امریکہ کی بڑی نقل مکانی کیا ہے؟

سیاہ فام امریکیوں کی بے مثال نقل مکانی کے دور کے پچاس سال بعد بھی اُن کے سفروں کی صدائے بازگشت آج بھی امریکی ثقافت اور آبادیوں کی شکل میں سنائی دے رہی ہے۔

بڑی نقل مکانی کا دور1916 سے لے کر 1970 تک پھیلا ہوا ہے۔ 06 لاکھ افریقی نژاد امریکیوں نے جنوب سے شمال اور مغرب کی طرف نقل مکانی کی۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی کی مورخ ایلیسن ہوبز کے مطابق اس نے امریکہ کے اندر آبادی کی نقل و حرکت کے حوالے سے سونے کی تلاش اور خشک سالی کی وجہ سے کی جانے والی نقل مکانیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ وہ بتاتی ہیں اس نقل مکانی سے پہلے 90 فیصد سیاہ فام امریکی جنوب میں رہتے تھے اور اس کے بعد جنوب میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 53 فیصد رہ گئی۔

 ٹرالی کار کے سامنے کھڑے لوگ (Library of Congress/Peace Photo)
بیسویں صدی کے وسط میں، فلاڈیلفیا ٹرالی کار سسٹم میں افریقی نژاد امریکیوں کو ہنر مند عہدوں پر بھرتی کیا گیا۔ اس تصویر میں 1940 کے لگ بھگ کنڈکٹر ٹرالی کار نمبر 52 کے سامنے کھڑے ہیں۔ (Library of Congress/Peace Photo)

سیاہ فاموں کے اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ نے شمال اور مغرب میں بہتر زندگی کی ترغیب دی کیونکہ  شمالی کارخانوں میں مزدوروں کی کمی تھی اور مغرب میں نئے مواقع دستیاب تھے۔

سیاہ فام خاندانوں کو بہتر اجرتوں، تعلیمی مواقع اور جنوب کی علیحدگی کے طریقوں سے دور رہ کر زیادہ ذاتی آزادی کے حصول  کی کشش نے اپنی طرف متوجہ کیا۔

 کرسی پر بیٹھے رچرڈ رائٹ لکھ رہے ہیں (© Hulton Archive/Getty Images)
غلام بنائے گئے بزرگوں کی اولاد، رچرڈ رائٹ ریاست مس سپی میں پلے بڑھے بڑھے۔ وہ جوانی میں پوسٹ آفس میں کلرک کے طور پر کام کرنے کے لیے شکاگو چلے گئے۔ انہوں نے “نیٹِو سن” اور “بلیک بوائے” کے نام سے مشہور زمانہ ناول لکھے۔ (© Hulton Archive/Getty Images)

جیسا کہ رچرڈ رائٹ نے لکھا: ” اپنا آپ انجان جگہ پر لے جانے کے لیے جنوب چھوڑا … [تاکہ] کسی دوسرے سورج کی دھوپ کو دیکھ سکوں اور ہوسکتا ہے پھل پھول بھی سکوں۔”

دوسرے سورج کی طرح ملتے جلتے ” دا وارمتھ آف ادر سنز” [دوسرے سورجوں کی گرمی] کے عنوان سے تب کے امریکہ کے حالات بیان کرنے کے لیے ایسا بیل ولکرسن نے ایک کتاب لکھی جس میں تین ایسے عام آدمیوں  کی کہانیاں بیان کی گئیں تھیں جنہوں نے (ولکرسن کے والدین کی طرح) بڑی نقل مکانی کے دوران اپنے گھر بار چھوڑے۔

ولکرسن نقل مکانی کرنے والوں کے اقدامات کو صدر ابراہام لنکن کے دہائیوں پہلے کے اُس اعلانِ آزادی سے جوڑتی ہیں جس نے امریکہ میں غلامی کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔ ولکرسن نے سنہ 2016 میں ریڈیو شو کی میزبان کرسٹا ٹِپیٹ کوایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا، “محض اپنی قوت ارادی کے بل بوتے پر وہ آزادی کے اعلان کو اس کے لغوی معنوں میں، اپنی انفرادی زندگیوں میں اس حد تک زندہ رکھنے میں کامیاب ہوئے جتنا کہ اُن کے بس میں تھا۔”

