل و حمل کی آزادی کو یقینی بنانے، اور بین الاقوامی انسانی امدادی سامان اور تباہی سے متعلق ردعمل کی کوششوں میں مدد کرنے کے لیے شراکت دار مالک کی حکومت کی افواج کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

ایفری کام کے کمانڈر، امریکی فوج کے جنرل اسٹیفن ٹاؤنسنڈ نے اکتوبر 2020 میں کہا، “مل کر کام کرنا نقصان پہنچانے والے اُن عناصر اور پرتشدد انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے بہت ضروری ہے جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کے ساتھ ساتھ امریکی سرزمین اور ہمارے اتحادیوں کے ملکوں کے لیے بھی خطرہ بنتے ہیں۔”

خشکی اور سمندر میں مشقیں کرنا

 وردی والا ایک آدمی وردیوں والے دوسرے آدمیوں کو غیر مہلک ہتھیاروں کے استعمال کا مظاہر کر کے دکھا رہا ہے (U.S. Navy/Lieutenant Carl P. Zeilman)
امریکی بحریہ کا ایک ریزروسٹ غیر مہلک ہتھیاروں کی تربیت کے دوران ماریطانیہ اور الجزائر کی بحری افواج کے جوانوں کی مدد کر رہا ہے۔ یہ تربیت مئی 2017 میں کارٹا جینا، سپین میں ہونے والی فینکس ایکسپریس نامی مشقوں کا حصہ تھی۔ (U.S. Navy/Lieutenant Carl P. Zeilman)

افریقی ممالک کو ساحل اور مشرقی افریقہ کے خطوں میں القاعدہ اور داعش سے وابستہ دہشت گرد گروہوں سمیت متعدد دہشت گرد گروہوں کی جانب سے خطرات کا سامنا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے تعاون سے، امریکی افواج اپنے افریقی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اِن اور دیگر خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے زمین اور سمندروں میں ٹریننگ کرتے ہیں۔

اپریل میں امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے ٹاؤنسینڈ نے کہا کہ افریقہ میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے محض فوجی حل کی بجائے پوری حکومت کے کام کرنے کی سوچ رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا، “امریکہ کی افریقی کمان [امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے (یو ایس ایڈ)] جیسے امریکی اداروں اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے تاکہ سکیورٹی کو بہتر بنانے اور مجموعی طور پر مقامی صلاحیتیں بڑہانے میں مدد کی جا سکے۔ ہم پہلے اپنے افریقی شراکت داروں کے ذریعے کام کرتے ہیں اور دوسرے نمبر پر ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔”

17 سے لے کر 28 مئی تک، ایفری کام نے بحیرہ روم اور شمالی افریقہ کے علاقائی پانیوں میں سلامتی اور سکیورٹی کو فروغ دینے کے لیے امریکی دستوں اور 13 شراکت دار ممالک کے دستوں کی فینکس ایکسپریس نامی مشقوں میں قیادت کی۔ تیونس ان سالانہ سمندری مشقوں کے سولہویں دور کی میزبانی کرے گا جن سے شراکت دار ممالک کو غیرقانونی ہجرت اور انسانوں کی سمگلنگ کی روک تھام میں مدد مل رہی ہے۔ ایفری کام کی دیگر بحری مشقوں میں خلیج گِنی میں اوبنگیم ایکسپریس اور مشرقی افریقہ کے ساحل پر کٹلاس ایکسپریس مشقیں شامل ہیں۔

فینکس ایکسپریس کے ڈائریکٹر، امریکی بحریہ کے کیپٹن ہیری نائٹ نے کہا، “ہماری سمندری مشقیں ہمیں ایک دوسرے سے سیکھنے اور مل کر کام کرکے اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اپنی صلاحیتیں بڑھانے کے قابل بناتی ہیں۔”

7 سے 18 جون تک، ایفری کام مراکش، تیونس اور سینی گال میں افریقن لائن کے نام سے مشقیں کرے گی۔ یورپ اور افریقہ کے 20 سے زائد ممالک کے ساتھ کی جانے والی افریقن لائن مشقیں، ایفری کام کی بنیادی مشقیں ہیں۔ اِن کا مقصد باہمی تعامل کو بڑہانا، استحکام کو فروغ دینا اور شمالی افریقہ اور جنوبی یورپ میں نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔

