امریکہ کی سِسٹک فائبروسس کے علاج کے لیے دوائی کی منظوری

خاتون سائنسدان ایک امتحانی نلی پکڑے ہوئے۔ (© Gregory Bull/AP Images)
ورٹیکس فارماسیوٹیکلز انکارپوریٹد بیماریوں کے علاج ڈھونڈنے پر اربوں ڈالر خرچ کرتی ہے۔ ایک سائنسدان خاتون 2015ء میں کمپنی کی سان ڈیئیگو تجربہ گاہ میں کام کر رہی ہے۔ (© Gregory Bull/AP Images)

امریکی اختراع کاروں نے سسٹک فائبروسس [گلٹیوں والے فائبروسس] کے علاج کے لیے ایک ایسی نئی دوا تیار کرلی ہے جس سے اس جان لیوا بیماری کے شکار مریضوں کے علاج کے متبادلات میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوگیا ہے۔

نئے علاج سے سِسٹک فائبروسس کے 90 فیصد مریضوں کے علاج میں مدد ملے گی اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں علاج کے متبادلات پہلے میسر نہیں تھے۔ یہ بات امریکہ کے خوراک اور دواؤں کے ادارے [ایف ڈی اے] نے ورٹیکس فارماسیوٹیکلز اِنکارپوریٹڈ کے ٹریکیفٹا نامی علاج کی منظوری دیتے ہوئے کہی۔

.

ورٹیکس فارمیوسیوٹیکلز بوسٹن میں قائم بائیوٹکنالوجی کی ایک کمپنی ہے۔ اس کمپنی نے ٹریکیفٹا تیار کرنے میں تین دواؤں کو آپس میں ملایا جس سے سِسٹک فائبروسس کا باعث بننے والی ناقص پروٹین کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ یہ موروثی بیماری پھیپھڑوں اور ہاضمے کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔

سِسٹک فئبروسس فاؤنڈیشن کے صدر پریسٹن ڈبلیو کیمبل III نے کہا کہ ٹریکیفٹا کی منظوری سے اس بیماری کے مریضوں کے علاج میں "ایک زبردست قسم کی کامیابی ہوئی ہے۔”

ایف ڈی اے کے سابق کمشنر نیٹ پرائسلیس نے کہا گو کہ دیگر علاج موجود ہیں مگر ٹریکیفٹا پہلا علاج ہے جو اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے نوجوان مریضوں کے لیے منظور کیا گیا ہے۔ اس سے بیماری کے دیگر مریضوں کے لیےعلاج کے اضافی متبادلات بھی میسر آئیں گے۔

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

ایف ڈی اے کے کمشنر بریٹ پی گریئور:

آج ایف ڈی اے کی منظوری کے ذریعے ہم 12 سال اور اس سے زیادہ عمر کے سِسٹک فائبروسس کے 90 فیصد مریضوں کےعلاج کے لیے ، جن میں سے بعض کے لیے پہلے کوئی علاج نہیں تھا، زبردست دوائیں تیار کرلی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم کمیونٹی کے دیگر افراد کو موثر علاج کا ایک اضافی ذریعہ بھی فراہم کر رہے ہیں۔