ولکرسن کہتی ہیں کہ جنوب میں سیاہ فام لوگ بنیادی طور پر ذات پات کے نظام کے تابع تھے جس نے انہیں اپنی بھرپور صلاحیتوں کو استعمال میں لانے کا موقع نہیں دیا۔

وہ کہتی ہیں بڑی نقل مکانی نے “ذات پات کے اس نظام میں، بہت سے افراد کے حوالے سے اُن پر اُن کی پوشیدہ تخلیقیت اور ذہانت کے دروازے کھولے کیونکہ وہ ذات پات کے نظام کے لیے ناموزوں تھے۔ اس کا تعلق آزادی سے اور اِس بات سے ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے لیے لوگ کس حد تک جانے کو تیار ہیں۔”

 ڈیوک ایلنگٹن بکھرے ہوئے کاغذوں کے قریب لیٹے ہوئے ایک کاغذ پر موسیقی کے نوٹ لکھ رہے ہیں (© Bettmann/Getty Images)
اوپر تصویر میں موسیقی کے نوٹ لکھنے والے ڈیوک ایلنگٹن، واشنگٹن سے نیویارک منتقل ہوئے۔ انہوں نے نیویارک میں بیسویں صدی کے اوائل میں سیاہ فاموں کی موسیقی، آرٹس اور ادب کو فروغ دینے والی ہارلیم نشاۃ ثآنیہ میں مدد کی۔ (© Bettmann/Getty Images)

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر مارسیا چیٹلین کہتی ہیں کہ یہ یقینی طور پر آسان نہیں تھا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک نقل مکانی کرنے کی افسانوی سوچ اور نئی جگہ پہنچنے کے بعد کیے جانے والے سلوک کے درمیان ایک فرق پایا جاتا تھا۔

امتیازی سلوک نے اُن کا شمال میں بھی پیچھا کیا۔ اب جنوب سے باہر کے علاقوں نے بھی نسلی بنیادوں پر کم تنخواہ دینا اور سیاہ فام لوگوں پر مخصوص علاقوں میں رہنے کی بندشیں لگانا شروع کر دیں تھیں۔ چیٹلین نے اپنی کتاب “ساؤتھ سائڈ گرلز: گرواِنگ اپ اِن دا گریٹ مائیگریشن” میں نوجوان لڑکیوں پر مرتب ہونے والے اثرات پر نظر ڈالی ہے۔ وہ کہتی ہیں، “لڑکیاں افسردگی کی تصویر بن چکی تھیں۔ وہ امید کر رہی تھیں کہ نقل مکانی کے بعد سب کچھ بدل جائے گا جبکہ [اس کے برعکس] حقیقت یہ تھی کہ انہیں اس کے بعد بھی نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا۔”

لیکن جنوبی اور دیگر علاقوں کے درمیان خاندان کے افراد کے مابین روابط نے ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان خیالات کے تبادلے میں اضافہ کیا۔ شمالی اور مغربی علاقوں میں رہنے والوں نے ان لوگوں کو گھر پیسے بھیجنا شروع کر دیئے جو پیچھے جنوب میں رہ گئے تھے۔

 ایک عورت خرادی مشین پر کام کر رہی ہے (Library of Congress/Ann Rosener/Office of War Information)
20 سالہ اینی ٹیبور 1942 میں وسکونسن میں ایلس چامرز مینوفیکچرنگ کمپنی میں کام کر رہی ہیں۔ وہ اس پلانٹ میں خرادی مشین پر کام کرنے والی ایک ذہین کارکن تھیں۔ اس پلانٹ میں ہوائی جہازوں کے انجنوں کے پرزے بنائے جاتے تھے۔ ٹیبور کو اس فیکٹری میں کام کرنے کے لیے سرکاری طور پر تربیت دی گئی تھی۔ اس سے پہلے وہ صرف گھریلو کام کاج کرنا ہی جانتیں تھیں۔ (Library of Congress/Ann Rosener/Office of War Information)

