امریکہ کے مرکزی بنک کے نئے سربراہ جیروم پاول سے ملیے

جیروم پاول۔ (© T.J. Kirkpatrick/Bloomberg/Getty Images)
امریکہ کے مرکزی بنک کے نئے سربراہ، فیڈرل ریزرو بورڈ کے گورنر جیروم پاول (© T.J. Kirkpatrick/Bloomberg/Getty Images)

جیروم "جے" پاول فیڈرل ریزرو بنک سسٹم [بنک کے وفاقی نظام] کی عنان اقتدار سنبھالنے جا رہے ہیں۔ امریکہ میں اس ادارے کے بورڈ کے سربراہ کے عہدے کو عموماً دوسرا طاقتور ترین عہدہ کہا جاتا ہے کیونکہ بورڈ کے سود کی شرحوں اور ترسیلِ زر کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات دنیا کی سب سے بڑی معیشت کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے نامزد کردہ امیدوار کی توثیق کے حق میں 85 جب کہ اُن کے خلاف 13 ووٹ ڈالے گئے۔ پاول 3 فروری کو موجودہ سربراہ جینیٹ یلین کی جگہ لیں گے جن کے عہدے کی چار سالہ مدت اُس روز ختم ہو رہی ہے۔ پیشے کے لحاظ سے وکیل اور سرمایہ کاری کے سابقہ بنکر، پاول پہلے ہی سے فیڈرل ریزرو یعنی امریکہ کے مرکزی بنک کے گورنر ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاول "ایک ایسے زیرک نگران" ثابت ہوں گے جو امریکی معیشت کی ترقی کرنے میں مدد کریں گے۔ 2 نومبر کو وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں پاول کے ساتھ کھڑے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، "وہ مضبوط ہیں، وہ پُرعزم ہیں، وہ ذہین ہیں۔"

حال ہی میں پاول نے جینیٹ یلین کے ساتھ مل کر تاریخی اعتبار سے سود کی کم شرحوں کو بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا تاکہ امریکی معیشت کو مہمیز دی جا سکے۔

پرنسٹن یونیورسٹی اور جارج ٹاؤن لا سکول کے گریجوایٹ پاول نے کہا کہ فیڈرل ریزرو کے مستحکم قیمتیں اور زیادہ سے زیادہ روزگار کے مقاصد کے حصول کے لیے "میں ہر وہ کام کروں گا جو میرے بس میں ہوگا۔"

فیڈ کیا ہے؟

1913 میں کانگریس نے امریکی کرنسی اور مالیاتی نظام کو زیادہ مستحکم بنانے کی خاطر فیڈرل ریزرو قائم کیا۔ فیڈ کے نام سے مشہور، اس کی قیادت سات گورنر کرتے ہیں جن کی صدر 14 سال کے لیے تعیناتی کرتا ہے اور سینیٹ توثیق کرتی ہے۔

اِن ساتوں میں سے ایک فیڈ کا سربراہ ہوتا/ہوتی ہے اور یہ سربراہ مکمل اتفاقِ راہ سے فیڈ کی قیادت کرتا/کرتی ہے۔

ستونوں والی ایک بڑی عمارت۔ (© Samuel Corum/Anadolu Agency/Getty Images)
واشنگٹن میں فیڈرل ریزرو کی عمارت کا ایک منظر۔ (© Samuel Corum/Anadolu Agency/Getty Images)

فیڈ کی اوپن مارکیٹ کمیٹی [کھلی منڈی کی کمیٹی]، ووٹنگ کے ذریعے سود کی شرحیں طے کرتی ہے۔ یہ کمیٹی تمام گورنروں اور پانچ علاقائی صدور پر مشتمل ہوتی ہے۔ تاہم سربراہ کے ووٹ کی حیثیت مجموعی 12 ووٹوں میں سے محض ایک ووٹ کی ہوتی ہے۔

فیڈ آزادانہ طور پر کام کرتا ہے۔ نہ تو وائٹ ہاؤس اور نہ ہی کانگریس اس کی پالیسیوں اور فیصلوں کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ صدر اس کے سربراہ کو نہیں ہٹا سکتا۔

فیڈرل ریزرو حکومتی اور نجی دونوں خصوصیات کا حامل ایک آزاد سرکاری ادارہ ہے۔

فیڈ، بنکوں کو بھی ضابطوں کا پابند بناتا ہے۔ پاول ایک ایسے وقت میں اپنا عہدہ سنبھالیں گے جب گزشتہ 16 برسوں کے مقابلے میں بے روزگاری کی شرح کم ترین سطح پر ہے اور بازارِ حصص تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

2008 کے عالمی کسادبازاری کے مالی بحران کے دوران فیڈ نے چار کھرب ڈالر کے سرکاری بانڈ اور جائیداد کے غیرمنافع بخش قرضوں کی ضمانتیں خریدیں، شرح سود کو گھٹا کر لگ بھگ صفر کیا اور مالی منڈیوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی خاطر دیگر اقدامات اٹھائے۔

گورنروں کی فیصلہ سازی کے عمل کو آسان بنانے کی خاطر اس کا 20,000 افراد پر مشتمل عملہ ملک بھر کی منڈیوں کے حالات جاننے کے لیے ضخیم مقدار میں اقتصادی اعدادوشمار اکٹھا کرتا ہے۔

مرکزی بنک کی 14ویں سربراہ، ییلن گورنر کی حیثیت سے جلدی دستبردار ہو رہی ہیں۔ وہ فیڈ کی 15ویں اور پہلی خاتون گورنر ہیں۔  پہلی مرتبہ سابق صدر باراک اوباما نے، پاول کو گورنر مقرر کیا تھا۔ بحیثیت گورنر اُن کے موجودہ عہدے کی مدت 2028ء  تک ہے۔

سائیکل پر کام پر جانا

پاول ایک وکیل کے بیٹے ہیں اور وہ  واشنگٹن میں پلے بڑھے ہیں۔ انہوں نے سینیٹ میں بحیثیت معاون کام کیا، قانون کی پریکٹس کی، اور پھر اپنا پیشہ تبدیل کر کے بنکنگ کے سرمایہ کاری کے شعبے میں چلے گئے۔

صدر ٹرمپ نے پاول کے نجی شعبے کے تجربے کی یہ کہتے ہوئے تعریف کی کہ وہ "ہماری حکومت میں حقیقی دنیا کا نقطہِ نظر لے کر آئیں گے۔"

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاول ہر روز آٹھ میل سائیکل چلا کر کام پر آتے ہیں۔

اس مضمون کو ایک مختف شکل میں 2 نومبر 2017 کو شائع کیا جا چکا ہے۔