ہریالی بھرا راستہ جس کے کناروں پر پتھروں والی دیواریں ہیں (© Erlantz Perez Rodriguez/Alamy)
پیرو میں کسکو کے شاہی شہر کے کپیک نیان سڑک کے اِس حصے کی خاص بات پتھروں کا کیا جانے والا کام ہے۔ (© Erlantz Perez Rodriguez/Alamy)

کپیک نیان یا اینڈین کے سڑکوں کے نظام کو انکا سلطنت کی سیاسی اور اقتصادی قوت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل تھی اور یہ مواصلات، تجارت اور دفاع کے نیٹ ورک کے طور پر کام کرتا تھا۔

یہ نظام ہسپانوی دور سے پہلے کی کمیونٹیوں نے کئی صدیوں میں تعمیر کیا اور پہاڑوں، استوائی نشیبی علاقوں، دریاؤں اور صحراؤں پر پھیلا ہوا سڑکوں کا یہ نظام چھ ممالک (پیرو، بولیویا، ایکویڈور، چلی، ارجنٹینا اور کولمبیا) سے ہو کر گزرتا تھا۔ اس کی لمبائی 30,000 کلو میٹر تھی۔ سڑک کے اس نظام کو خطے کی آبائی اقوام اپنی میراث کے ایک حصے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

 کپیک نیان سڑک کا سائن بورڈ اور پس منظر میں دکھائی دیتے پہاڑ (@ James Brunker/Alamy)
پیرو کے صوبے کیناس میں کسکو کے قریب واقع انکا کے آخری معلق پل کے مقام پر کپیک نیان سڑک کے پراجیکٹ کا معلوماتی سائن بورڈ دکھائی دے رہا ہے۔ (@ James Brunker/Alamy)

واشنگٹن میں قائم سمتھسونین انسٹی ٹیوشن کے امریکی (براعظموں کے) انڈینوں کے قومی عجائب گھر نے سڑکوں کے اس نیٹ ورک کی تعمیر اور دیرپا افادیت کے بارے میں ایک نمائش کا اہتمام کیا ہے۔ اس کے علاہ یونیسکو نے کپیک نیان کو ثقافتی ورثے کی اپنی عالمی فہرست میں بھی شامل کر لیا ہے۔

بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں کپیک نیان کے کچھ علاقوں کو نقصان پہنچا ہے۔  اسی لیے پیرو، بولیویا اور ایکواڈور میں امریکی سفارت خانوں نے ثقافتی تحفظ کے لیے امریکی سفیروں کے فنڈ کے ذریعے امدادی رقومات حاصل کیں تاکہ آنے والی نسلیں ان سے لطف اندوز ہو سکیں۔ (ثقافتی تحفظ کے لیے سفیروں کے فنڈ کے ذریعے امریکی محکمہ خارجہ نے 2001 سے لے کر اب تک 133 ممالک میں اسی طرح کے 1،000 پراجیکٹوں میں مالی مدد کی ہے۔)

ذیل میں اُن  پراجیکٹوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے جن سے کپیک نیان کے ساتھ واقع مقامات کی بحالی میں مدد ملے گی:-

پیرو

 حفاظتی دستانے پہنے ایک آدمی کپڑے پر کام کر رہا ہے (© Samuel Humberto Espinoza Lozano Archaeological Museum)
ہوئاتار میں عجائب گھر کا ایک کارکن کپڑے کی بنی چیز کو محفوظ بنا رہا ہے۔ (© Samuel Humberto Espinoza Lozano Archaeological Museum)

انکا کے سڑک کے نیٹ ورک نے ایک وسیع خطے میں فروغ پذیر تجارت کا آغاز کیا۔ نوادرات کو محفوظ رکھنے والے ماہرین کو امید ہے کہ افادیت اور فنی اہمیت کی حامل اُن اشیا کو محفوظ بنایا جا سکے گا جن کی انکا سلطنت کے عروج کے وقت اس راستے کے ساتھ ساتھ تجارت ہوا کرتی تھی۔

2014 میں 82,400 ڈالر مالیت کا محفوظگی اور بحالی کا ایک پراجیکٹ ہوانکا ویلیکا کے اینڈین علاقے ہوئاتار میں واقع “میوزیو آرکولوجیکو سموئیل ہمبرٹو ایسپی نوزا لوزانو” (ہسپانوی زبان میں عجائب گھر کا نام) میں شروع کیا گیا تاکہ سینکڑوں نوادرات کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اِن نوادارات میں کپڑے کی مصنوعات، دھاتی اشیا اور پروں اور دیگر چیزوں سے بنائی گئی اشیا شامل ہیں۔

اس پراجیکٹ کے تحت نمائش کے ہال میں زیادہ گنجائش پیدا کی گئی تاکہ اس تک زیادہ لوگوں کو رسائی حاصل ہو سکے۔ نیز اس پراجیکٹ کے ذریعے نوادرات کو درست طریقے سے نصب کرنے اور انہیں مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنے کے لیے نئے آلات بھی فراہم کیے گئے۔

مقامی پیشہ ور افراد نے محفوظگی کا کام کیا اور دلچسپی رکھنے والے آبائی افراد نے نمائش میں مدد کرنے کے لیے عبارت لکھی۔ کپڑے کی تکنیکوں کے بارے میں عجائب گھر کی نمائش میں مقامی افراد کی آرٹس اور دستکاری کی اشیا بنانے میں عجائب گھر کی تصاویر اور علامات کو استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