چیٹلین کہتی ہیں کہ اس دوران جنوبی آجروں کو کارکنوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا  جس کے نتیجے میں بیسویں صدی میں کام کروانے کے لیے انہیں جیل کے مجرموں پر زیادہ انحصار کرنا پڑا۔

نقلی مکانی کا ورثہ

بڑی نقل مکانی کرنے والوں کی اولاد میں سابق خاتون اول مشیل اوباما، مصنف ٹونی موریسن، ڈرامہ نگار آگسٹ ولسن، اداکار ڈینزل واشنگٹن اور جاز موسیقار مائلز ڈیوس شامل ہیں۔

سیاہ فام لوگ اپنی موسیقی کو دیہی جنوب سے شہروں میں لے آئے جہاں انہیں زیادہ جگہیں، ریکارڈنگ سٹوڈیوز اور سیاہ فام صارفین کی مارکیٹیں میسر آئیں۔ چیٹلین کہتی ہیں، “جسے آج ہم مقبول ثقافت کہتے ہیں اس کی بہت سی جڑیں بڑی نقل مکانی سے جڑی ہوئی ہیں۔” اس ضمن میں وہ بلیوز، مذہبی گیت اور آر اینڈ بی موسیقی کا حوالہ دیتیں ہیں جو اب بھی ہپ ہاپ اور پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

بڑی نقل مکانی اپنے ساتھ ادب اور علمیت بھی لائی جن کی روشنی میں رالف ایلیسن کے “انوِزیبل مین” جیسے مشہور زمانہ ناول لکھے گئے۔

 رالف ایلیسن ہارلیم سٹریٹ میں ایک بچے کے ساتھ کھڑے ہیں (© David Attie/Getty Images)
رالف ایلیسن، جن کے دادا دادی کو غلام بنا لیا گیا تھا، 1936 میں الاباما میں موسیقی کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ وہ اپنی ٹیوشن فیس کے لیے پیسے کمانے کی خاطر نیویارک گئے جہاں انہوں نے لکھنے لکھانے کی ملازمت شروع کی جس کے بعد وہ موسیقی کی اپنی ادھوری تعلیم مکمل کرنے کے لیے واپس نہیں گئے۔ ایک سیاہ فام فرد کی معاشرے کی طرف سے تسلیم کیے جانے کی جدوجہد کے بارے میں ان کے ناول “”انوِزیبل مین” نے انہیں ایک ادبی شیر بنا دیا۔ انہوں نے مضامین، کہانیاں اور بعد از مرگ شائع ہونے والا ناول “جونٹینتھ” بھی لکھا۔ ایلیسن کی یہ تصویر 1966 میں ہارلیم میں لی گئی۔ (© David Attie/Getty Images)

شمال میں سیاہ فام امریکیوں کی اکثریتی آبادی والے علاقوں میں انہیں جنوبی ریاستوں کی طرف سے عائد کردہ پولنگ ٹیکس، خواندگی کے ٹیسٹ یا ووٹنگ میں دیگر رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ اسی وجہ سے 2009 میں باراک اوباما کے پہلے سیاہ فام امریکی صدر بننے سے بہت پہلے، بہت زیادہ سیاہ فام عہدیدار منتخب ہوئے۔

چیٹلین کا کہنا ہے کہ جنوب سے شمال/مغرب کی نقل مکانی کے اثرات کے بارے میں بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ مصنفین نے دیکھا ہے کہ “آپ جس پرت کو بھی الٹیں گے تو آپ کو کچھ  نہ کچھ نیا ہی ملے گا۔” وہ کہتی ہیں۔ “ہم سب تبدیلی کی خواہش، اپنے خاندانوں کی مدد کرنے کی خواہش اور ایک بہتر مستقبل کا تصور کرنے کی خواہش سے اپنا تعلق پیدا کر سکتے ہیں۔”