امریکہ کے وزیر انصاف، جیف سیشنز (دائیں) ایلسلویڈور کی قومی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل، ہاورڈ آگستو کوتو کاستانیدا کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔ (© AP Images)

بین الاقوامی گینگوں [گروہوں] کے تشدد کے خلاف مہم میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امریکی کاوشوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔

امریکہ کے محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے  کہ ایم ایس 13 نامی بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورک کے ممبروں سمیت، ایلسلویڈور کے سرکاری وکیلوں نے گینگ کے تقریباً 700 ممبروں پر مقدمات قائم کیے ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ انصاف، جیف سیشنز نے 28 جولائی کو اپنے ایلسلویڈور کے دورے کے دوران کہا، "اس طرح کی جراًتمندانہ اور فیصلہ کن کاروائی کے ذریعے ہی نیکی کے بدی پر غالب آنے کو یقینی بنایا جا سکے گا اور صرف اسی قسم کی کثیر المملکتی رابطہ کاری سے ہم بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں کو موثر انداز سے ناکام بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔”

سیشنز مارچ میں واشنگٹن میں ہونے والے ایک اجلاس میں، ایلسلویڈور، گوئٹے مالا اور ہنڈراس کے وزرائے انصاف سے گینگ سے متعلقہ تشدد پر بات چیت کر چکے ہیں۔

ایم ایس 13 جیسے گینگوں کے خلاف لڑائی میں وسطی امریکہ کی حکومتوں کی مدد کرنے کی خاطر امریکہ نے کئی ایک پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ اِن میں نوجوانوں کے لیے گینگ مخالف تعلیم اور کمیونٹی کی شراکت سے پولیس کے کام کی اصلاحات میں مدد کرنا شامل ہے۔

President Trump at lectern in front of large number of law enforcement officers in uniform (© AP Images)
صدر ٹرمپ ریاست نیویارک کے شہر برنٹ وڈ میں قانون نافذ کرنے والے سرکاری اہلکاروں سے خطاب کر رہے ہیں۔ (© AP Images)

صدر ٹرمپ نے 28 جولائی کو اِس بات کا عہد کیا کہ امریکہ متشدد شہری گینگوں بالخصوص ایم ایس 13 کو "مار بھگائے گا، انہیں تباہ کردے گا اور اِن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔”

صدر نے نیویارک میں قانون نافذ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے ایک گروپ کو بتایا، ” ہم ایم ایس 13 کے  قابل نفرت اور مجرمانہ گروہ اور دیگر بہت سے گینگوں کو تباہ کرنے جا رہے ہیں۔”

صدر نے نیویارک سٹی سے 64 کلومیٹر کے فاصلے پر لانگ آئی لینڈ پر واقع ریاست نیویارک کے ایک شہر برینٹ وُڈ میں یہ بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس 13 گینگ  جنوری 2016 سے لے کر اب تک، 17 افراد کو قتل کر چکا ہے۔

صدر نے کہا، "ہم مزید ایک دن کے لیے بھی اس تشدد کو قبول نہیں کر سکتے۔ ہم ایسا ہرگز نہیں کرسکتے اور ہم ایسا نہیں کریں گے۔”