خورد بین سے ایک خلیے کو رنگدار شکل میں دکھاِیا گیا ہے۔(© Janice Haney Carr/CDC/Sickle Cell Foundation of Georgia)
ایک نئی دوا کی دریافت کے وجہ سے بائیں طرف دکھائے جانے والے درانتی کی شکل کے خلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری کا ایک نیا علاج سامنے آیا ہے۔ (© Janice Haney Carr/CDC/Sickle Cell Foundation of Georgia)

امریکی حکام نے سِکل (درانتی نما) خلیوں کی بیماری کے علاج کے لیے کیلی فورنیا کی ایک کمپنی کی تیار کردہ دوا کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ اور خون میں گڑبڑ پیدا کرنے والی زندگی کے لیے خطرناک موروثی بیماری ہے۔

امریکہ کے خوراک اور دواؤں کے ادارے (ایف ڈی اے) نے 25 نومبر کو اس بیماری کے 12 سال سے زائد عمر کے مریضوں کے لیے ‘اوکس برائٹا’ نامی اس دوا کی منظوری دی۔ ایف ڈی اے کے قائم مقام سربراہ بریٹ پی گیروئر نے اس موقع پر کہا، “آج کی منظوری سے امریکہ میں 100,000 اور دنیا بھر میں 20 ملین سے زائد ایسے افراد کی امیدوں میں مزید اضافہ ہوگا جو بے بس کر دینے والی خون کی اس بیماری کا شکار ہیں۔

سان فرانسسکو میں قائم ‘گلوبل بلڈ تھیراپیوٹکس انک’ نامی اس کمپنی کا کہنا ہے کہ اوکس برائٹا پہلی ایسی دوا ہے جو درست طور پر کام نہ کرنے والے اُن خلیوں کو نشانہ بناتی ہے جو اس بیماری کا بنیادی سبب بنتے ہیں۔

سِکل خلیوں کی بیماری کے مریضوں میں خون کے سرخ رنگ کے خلیے درانتی کی شکل اختیار کرنے لگتے ہیں جس سے خون کی گردش میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ بنیادی طور پر اس بیماری کا شکار افریقہ کے زیریں صحارا کے باسی یا ان کی نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہوتے ہیں۔

ایف ڈی اے کے ایک محقق رچرڈ پزڈور کا کہنا ہے، “اوکس برائٹا کے استعمال سے سِکل خلیوں کے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جانے اور درانتی کی شکل اختیار کرنے کے امکانات میں کافی حد تک کمی آ جائے گی۔ سِکل خلیوں کی وجہ سے خون کے سرخ خلیوں کی تباہی سے ہیموگلبن کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔”

ایف ڈی اے کا منظوری کا یہ عمل “سرعتی منظوری” کہلاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دوا مطلوبہ طبی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ تاہم اس دوا کے اضافی طبی ٹسٹ کرنے ضروری ہوتے ہیں.

جی بی ٹی کا کہنا ہے کہ سِکل خلیوں کی بیماری کے مریضوں کے علاج میں اوکس برائٹا کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