 مشقوں کے دوران، بندوقوں والے فوجیوں کی لائن میں سب سے آگے والا فوجی ہوا میں ہاتھ بلند کرکے اشارہ کر رہا ہے (U.S. Army/Private First Class Clara Soria-Hernandez)
فلنٹ لاک مشقوں کے دوران، 19 فروری 2020 کو اتر، ماریطانیہ میں رہائشی علاقوں میں لڑائی کی تربیت میں حصہ لینے والے ماریطانیہ کے فوجی۔ (U.S. Army/Private First Class Clara Soria-Hernandez)

امریکہ اور افریقی ممالک فلنٹ لاک مشقوں کے ذریعے دہشت گرد گروہوں کے خلاف دفاع کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ یہ مشقیں ایفری کام کے سپیشل آپریشن کے شعبے کے تحت کی جاتی ہیں۔

فلنٹ لاک کا آغاز 2005ء میں کیا گیا تھا۔ ان کے ذریعے مغربی افریقی ممالک کی اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے اور سکیورٹی فراہم کرنے میں مدد کی جاتی ہے۔ ایفری کام کے انسداد دہشت گردی کے تعاون سے طویل عرصے سے چلی آ رہی امریکی وابستگی اور یو ایس ایڈ کے اُن پروگراموں میں مدد ملتی ہے جن کا مقصد افریقہ میں اچھی حکمرانی اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔

کووڈ-19 وبائی بیماری کے خلاف جنگ

 ہاتھ اٹھائے وردی والا ایک آدمی طیارے پر سامان لادنے میں مدد کر رہا ہے (U.S. Air Force/Senior Airman Brandon Esau)
اپریل 2020 میں ریاست ڈیلا ویئر میں واقع امریکی فضائیہ کے ڈوور ایئربیس پرطیارے پر گھانا اور امریکہ کی افریقی کمان کی ذمہ داری میں آنے والے ممالک کے لیے کووڈ-19 کے ٹیسٹوں کی کٹیں اور دیگر طبی سامان لادا جا رہا ہے۔ (U.S. Air Force/Senior Airman Brandon Esau)

اپنے شراکت داروں کی کووڈ-19 وبائی مرض سے نمٹنے میں مدد کرنے کے لیے ایفری کام نے ایتھوپیا اور گھانا کو لیبارٹری کا سامان، گنی کو ٹیسٹ کرنے والے آلات، مراکش کے لیے ذاتی حفاظت کے آلات، اور گھانا، ماریطانیہ، سینی گال، جبوتی اور یوگنڈا کو فیلڈ ہسپتال اور ایمبولینسیں بھجوائیں۔

اکتوبر کے آخر میں جب خطے میں کووڈ-19 کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا تو ایفری کام نے جنوبی افریقہ کے شمال مغربی صوبے میں 1.4 ملین ڈالر کی لاگت سے 40 بستروں کا ایک ہسپتال قائم کیا۔ ابھی حال ہی میں، ٹاؤنسینڈ اور جبوتی میں امریکی سفیر، جوناتھن پریٹ نے جبوتی کی وزارت صحت کو ایک فیلڈ ہسپتال کا عطیہ دینے کا اعلان کیا۔ یہ عطیہ کووڈ-19 کی 6.2 ملین ڈالر سے زائد اُس امداد کا حصہ ہے جو اس وبائی مرض کے آغاز کے بعد سے امریکی حکومت جبوتی کو دے چکی ہے۔

امدادی سامان میں مدد

 بائیں تصویر: خوراک کی تقسیم کا منتظر لوگوں کا ایک ہجوم (U.S. Air Force/Technical Sergeant Chris Hibben) دائیں تصویر: سیلاب میں گھرے تباہ شدہ مکان (© Adrien Barbier/AFP/Getty Images)
جب 2019ء میں موزمبیق میں استوائی طوفان، ایڈائی آیا تو امریکہ کی افریقی کمان نے امدادی سامان کی تقسیم کے لیے انتظامی امور میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت بھی فراہم کی۔ (بائیں: U.S. Air Force/Technical Sergeant Chris Hibben دائیں: Adrien Barbier/AFP/Getty Images )

ایفری کام اُن افریقیوں تک امداد پہنچانے میں مدد کرنے کے لیے اپنی فوجی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر امریکہ کے سب سے بڑے امدادی اداری یو ایس ایڈ کی مدد بھی کرتی ہے جنہیں امداد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

مارچ 2019ء میں ایڈائی نامی استوائی طوفان نے جنوبی افریقہ کو متاثر کیا۔ ایفری کام نے سامان لے جانے والا ایک سی-130 طیارہ اور فوری طور پر امداد پہنچانے والی ایک ٹیم تعینات کی تاکہ دور دراز علاقوں تک خوراک، پناہ گاہوں کی کٹوں اور گاڑیوں سمیت امدادی سامان تیزی سے پہنچایا جا سکے۔