2018ء کے ایک پراجیکٹ کے تحت ہنونوکو پمپا کے آثار قدیمہ میں شامل انکا عبادت گاہ کو محفوظ بنانے میں مدد کی گئی۔ اس مقام کا شمار انکا سلطنت کے انتہائی اہم انتظامی مراکز میں ہوتا تھا۔ اس میں 1460ء اور 1539ء کے درمیان 4,000 ڈہانچے شامل ہوا کرتے تھے۔

 ایک قدیم عبادت گاہ کے کھنڈرات (© Valeriano Chaccara Espinoza/Qhapaq Ñan-National Headquarters)
ہنونوکو پمپا کے مقام پر عبادت گاہ کا محفوظگی کے پراجیکٹ کے شروع ہونے سے پہلے کا ایک منظر۔ (© Valeriano Chaccara Espinoza/Qhapaq Ñan-National Headquarters)

ایک لاکھ ڈالر کی مالیت کے اس پراجیکٹ سے عبادت گاہ کی دیواروں پر سے نمکیات اور غیرقانونی طور پر بنائی گئی بے کار تصویروں کو صاف کیا گیا، اور اصلی پتھروں کو استعمال کرکے عبادت گاہ کی دیواروں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ پیرو کی ثقافت کی وزارت کے ماہرین یہ کام کر رہے ہیں اور مشقت کا کام کرنے کے لیے مقامی مزدوروں سے اجرت پر کام کروایا جا رہا ہے۔

بولیویا

ستمبر 2020 میں ثقافتی تحفظ کے لیے سفیروں کے فنڈ کی طرف سے 116,500 ڈالر کی امداد سے لاپاز میں ڈیساگواڈیرو- ویآچا کے علاقے میں نادر اشیا کی فہرست تیار کرنے اور انہیں محفوظ بنانے، تعلیمی اور تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کی خاطر کمیونٹی کے چھ عجائب گھروں کی مدد کی گئی۔ اِن سب عجائب گھر کا تعلق کپیک نیان سے ہے۔

 راستے پر چلتی ہوئی ایک عورت (© Stefan Ziemendorff/Shutterstock)
ایک آبائی ایمارا خاتون بولیویا میں اسلا ڈیل سول پر واقع انکا راہداری پر چل رہی ہے۔ (© Stefan Ziemendorff/Shutterstock)

اس امداد سے عجائب گھر کے مقامی عملے کو ثقافتی اہمیت کی حامل اشیا کی دیکھ بھال کرنے کی تربیت دینے کے لیے ماہر تعمیرات، آثارقدیمہ کے ماہرین اور عجائب گھروں کے ڈیزائنوں کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس پراجیکٹ کے ذریعے اِن مقامات کی طویل مدتی سیاحت کو فروغ  ملے گا اور مقامی ماہرین تعلیم کو کمیونٹیوں کے لوگوں کو اُن کے ثقافتی ورثے کی قدروقیمت کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں۔

ایکویڈور

آثارقدیمہ کا انگاپیرکا کمپلیکس ایکویڈور میں انکا کا سب سے بڑا مقام ہے۔ برسوں میں اس کمپلیکس کو شدید ماحولیاتی نقصان پہنچا ہے۔ 2020ء میں ثقافتی تحفظ کے لیے سفیروں کے فنڈ نے ایکویڈور کے ثقافتی ورثے کے قومی انسٹی ٹیوٹ کو 198,000 ڈالر کی امداد دی۔ اس امداد کا مقصد اس کمپلیکس میں سے پانی کی نکاسی کے نظام کو ٹھیک کرنے اور اس کے بیضوی شکل کے اُس ڈہانچے کو محفوظ بنانے میں مدد کرنا تھا جو کسی زمانے میں تدفین کی جگہوں اور ڈھلوانوں پر واقع زرعی کھیتوں میں گھرا ایک اہم مذہبی مقام ہوا کرتا تھا۔

 پتھر سے بنا ایک قدیم ڈہانچہ جس کے اردگرد دیوار ہے (© Marco Velecela/Ingapirca Archeological Complex)
انگاپیرکا کچوا زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب “انکا دیوار” ہے۔ انگاپیرکا اپنی بیضوی شکل اور انکا معماری کی وجہ سے مشہور ہے۔ (© Marco Velecela/Ingapirca Archeological Complex)

2019ء میں ایکویڈور اور بیرونی ممالک سے انگاپیرکا کو دیکھنے 130,000 افراد آئے۔ امید ہے کہ اس جگہ کی بحالی سے سیاحت اور مقامی معیشت کو مزید فروغ ملے گا۔

جب امریکی سفیر، ایکویڈور کے وزیر ثقافت اور ثقافتی ترکے کے قومی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے اس پراجیکٹ کا اعلان کیا تو ایک آبائی یو ٹیوبر کو یہ منظر اچھا لگا اور اُس نے انگاپیرکا  کے پراجیکٹ کے بارے میں ایک ویڈیو ریکارڈ کی جسے ایک لاکھ سے زائد فالورز نے شیئر کیا۔

ایکویڈور کے دارالحکومت کوئیٹو میں امریکی سفارت خانے کی ایک ترجمان کے مطابق 2021ء میں ثقافتی تحفظ کے لیے سفیروں کے فنڈ کے لیے دی جانے والی امداد کی درخواستوں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا، “ایکویڈور کے شہریوں کو احساس ہوا ہے کہ امریکہ ایکویڈور کے منفرد ثقافتی ورثے کے سلسلے میں مدد کرنے میں امریکہ سنجیدہ ہے۔”