امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادی کے بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل

 

دنیا بھر کے 26 ممالک نے امریکہ کے ساتھ مل کر بین الاقوامی مذہبی آزادی کے اتحاد کی باضابطہ تشکیل کی ہے۔

5 فروری کو وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے ایک بیان میں کہا، ” یہ اتحاد طاقتور اقوام کو متحد کرے گا اور اُن کے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بد کرداروں کو روکے گا اور مظلوم، اپنا دفاع نہ کر سکنے والوں، اور کمزوروں کی حمایت کرے گا۔”

دیگر لوگوں کے ساتھ میز کے گرد بیٹھے وزیر خارجہ پومپیو کی تصویر پر بین الاقوامی مذہبی اتحاد کے بارے میں چسپاں تحریر۔ (State Dept./Ron Przysucha)

اس اتحاد کے ممبران نے اعلان کردہ اُن اصولوں کی سربلندی کا عہد کیا ہے جو ممالک کو مذہبی آزادی کی تمام پامالیوں یا خلاف ورزیوں پر عوامی اور نجی سطح پر اعتراض اور مخالفت کرنے کا پابند بناتے ہیں۔

محکمہ خارجہ میں 5 فروری کو اتحاد کے پہلے اجلاس میں پومپیو نے کہا، "ہمارا مشن قومیتوں، سیاسی نظاموں، اور مسالک کا احاطہ کرتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دنیا میں آج ہر دس میں سے آٹھ افراد ایسی جگہوں پر رہ رہے ہیں جہاں وہ آزادانہ طور پر اپنے عقیدے پر عمل نہیں کر سکتے۔

وزیر خارجہ نے کہا، "ہم اُن دہشت گردوں اور متشدد انتہا پسندوں کی مذمت کرتے ہیں جو مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ خواہ یہ (اقلیتیں) عراق میں یزیدی ہوں، پاکستان میں ہندو ہوں، شمال مشرقی نائجیریا میں عیسائی ہوں، یا برما میں مسلمان ہوں۔”

پومپیو نے اتحاد کے قیام کا پہلا اعلان جولائی 2019 میں مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے دینی علما کی دوسری سالانہ کانفرنس میں کیا تھا۔

جلتی ہوئی موم بتیوں کی تصویر پر چسپاں کسی مذہب کو ماننے یا کسی بھی مذہب کو نہ ماننے کے حق کے بارے میں تحریر۔ (© Shutterstock)

 

پومپیو نے کہا، "مذہب یا عقیدے کی آزادی کوئی مغربی آدرش نہیں ہے بلکہ حقیقی معنوں میں یہ معاشروں کا مرکزی ستون ہے۔”

 

مندرجہ ذیل ممالک بین الاقوامی مذہبی آزادی کے اتحاد کے بانی ممالک کے طور پر کام کر رہے ہیں:-

  • البانیہ
  • آسٹریا
  • بوسنیا اور ہرسگو وینا
  • برازیل
  • بلغاریہ
  • کولمبیا
  • کروشیا
  • جمہوریہ چیک
  • ایستونیا
  • گیمبیا
  • جارجیا
  • یونان
  • ہنگری
  • اسرا ییل
  • کوسوو
  • لاتھویا
  • لیتھوینیا
  • مالٹا
  • ہالینڈ
  • پولینڈ
  • سینیگال
  • سلوواکیہ
  • سلووینیا
  • ٹوگو
  • یوکرین
  • برطانیہ
  • امریکہ